Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز کی حالت میں ) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلحة بن يحيى، عن يونس، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ترفعوا ابصاركم الى السماء ان تلتمع " . يعني في الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں ( بحالت نماز ) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تک فرما دیا: لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما باصحابه فلما قضى الصلاة اقبل على القوم بوجهه فقال " ما بال اقوام يرفعون ابصارهم الى السماء " . حتى اشتد قوله في ذلك " لينتهن عن ذلك او ليخطفن الله ابصارهم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو ( نماز کی حالت میں ) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آ جانا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں ( صحیح سالم ) نہ لوٹیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لينتهين اقوام يرفعون ابصارهم الى السماء او لا ترجع ابصارهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو ( سورۃ الحجر: ۲۴ ) نازل فرمائی۔
حدثنا حميد بن مسعدة، وابو بكر بن خلاد قالا حدثنا نوح بن قيس، حدثنا عمرو بن مالك، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال كانت امراة تصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم حسناء من احسن الناس فكان بعض القوم يستقدم في الصف الاول ليلا يراها ويستاخر بعضهم حتى يكون في الصف الموخر فاذا ركع قال هكذا ينظر من تحت ابطه فانزل الله {ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستاخرين} في شانها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله احدنا يصلي في الثوب الواحد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اوكلكم يجد ثوبين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عمر بن عبيد، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، حدثني ابو سعيد الخدري، انه دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي في ثوب واحد متوشحا به
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد متوشحا به واضعا طرفيه على عاتقيه
کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثنا محمد بن حنظلة بن محمد بن عباد المخزومي، عن معروف بن مشكان، عن عبد الرحمن بن كيسان، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالبير العليا في ثوب
کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عمرو بن كثير، حدثنا ابن كيسان، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر والعصر في ثوب واحد متلببا به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قرا ابن ادم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي يقول يا ويله امر ابن ادم بالسجود فسجد فله الجنة وامرت بالسجود فابيت فلي النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس، عن الحسن بن محمد بن عبيد الله بن ابي يزيد، قال قال لي ابن جريج يا حسن اخبرني جدك، عبيد الله بن ابي يزيد عن ابن عباس، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فاتاه رجل فقال اني رايت البارحة فيما يرى النايم كاني اصلي الى اصل شجرة فقرات السجدة فسجدت فسجدت الشجرة لسجودي فسمعتها تقول اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها اجرا واجعلها لي عندك ذخرا. قال ابن عباس فرايت النبي صلى الله عليه وسلم قرا السجدة فسجد فسمعته يقول في سجوده مثل الذي اخبره الرجل عن قول الشجرة
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو فرماتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے ۔
حدثنا علي بن عمرو الانصاري، حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، عن ابن جريج، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل، عن الاعرج، عن ابن ابي رافع، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد قال " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت انت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سورۃ النجم کا سجدہ بھی تھا۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن ابن ابي هلال، عن عمر الدمشقي، عن ام الدرداء، قالت حدثني ابو الدرداء، انه سجد مع النبي صلى الله عليه وسلم احدى عشرة سجدة منهن النجم
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا ( اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے ) : اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورۃ السجدۃ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا عثمان بن فايد، حدثنا عاصم بن رجاء بن حيوة، عن المهدي بن عبد الرحمن بن عيينة بن خاطر، قال حدثتني عمتي ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال سجدت مع النبي صلى الله عليه وسلم احدى عشرة سجدة ليس فيها من المفصل شىء الاعراف والرعد والنحل وبني اسراييل ومريم والحج وسجدة الفرقان وسليمان سورة النمل والسجدة وفي ص وسجدة الحواميم
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، عن نافع بن يزيد، حدثنا الحارث بن سعيد العتقي، عن عبد الله بن منين، - من بني عبد كلال - عن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقراه خمس عشرة سجدة في القران منها ثلاث في المفصل وفي الحج سجدتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ: «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، قال سجدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في {اذا السماء انشقت} و {اقرا باسم ربك}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے مروی ہے، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد في {اذا السماء انشقت}. قال ابو بكر بن ابي شيبة هذا الحديث من حديث يحيى بن سعيد ما سمعت احدا يذكره غيره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی ، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور «الله أكبر» کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، ان رجلا، دخل المسجد فصلى ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ناحية من المسجد فجاء فسلم فقال " وعليك فارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " وعليك فارجع فصل فانك لم تصل بعد " . قال في الثالثة فعلمني يا رسول الله . قال "اذا قمت الى الصلاة فاسبغ الوضوء ثم استقبل القبلة وكبر، ثم اقرا ما تيسر معك من القران، ثم اركع حتى تطمين راكعا، ثم ارفع حتى تطمين قايما، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم ارفع راسك حتى تستوي قاعدا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں ۱؎، جن میں ایک ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: کیسے؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے؟، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں … ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بیان کریں، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله أكبر» کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا، پھر قراءت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، پھر زمین کی طرف ( سجدہ کے لیے ) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے، پھر سجدہ کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۳؎، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے ۲؎، لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے ۳؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء، قال سمعت ابا حميد الساعدي، في عشرة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم ابو قتادة فقال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا لم فوالله ما كنت باكثرنا له تبعة ولا اقدمنا له صحبة . قال بلى . قالوا فاعرض . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة كبر ثم رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ويقر كل عضو منه في موضعه ثم يقرا ثم يكبر ويرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يركع ويضع راحتيه على ركبتيه معتمدا لا يصب راسه ولا يقنع معتدلا ثم يقول " سمع الله لمن حمده " . ويرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه حتى يقر كل عظم الى موضعه ثم يهوي الى الارض ويجافي يديه عن جنبيه ثم يرفع راسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها ويفتخ اصابع رجليه اذا سجد ثم يسجد ثم يكبر ويجلس على رجله اليسرى حتى يرجع كل عظم منه الى موضعه ثم يقوم فيصنع في الركعة الاخرى مثل ذلك ثم اذا قام من الركعتين رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما صنع عند افتتاح الصلاة ثم يصلي بقية صلاته هكذا حتى اذا كانت السجدة التي ينقضي فيها التسليم اخر احدى رجليه وجلس على شقه الايسر متوركا . قالوا صدقت هكذا كان يصلي رسول الله صلى الله عليه وسلم
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو ( اپنی بغلوں سے ) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، ( اور قعدہ اولیٰ میں ) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن حارثة بن ابي الرجال، عن عمرة، قالت سالت عايشة كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا توضا فوضع يديه في الاناء سمى الله ويسبغ الوضوء ثم يقوم فيستقبل القبلة فيكبر ويرفع يديه حذاء منكبيه ثم يركع فيضع يديه على ركبتيه ويجافي بعضديه ثم يرفع راسه فيقيم صلبه ويقوم قياما هو اطول من قيامكم قليلا ثم يسجد فيضع يديه تجاه القبلة ويجافي بعضديه ما استطاع فيما رايت ثم يرفع راسه فيجلس على قدمه اليسرى وينصب اليمنى ويكره ان يسقط على شقه الايسر