Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا ۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا ابن ابي حازم، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن ابي علي الهمداني، انه خرج في سفينة فيها عقبة بن عامر الجهني فحانت صلاة من الصلوات فامرناه ان يومنا وقلنا له انك احقنا بذلك انت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى فقال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ام الناس فاصاب، فالصلاة له ولهم، ومن انتقص من ذلك شييا فعليه، ولا عليهم
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کر دیتا ہے، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا اسماعيل، عن قيس، عن ابي مسعود، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله اني لاتاخر في صلاة الغداة من اجل فلان لما يطيل بنا فيها . قال فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قط في موعظة اشد غضبا منه يوميذ " يا ايها الناس ان منكم منفرين فايكم ما صلى بالناس فليجوز فان فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، وحميد بن مسعدة، قالا حدثنا حماد بن زيد، انبانا عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوجز ويتم الصلاة
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو«والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال صلى معاذ بن جبل الانصاري باصحابه صلاة العشاء فطول عليهم فانصرف رجل منا فصلى فاخبر معاذ عنه فقال انه منافق . فلما بلغ ذلك الرجل دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره ما قال له معاذ فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتريد ان تكون فتانا يا معاذ اذا صليت بالناس فاقرا بالشمس وضحاها وسبح اسم ربك الاعلى والليل اذا يغشى واقرا باسم ربك
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي هند، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، قال سمعت عثمان بن ابي العاص، يقول كان اخر ما عهد الى النبي صلى الله عليه وسلم حين امرني على الطايف قال لي " يا عثمان تجاوز في الصلاة واقدر الناس باضعفهم فان فيهم الكبير والصغير والسقيم والبعيد وذا الحاجة
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی: لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ ۔
حدثنا علي بن اسماعيل، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، عن سعيد بن المسيب، قال حدث عثمان بن ابي العاص، ان اخر، ما قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اممت قوما فاخف بهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لادخل في الصلاة وانا اريد اطالتها فاسمع بكاء الصبي فاتجوز في صلاتي مما اعلم لوجد امه ببكايه
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں ۔
حدثنا اسماعيل بن ابي كريمة الحراني، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن عبد الله بن علاثة، عن هشام بن حسان، عن الحسن، عن عثمان بن ابي العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاسمع بكاء الصبي فاتجوز في الصلاة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا عمر بن عبد الواحد، وبشر بن بكر، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاقوم في الصلاة وانا اريد ان اطول فيها فاسمع بكاء الصبي فاتجوز كراهية ان اشق على امه
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة السوايي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تصفون كما تصف الملايكة عند ربها " . قال قلنا وكيف تصف الملايكة عند ربها قال " يتمون الصفوف الاول ويتراصون في الصف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، ح وحدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي وبشر بن عمر، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سووا صفوفكم فان تسوية الصفوف من تمام الصلاة
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثنا سماك بن حرب، انه سمع النعمان بن بشير، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي الصف حتى يجعله مثل الرمح او القدح . قال فراى صدر رجل ناتيا فقال رسول الله " سووا صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله وملايكته يصلون على الذين يصلون الصفوف ومن سد فرجة رفعه الله بها درجة
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن ابراهيم، عن خالد بن معدان، عن عرباض بن سارية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستغفر للصف المقدم، ثلاثا، وللثاني، مرة
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، قال سمعت طلحة بن مصرف، يقول سمعت عبد الرحمن بن عوسجة، يقول سمعت البراء بن عازب، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله وملايكته يصلون على الصفوف الاول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا ( ثواب ) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو ۔
حدثنا ابو ثور، ابراهيم بن خالد حدثنا ابو قطن، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن خلاس، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلمون ما في الصف الاول لكانت قرعة
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا انس بن عياض، حدثنا محمد بن عمرو بن علقمة، عن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله وملايكته يصلون على الصف الاول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، وعن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير صفوف النساء اخرها، وشرها اولها، وخير صفوف الرجال اولها، وشرها اخرها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير صفوف الرجال مقدمها، وشرها موخرها، وخير صفوف النساء موخرها، وشرها مقدمها
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ۱؎۔
حدثنا زيد بن اخزم ابو طالب، حدثنا ابو داود، وابو قتيبة قالا حدثنا هارون بن مسلم، عن قتادة، عن معاوية بن قرة، عن ابيه، قال كنا ننهى ان نصف، بين السواري على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ونطرد عنها طردا