Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ اور عید بھی دو رکعت ہیں، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن زبيد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عمر، قال صلاة السفر ركعتان والجمعة ركعتان والعيد ركعتان تمام غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، انبانا يزيد بن زياد بن ابي الجعد، عن زبيد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن عمر، قال صلاة السفر ركعتان وصلاة الجمعة ركعتان والفطر والاضحى ركعتان تمام غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو ( سورۃ النساء: ۱۰۱ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون ( امن و امان میں ) ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابن جريج، عن ابن ابي عمار، عن عبد الله بن بابيه، عن يعلى بن امية، قال سالت عمر بن الخطاب قلت ليس عليكم جناح ان تقصروا من الصلاة ان خفتم ان يفتنكم الذين كفروا وقد امن الناس فقال عجبت مما عجبت منه فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " صدقة تصدق الله بها عليكم، فاقبلوا صدقته
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کا ذکر پاتے ہیں، لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں پاتے؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے، اور ہم دین کی کچھ بھی بات نہ جانتے تھے، ہم وہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن امية بن عبد الله بن خالد، انه قال لعبد الله بن عمر انا نجد صلاة الحضر وصلاة الخوف في القران ولا نجد صلاة السفر فقال له عبد الله ان الله بعث الينا محمدا صلى الله عليه وسلم ولا نعلم شييا فانما نفعل كما راينا محمدا صلى الله عليه وسلم يفعل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن بشر بن حرب، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خرج من هذه المدينة لم يزد على ركعتين، حتى يرجع اليها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، وجبارة بن المغلس، قالا حدثنا ابو عوانة، عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال: افترض الله الصلاة على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم في الحضر اربعا وفي السفر ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابراهيم بن اسماعيل، عن عبد الكريم، عن مجاهد، وسعيد بن جبير، وعطاء بن ابي رباح، وطاوس، اخبروه عن ابن عباس، انه اخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين المغرب والعشاء في السفر من غير ان يعجله شىء ولا يطلبه عدو ولا يخاف شييا
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن ابي الطفيل، عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء في غزوة تبوك في السفر
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز ( سنت ) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ( سورۃ الاحزاب: ۲۱ ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا ابو عامر، عن عيسى بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب، حدثني ابي قال، كنا مع ابن عمر في سفر فصلى بنا ثم انصرفنا معه وانصرف . قال فالتفت فراى اناسا يصلون فقال ما يصنع هولاء قلت يسبحون . قال لو كنت مسبحا لاتممت صلاتي يا ابن اخي اني صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يزد على ركعتين في السفر حتى قبضه الله ثم صحبت ابا بكر فلم يزد على ركعتين ثم صحبت عمر فلم يزد على ركعتين ثم صحبت عثمان فلم يزد على ركعتين حتى قبضهم الله والله يقول {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا وكيع، حدثنا اسامة بن زيد، قال سالت طاوسا عن السبحة، في السفر - والحسن بن مسلم بن يناق جالس عنده - فقال حدثني طاوس، انه سمع ابن عباس، يقول فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الحضر وصلاة السفر فكنا نصلي في الحضر قبلها وبعدها وكنا نصلي في السفر قبلها وبعدها
عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الرحمن بن حميد الزهري، قال سالت السايب بن يزيد ماذا سمعت في، سكنى مكة قال سمعت العلاء بن الحضرمي، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " ثلاثا للمهاجر بعد الصدر
عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو عاصم، وقراته، عليه انبانا ابن جريج، اخبرني عطاء، حدثني جابر بن عبد الله، في اناس معي قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة صبح رابعة مضت من شهر ذي الحجة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ۱۹ ) دن رہے، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ۱۹ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم الاحول، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم تسعة عشر يوما يصلي ركعتين ركعتين، فنحن اذا اقمنا تسعة عشر يوما، نصلي ركعتين ركعتين، فاذا اقمنا اكثر من ذلك، صلينا اربعا
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا، اور نماز قصر کرتے رہے۔
حدثنا ابو يوسف الصيدلاني، محمد بن احمد الرقي حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام بمكة عام الفتح خمس عشرة ليلة يقصر الصلاة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے؟ کہا: دس دن تک۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، وعبد الاعلى، قالا حدثنا يحيى بن ابي اسحاق، عن انس قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة. فصلى ركعتين ركعتين، حتى رجعنا . قلت: كم اقام بمكة؟ قال: عشرا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ۱؎، جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا ۔
حدثنا اسماعيل بن ابراهيم البالسي، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا حسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة، فمن تركها فقد كفر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن عمرو بن سعد، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس بين العبد والشرك الا ترك الصلاة، فاذا تركها فقد اشرك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! مرنے سے پہلے اللہ کی جناب میں توبہ کرو، اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو، جو رشتہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اسے جوڑو، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو خوب یاد کرو، اور خفیہ و اعلانیہ طور پر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرو، تمہیں تمہارے رب کی جانب سے رزق دیا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری گرتی حالت سنبھال دی جائے گی، جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ اس مقام، اس دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے، اور اس سال سے تاقیامت فرض ہے، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، تو اللہ تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے، سن لو! اس کی نماز، زکاۃ، حج، روزہ اور کوئی بھی نیکی قبول نہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے، لہٰذا جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، سن لو! کوئی عورت کسی مرد کی، کوئی اعرابی ( دیہاتی ) کسی مہاجر کی، کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے، ہاں جب وہ کسی ایسے حاکم سے مغلوب ہو جائے جس کی تلوار اور کوڑوں کا ڈر ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا الوليد بن بكير ابو خباب، حدثني عبد الله بن محمد العدوي، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن جابر بن عبد الله، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ايها الناس توبوا الى الله قبل ان تموتوا وبادروا بالاعمال الصالحة قبل ان تشغلوا وصلوا الذي بينكم وبين ربكم بكثرة ذكركم له وكثرة الصدقة في السر والعلانية ترزقوا وتنصروا وتجبروا واعلموا ان الله قد افترض عليكم الجمعة في مقامي هذا في يومي هذا في شهري هذا من عامي هذا الى يوم القيامة فمن تركها في حياتي او بعدي وله امام عادل او جاير استخفافا بها او جحودا بها فلا جمع الله له شمله ولا بارك له في امره الا ولا صلاة له ولا زكاة له ولا حج له ولا صوم له ولا بر له حتى يتوب فمن تاب تاب الله عليه الا لا تومن امراة رجلا ولا يومن اعرابي مهاجرا ولا يوم فاجر مومنا الا ان يقهره بسلطان يخاف سيفه وسوطه
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کر لے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بے وقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چنانچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول ( اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے ) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا: ابا جان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان «نقیع الخضمات» میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ کہا: ہم چالیس آدمی تھے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن خلف ابو سلمة، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابيه ابي امامة، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، قال: كنت قايد ابي حين ذهب بصره، وكنت اذا خرجت به الى الجمعة فسمع الاذان استغفر لابي امامة، اسعد بن زرارة، ودعا له، فمكثت حينا اسمع ذلك منه، ثم قلت في نفسي: والله ان ذا لعجز، اني اسمعه كلما سمع اذان الجمعة يستغفر لابي امامة ويصلي عليه، ولا اساله عن ذلك لم هو؟ فخرجت به كما كنت اخرج به الى الجمعة. فلما سمع الاذان استغفر كما كان يفعل. فقلت له: يا ابتاه ارايتك صلاتك على اسعد بن زرارة كلما سمعت النداء بالجمعة لم هو؟ قال: اى بنى كان اول من صلى بنا صلاة الجمعة قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة، في نقيع الخضمات، في هزم من حرة بني بياضة . قلت: كم كنتم يوميذ؟ قال: اربعين رجلا