Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہو جائے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، وعبد الله بن عامر بن زرارة، قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن ابي وايل، عن حذيفة، انه راى شبث بن ربعي بزق بين يديه فقال يا شبث لا تبزق بين يديك فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهى عن ذلك وقال " ان الرجل اذا قام يصلي اقبل الله عليه بوجهه حتى ينقلب او يحدث حدث سوء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے مل دیا۔
حدثنا زيد بن اخزم، وعبدة بن عبد الله، قالا حدثنا عبد الصمد، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بزق في ثوبه وهو في الصلاة ثم دلكه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مس الحصى فقد لغا
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، وعبد الرحمن بن ابراهيم، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة، قال حدثني معيقيب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسح الحصى في الصلاة " ان كنت فاعلا فمرة واحدة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے، اس لیے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي الاحوص الليثي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم الى الصلاة فان الرحمة تواجهه فلا يمسح الحصى
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عباد بن العوام، عن الشيباني، عن عبد الله بن شداد، حدثتني ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الخمرة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن ابي سعيد، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على حصير
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني زمعة بن صالح، عن عمرو بن دينار، قال صلى ابن عباس وهو بالبصرة على بساطه ثم حدث اصحابه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي على بساطه
عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن اسماعيل بن ابي حبيبة، عن عبد الله بن عبد الرحمن، قال جاءنا النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بنا في مسجد بني عبد الاشهل فرايته واضعا يديه على ثوبه اذا سجد
ثابت بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد ) بنو عبدالاشہل میں نماز پڑھی، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، اخبرني ابراهيم بن اسماعيل الاشهلي، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ثابت بن الصامت، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في بني عبد الاشهل وعليه كساء متلفف به يضع يديه عليه يقيه برد الحصى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پہ نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا لیتا، اور اس پر سجدہ کرتا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب، حدثنا بشر بن المفضل، عن غالب القطان، عن بكر بن عبد الله، عن انس بن مالك، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم في شدة الحر فاذا لم يقدر احدنا ان يمكن جبهته بسط ثوبه فسجد عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) «سبحان الله»کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) مردوں کے لیے «سبحان الله» کہنا ہے، اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
نافع کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) عورتوں کو تالی بجانے، اور مردوں کو «سبحان الله» کہنے کی رخصت دی ہے۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن امية، وعبيد الله، عن نافع، انه كان يقول قال ابن عمر رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء في التصفيق وللرجال في التسبيح
ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس رضی اللہ عنہ کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا ( وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے ) اور ( پھر نماز کے بعد ) کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن النعمان بن سالم، عن ابن ابي اوس، قال كان جدي اوس يصلي فيشير الى وهو في الصلاة فاعطيه نعليه ويقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کبھی جوتے نکال کر اور کبھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا يزيد بن زريع، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حافيا ومنتعلا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے، اور موزے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن علقمة، عن عبد الله، قال لقد راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في النعلين والخفين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ۱؎۔
حدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا حماد بن زيد، وابو عوانة عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " امرت ان لا اكف شعرا ولا ثوبا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال امرنا الا نكف شعرا ولا ثوبا ولا نتوضا من موطا
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا، یا اس ( جوڑا باندھنے ) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف، حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، اخبرني مخول بن راشد، قال سمعت ابا سعد، - رجلا من اهل المدينة - يقول رايت ابا رافع مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم راى الحسن بن علي وهو يصلي وقد عقص شعره فاطلقه او نهى عنه وقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصلي الرجل وهو عاقص شعره