Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن حبيب بن صالح، عن يزيد بن شريح، عن ابي حى الموذن، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يوم عبد فيخص نفسه بدعوة دونهم فان فعل فقد خانهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ( اپنے مصلے پر قبلہ رو ) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، قال حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم لم يقعد الا مقدار ما يقول " اللهم انت السلام ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والاكرام
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن موسى بن ابي عايشة، عن مولى، لام سلمة عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول اذا صلى الصبح حين يسلم " اللهم اني اسالك علما نافعا، ورزقا طيبا، وعملا متقبلا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں سہل آداب ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، ( ایک یہ کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله»، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله»کہے ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ۔ ( دوسرے یہ کہ ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله، الحمد لله، الله أكبر» کہے، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو ، لوگوں نے عرض کیا: ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا؟ ( جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے ( اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسماعيل ابن علية، ومحمد بن فضيل، وابو يحيى التيمي وابن الاجلح عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خصلتان لا يحصيهما رجل مسلم الا دخل الجنة وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويكبر عشرا ويحمده عشرا " . فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده " فذلك خمسون وماية باللسان، والف وخمسماية في الميزان، واذا اوى الى فراشه سبح وحمد وكبر ماية، فتلك ماية باللسان، والف في الميزان، فايكم يعمل في اليوم الفين وخمسماية سيية " . قالوا: وكيف لا يحصيهما قال " ياتي احدكم الشيطان، وهو في الصلاة، فيقول: اذكر كذا وكذا، حتى ينفك العبد لا يعقل، وياتيه وهو في مضجعه، فلا يزال ينومه حتى ينام
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں ( کے مقام ) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو ( ۳۳ ) بار، ( ۳۳ ) بار اور ( ۳۴ ) بار ۔ سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو ( ۳۴ ) بار کہا۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن بشر بن عاصم، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم - وربما قال سفيان قلت - يا رسول الله ذهب اهل الاموال والدثور بالاجر يقولون كما نقول وينفقون ولا ننفق . قال لي " الا اخبركم بامر اذا فعلتموه ادركتم من قبلكم وفتم من بعدكم، تحمدون الله في دبر كل صلاة وتسبحونه، وتكبرونه ثلاثا وثلاثين، وثلاثا وثلاثين، واربعا وثلاثين " . قال سفيان لا ادري ايتهن اربع
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار «استغفر الله» کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب، حدثنا الاوزاعي، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا الاوزاعي، حدثني شداد ابو عمار، حدثنا ابو اسماء الرحبي، حدثني ثوبان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا انصرف من صلاته استغفر ثلاث مرات ثم يقول " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والاكرام
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن قبيصة بن هلب، عن ابيه، قال امنا النبي صلى الله عليه وسلم فكان ينصرف عن جانبيه جميعا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا يحيى بن سعيد، قالا حدثنا الاعمش، عن عمارة، عن الاسود، قال قال عبد الله لا يجعلن احدكم للشيطان في نفسه جزءا يرى ان حقا لله عليه ان لا ينصرف الا عن يمينه قد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر انصرافه عن يساره
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں جانب سے مڑتے تھے
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا يزيد بن زريع، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ينفتل عن يمينه وعن يساره في الصلاة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الملك بن واقد، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم قام النساء حين يقضي تسليمه ثم يلبث في مكانه يسيرا قبل ان يقوم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے، اور نماز بھی شروع ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا وضع العشاء واقيمت الصلاة، فابدءوا بالعشاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو ۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رات کا کھانا کھایا، اور وہ اقامت سن رہے تھے۔
حدثنا ازهر بن مروان، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضع العشاء واقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء " . قال فتعشى ابن عمر ليلة وهو يسمع الاقامة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، جميعا عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا حضر العشاء واقيمت الصلاة، فابدءوا بالعشاء
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن خالد الحذاء، عن ابي المليح، قال خرجت في ليلة مطيرة فلما رجعت استفتحت فقال ابي من هذا قال ابو المليح . قال لقد رايتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية واصابتنا سماء لم تبل اسافل نعالنا فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا في رحالكم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينادي مناديه في الليلة المطيرة او الليلة الباردة ذات الريح " صلوا في رحالكم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا: اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الوهاب، حدثنا الضحاك بن مخلد، عن عباد بن منصور، قال سمعت عطاء، يحدث عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال في يوم جمعة مطيرة " صلوا في رحالكم
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا:«الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عباد بن عباد المهلبي، حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل، ان ابن عباس، امر الموذن ان يوذن، يوم الجمعة وذلك يوم مطير فقال الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله . ثم قال ناد في الناس فليصلوا في بيوتهم . فقال له الناس ما هذا الذي صنعت قال قد فعل هذا من هو خير مني تامرني ان اخرج الناس من بيوتهم فياتوني يدوسون الطين الى ركبهم
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر ��ن عبيد، عن سماك بن حرب، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، قال كنا نصلي والدواب تمر بين ايدينا فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مثل موخرة الرحل تكون بين يدى احدكم فلا يضره من مر بين يديه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد الله بن رجاء المكي، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم تخرج له حربة في السفر، فينصبها فيصلي اليها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن عبيد الله بن عمر، حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم حصير يبسط بالنهار ويحتجره بالليل يصلي اليه