Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن ( عبادت کے لیے ) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے ( آمد کے لحاظ سے ) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں ۲؎۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا ابن فضيل، حدثنا ابو مالك الاشجعي، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، وعن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اضل الله عن الجمعة من كان قبلنا. كان لليهود يوم السبت. والاحد للنصارى. فهم لنا تبع الى يوم القيامة. نحن الاخرون من اهل الدنيا، والاولون المقضي لهم قبل الخلايق
ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر ( قیامت کے آنے سے ) ڈرتے رہتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن عبد الرحمن بن يزيد الانصاري، عن ابي لبابة بن عبد المنذر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان يوم الجمعة سيد الايام، واعظمها عند الله. وهو اعظم عند الله من يوم الاضحى ويوم الفطر. فيه خمس خلال. خلق الله فيه ادم. واهبط الله فيه ادم الى الارض. وفيه توفى الله ادم. وفيه ساعة لا يسال الله فيها العبد شييا الا اعطاه. ما لم يسال حراما. وفيه تقوم الساعة. ما من ملك مقرب ولا سماء ولا ارض ولا رياح ولا جبال ولا بحر الا وهن يشفقن من يوم الجمعة
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن شداد بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من افضل ايامكم يوم الجمعة فيه خلق ادم وفيه النفخة وفيه الصعقة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على " . فقال رجل يا رسول الله كيف تعرض صلاتنا عليك وقد ارمت - يعني بليت - . فقال " ان الله قد حرم على الارض ان تاكل اجساد الانبياء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الجمعة الى الجمعة كفارة ما بينهما. ما لم تغش الكباير
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ۱؎، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن الاوزاعي، حدثنا حسان بن عطية، حدثني ابو الاشعث، حدثني اوس بن اوس الثقفي، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من غسل يوم الجمعة واغتسل، وبكر وابتكر، ومشى ولم يركب، ودنا من الامام، فاستمع، ولم يلغ، كان له بكل خطوة عمل سنة، اجر صيامها وقيامها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جو جمعہ کے لیے آئے، وہ غسل کرے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عمر بن عبيد، عن ابي اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر " من اتى الجمعة فليغتسل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے ۱؎۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء، ثم اتى الجمعة، فدنا وانصت واستمع، غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى، وزيادة ثلاثة ايام. ومن مس الحصى فقد لغا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا اسماعيل بن مسلم المكي، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت يجزي عنه الفريضة ومن اغتسل فالغسل افضل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے ( ترتیب وار ) لکھتے ہیں، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے ( خطبہ شروع ہو چکنے کے ) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان يوم الجمعة، كان على كل باب من ابواب المسجد ملايكة يكتبون الناس على قدر منازلهم. الاول فالاول. فاذا خرج الامام طووا الصحف، واستمعوا الخطبة. فالمهجر الى الصلاة كالمهدي بدنة. ثم الذي يليه كمهدي بقرة. ثم الذي يليه كمهدي كبش " . حتى ذكر الدجاجة والبيضة زاد سهل في حديثه " فمن جاء بعد ذلك فانما يجيء بحق الى الصلاة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اور جمعہ کے لیے سویرے آنے والے کی مثال اونٹ قربان کرنے والے، گائے قربان کرنے والے اور بکری قربان کرنے والے کی بیان فرمائی ہے، یہاں تک کہ مرغی ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب مثل الجمعة ثم التبكير، كناحر البدنة، كناحر البقرة، كناحر الشاة، حتى ذكر الدجاجة
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے، تو کہا: میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں پھر کہا: چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا عبد المجيد بن عبد العزيز، عن معمر، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال خرجت مع عبد الله الى الجمعة فوجد ثلاثة قد سبقوه فقال رابع اربعة وما رابع اربعة ببعيد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الناس يجلسون من الله يوم القيامة على قدر رواحهم الى الجمعات الاول والثاني والثالث " . ثم قال رابع اربعة وما رابع اربعة ببعيد
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا: کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن موسى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عبد الله بن سلام، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر في يوم الجمعة " ما على احدكم لو اشترى ثوبين ليوم الجمعة، سوى ثوب مهنته " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شيخ، لنا عن عبد الحميد بن جعفر، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، عن ابيه، قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم . فذكر ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، عن زهير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم الجمعة فراى عليهم ثياب النمار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما على احدكم، ان وجد سعة، ان يتخذ ثوبين لجمعته، سوى ثوبى مهنته
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اچھی طرح وضو کیا، سب سے اچھا کپڑا پہنا، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، وحوثرة بن محمد، قالا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن عبد الله بن وديعة، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اغتسل يوم الجمعة فاحسن غسله، وتطهر فاحسن طهوره، ولبس من احسن ثيابه، ومس ما كتب الله له من طيب اهله، ثم اتى الجمعة ولم يلغ ولم يفرق بين اثنين، غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو ۱؎۔
حدثنا عمار بن خالد الواسطي، حدثنا علي بن غراب، عن صالح بن ابي الاخضر، عن الزهري، عن عبيد بن السباق، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين. فمن جاء الى الجمعة فليغتسل. وان كان طيب فليمس منه. وعليكم بالسواك
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن سهل بن سعد، قال ما كنا نقيل ولا نتغدى الا بعد الجمعة
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا يعلى بن الحارث، قال سمعت اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم نرجع، فلا نرى للحيطان فييا نستظل به
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، موذن النبي صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن ابيه عن جده انه كان يوذن يوم الجمعة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان الفىء مثل الشراك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ پڑھتے پھر لوٹ کر قیلولہ کرتے تھے
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثنا حميد، عن انس، قال كنا نجمع ثم نرجع فنقيل