Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر اتاری ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، ح وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عامر، قال انبانا عبد الله بن جعفر، عن يزيد بن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، قال قلنا يا رسول الله هذا السلام عليك قد عرفناه فكيف الصلاة قال " قولوا اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على ابراهيم، وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت ابن ابي ليلى، قال لقيني كعب بن عجرة فقال الا اهدي لك هدية خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا قد عرفنا السلام عليك فكيف الصلاة عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على، ابراهيم انك حميد مجيد. اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم، انك حميد مجيد
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
حدثنا عمار بن طالوت، حدثنا عبد الملك بن عبد العزيز الماجشون، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي حميد الساعدي، انهم قالوا يا رسول الله امرنا بالصلاة عليك فكيف نصلي عليك فقال " قولوا اللهم صل على محمد وازواجه وذريته، كما صليت على ابراهيم، وبارك على محمد وازواجه وذريته، كما باركت على ال ابراهيم في العالمين، انك حميد مجيد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود ( صلاۃ ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ۱؎۔
حدثنا الحسين بن بيان، حدثنا زياد بن عبد الله، حدثنا المسعودي، عن عون بن عبد الله، عن ابي فاختة، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال اذا صليتم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحسنوا الصلاة عليه فانكم لا تدرون لعل ذلك يعرض عليه . قال فقالوا له فعلمنا . قال قولوا اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وامام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك امام الخير وقايد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الاولون والاخرون اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، عن عاصم بن عبيد الله، قال سمعت عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم يصلي على الا صلت عليه الملايكة ما صلى على فليقل العبد من ذلك او ليكثر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نسي الصلاة على خطي طريق الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص آخری تشہد ( تحیات اور درود ) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، حدثني محمد بن ابي عايشة، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فرغ احدكم من التشهد الاخير فليتعوذ بالله من اربع من عذاب جهنم، ومن عذاب القبر، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں ۲؎۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل " ما تقول في الصلاة " . قال اتشهد ثم اسال الله الجنة واعوذ به من النار اما والله ما احسن دندنتك ولا دندنة معاذ . فقال " حولهما ندندن
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عصام بن قدامة، عن مالك بن نمير الخزاعي، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم واضعا يده اليمنى على فخذه اليمنى في الصلاة ويشير باصبعه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل ( شہادت کی ) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم قد حلق الابهام والوسطى ورفع التي تليهما يدعو بها في التشهد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے۔
حدثنا محمد بن يحيى، والحسن بن علي، واسحاق بن منصور، قالوا حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا جلس في الصلاة وضع يديه على ركبتيه ورفع اصبعه اليمنى التي تلي الابهام فيدعو بها واليسرى على ركبته باسطها عليها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله»۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه وعن شماله حتى يرى بياض خده " السلام عليكم ورحمة الله
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، عن مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزبير، عن اسماعيل بن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن عامر بن سعد، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه وعن يساره
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی، اور کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله. السلام عليكم ورحمة الله»۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، عن عمار بن ياسر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم عن يمينه وعن يساره حتى يرى بياض خده " السلام عليكم ورحمة الله . السلام عليكم ورحمة الله
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن بريد بن ابي مريم، عن ابي موسى، قال صلى بنا علي يوم الجمل صلاة ذكرنا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاما ان نكون نسيناها واما ان نكون تركناها فسلم على يمينه وعلى شماله
سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا۔
حدثنا ابو مصعب المديني، احمد بن ابي بكر حدثنا عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سلم تسليمة واحدة تلقاء وجهه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الملك بن محمد الصنعاني، حدثنا زهير بن محمد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم تسليمة واحدة تلقاء وجهه
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا۔
حدثنا محمد بن الحارث المصري، حدثنا يحيى بن راشد، عن يزيد، مولى سلمة عن سلمة بن الاكوع، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فسلم مرة واحدة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ابو بكر الهذلي، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سلم الامام فردوا عليه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، حدثنا علي بن القاسم، انبانا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نسلم على ايمتنا وان يسلم بعضنا على بعض