Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن بدر، حدثني عبد الرحمن بن علي بن شيبان، عن ابيه، علي بن شيبان - وكان من الوفد - قال خرجنا حتى قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا خلفه ثم صلينا وراءه صلاة اخرى فقضى الصلاة فراى رجلا فردا يصلي خلف الصف . قال فوقف عليه نبي الله صلى الله عليه وسلم حين انصرف قال " استقبل صلاتك، لا صلاة للذي خلف الصف
ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے کہا: ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن حصين، عن هلال بن يساف، قال اخذ بيدي زياد بن ابي الجعد فاوقفني على شيخ بالرقة يقال له وابصة بن معبد فقال صلى رجل خلف الصف وحده فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعيد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن اسامة بن زيد، عن عثمان بن عروة، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله وملايكته يصلون على ميامن الصفوف
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے یا میں پسند کرتا کہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مسعر، عن ثابت بن عبيد، عن ابن البراء بن عازب، عن البراء، قال كنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال مسعر - مما نحب او مما احب ان نقوم عن يمينه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا، اسے دہرا اجر ملے گا ۔
حدثنا محمد بن ابي الحسين ابو جعفر، حدثنا عمرو بن عثمان الكلابي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن ليث بن ابي سليم، عن نافع، عن ابن عمر، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم ان ميسرة المسجد تعطلت . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من عمر ميسرة المسجد كتب له كفلان من الاجر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ ( خانہ کعبہ ) کے طواف سے فارغ ہو گئے تو مقام ابراہیم پر آئے، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»، یعنی: ( مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا یہ انہوں نے اسی طرح ( امر کے صیغہ کے ساتھ ) «واتخذوا» ( خاء کے زیر کسرے کے ساتھ ) پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مالك بن انس، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، انه قال لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من طواف البيت اتى مقام ابراهيم فقال عمر يا رسول الله هذا مقام ابينا ابراهيم الذي قال الله {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } . قال الوليد فقلت لمالك اهكذا قرا {واتخذوا} قال نعم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ( تو بہتر ہو ) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ( سورة البقرة: 125 ) ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا هشيم، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال قال عمر قلت يا رسول الله لو اتخذت من مقام ابراهيم مصلى فنزلت {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى}
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «قد نرى تقلب وجهك في السماء» ( سورۃ البقرہ: ۱۴۴ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے، اور رکوع میں تھے، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں ( سورة البقرة: 143 ) ۱؎۔
حدثنا علقمة بن عمرو الدارمي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو بيت المقدس ثمانية عشر شهرا وصرفت القبلة الى الكعبة بعد دخوله الى المدينة بشهرين وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى الى بيت المقدس اكثر تقلب وجهه في السماء وعلم الله من قلب نبيه صلى الله عليه وسلم انه يهوى الكعبة فصعد جبريل فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبعه بصره وهو يصعد بين السماء والارض ينظر ما ياتيه به فانزل الله {قد نرى تقلب وجهك في السماء} الاية فاتانا ات فقال ان القبلة قد صرفت الى الكعبة وقد صلينا ركعتين الى بيت المقدس ونحن ركوع فتحولنا فبنينا على ما مضى من صلاتنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا جبريل كيف حالنا في صلاتنا الى بيت المقدس " . فانزل الله عز وجل {وما كان الله ليضيع ايمانكم}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي، حدثنا هاشم بن القاسم، ح وحدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، قال حدثنا عاصم بن علي، قالا حدثنا ابو معشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين المشرق والمغرب قبلة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل احدكم المسجد فلا يجلس حتى يركع ركعتين
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
حدثنا العباس بن عثمان، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مالك بن انس، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل احدكم المسجد فليصل ركعتين قبل ان يجلس
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث ۱؎ اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد الغطفاني، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، ان عمر بن الخطاب، قام يوم الجمعة خطيبا - او خطب يوم الجمعة - فحمد الله واثنى عليه ثم قال يا ايها الناس انكم تاكلون شجرتين لا اراهما الا خبيثتين هذا الثوم وهذا البصل ولقد كنت ارى الرجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوجد ريحه منه فيوخذ بيده حتى يخرج الى البقيع فمن كان اكلها لا بد فليمتها طبخا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے ۔ ابراہیم کہتے ہیں: میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث» ) ۱؎ اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه الشجرة الثوم فلا يوذينا بها في مسجدنا هذا " . قال ابراهيم وكان ابي يزيد فيه الكراث والبصل عن النبي صلى الله عليه وسلم . يعني انه يزيد على حديث ابي هريرة في الثوم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے ( پیاز و لہسن ) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه الشجرة شييا فلا ياتين المسجد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد الطنافسي، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن عمر، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد قباء يصلي فيه، فجاءت رجال من الانصار يسلمون عليه، فسالت صهيبا، وكان معه: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرد عليهم؟ قال: كان يشير بيده
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو مجھے بلایا، اور پوچھا: ابھی تم نے مجھے سلام کیا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم لحاجة ثم ادركته وهو يصلي فسلمت عليه فاشار الى فلما فرغ دعاني فقال " انك سلمت على انفا وانا اصلي
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال كنا نسلم في الصلاة فقيل لنا ان في الصلاة لشغلا
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے ( اپنے ظن غالب کی بنیاد پر ) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۱۵ ) نازل فرمائی۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود، حدثنا اشعث بن سعيد ابو الربيع السمان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فتغيمت السماء واشكلت علينا القبلة فصلينا واعلمنا فلما طلعت الشمس اذا نحن قد صلينا لغير القبلة فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله {فاينما تولوا فثم وجه الله}
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن طارق بن عبد الله المحاربي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا صليت فلا تبزقن بين يديك، ولا عن يمينك، ولكن ابزق عن يسارك، او تحت قدمك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن القاسم بن مهران، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في قبلة المسجد فاقبل على الناس فقال " ما بال احدكم يقوم مستقبله - يعني ربه - فيتنخع امامه ايحب احدكم ان يستقبل فيتنخع في وجهه اذا بزق احدكم فليبزقن عن شماله او ليقل هكذا في ثوبه " . ثم اراني اسماعيل يبزق في ثوبه ثم يدلكه