Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبہ دیتے تھے، اور دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ بشر بن مفضل نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دیتے وقت ) کھڑے ہوتے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ح وحدثنا يحيى بن خلف ابو سلمة، حدثنا بشر بن المفضل، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب خطبتين يجلس بينهما جلسة . زاد بشر وهو قايم
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن مساور الوراق، عن جعفر بن عمرو بن حريث، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر، وعليه عمامة سوداء
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، البتہ آپ ( دونوں خطبوں کے درمیان ) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت جابر بن سمرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب قايما، غير انه كان يقعد قعدة، ثم يقوم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب قايما. ثم يجلس. ثم يقوم فيقرا ايات. ويذكر الل.ه وكانت خطبته قصدا، وصلاته قصدا
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان جنگ میں خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کر دیتے، اور جب جمعہ کا خطبہ دیتے تو چھڑی پر ٹیک لگا کر دیتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، حدثني ابي، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا خطب في الحرب، خطب على قوس. واذا خطب في الجمعة، خطب على عصا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی: «وتركوك قائما» جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے ( سورة الجمعة: 11 ) ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن ابي غنية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، انه سيل اكان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب قايما او قاعدا؟ قال اوما تقرا {وتركوك قايما} قال ابو عبد الله غريب لا يحدث به الا ابن ابي شيبة وحده
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کو سلام کرتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا ابن لهيعة، عن محمد بن زيد بن مهاجر، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا صعد المنبر سلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو، تو تم نے لغو کام کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة بن سوار، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قلت لصاحبك: انصت، يوم الجمعة، والامام يخطب، فقد لغوت
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورۃ تبارک ( سورۃ الملک ) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ۱؎۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن عطاء بن يسار، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا يوم الجمعة تبارك، وهو قايم. فذكرنا بايام الله وابو الدرداء او ابو ذر يغمزني. فقال: متى انزلت هذه السورة. اني لم اسمعها الا الان . فاشار اليه، ان اسكت. فلما انصرفوا قال: سالتك متى انزلت هذه السورة فلم تخبرني؟ فقال ابى: ليس لك من صلاتك اليوم الا ما لغوت. فذهب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له واخبره بالذي قال ابى. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدق ابى
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے نماز ادا کر لی؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو ۱؎۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع جابرا، وابو الزبير، سمع جابر بن عبد الله، قال دخل سليك الغطفاني المسجد والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب . فقال " اصليت؟ " . قال: لا . قال " فصل ركعتين " . واما عمرو فلم يذكر سليكا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد، قال جاء رجل والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " اصليت؟" . قال: لا . قال: " فصل ركعتين
ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے ( میرے نزدیک ) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ۱؎۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، وعن ابي سفيان، عن جابر، قالا جاء سليك الغطفاني ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اصليت ركعتين قبل ان تجيء؟ " قال: لا . قال: " فصل ركعتين وتجوز فيهما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اور آنے میں تاخیر بھی کی ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن اسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، دخل المسجد يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فجعل يتخطى الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجلس فقد اذيت وانيت
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن زبان بن فايد، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تخطى رقاب الناس يوم الجمعة اتخذ جسرا الى جهنم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا جرير بن حازم، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يكلم في الحاجة اذا نزل عن المنبر يوم الجمعة
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا، خود مکہ گئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی، پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں: «إذا جاءك المنافقون» پڑھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، اور ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں ( نماز جمعہ میں ) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل المدني، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن عبيد الله بن ابي رافع، قال: استخلف مروان ابا هريرة على المدينة. فخرج الى مكة. فصلى بنا ابو هريرة يوم الجمعة فقرا بسورة الجمعة، في السجدة الاولى. وفي الاخرة {اذا جاءك المنافقون} . قال عبيد الله: فادركت ابا هريرة حين انصرف. فقلت له: انك قرات بسورتين كان علي يقرا بهما بالكوفة . فقال ابو هريرة. اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بهما
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک ( احنف ) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هل أتاك حديث الغاشية»پڑھتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، انبانا ضمرة بن سعيد، عن عبيد الله بن عبد الله، قال كتب الضحاك بن قيس الى النعمان بن بشير اخبرنا باى، شىء كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا يوم الجمعة مع سورة الجمعة قال كان يقرا فيها {هل اتاك حديث الغاشية}
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں: «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، عن سعيد بن سنان، عن ابي الزاهرية، عن ابي عنبة الخولاني، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الجمعة ب {سبح اسم ربك الاعلى} و {هل اتاك حديث الغاشية}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عمر بن حبيب، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن ابي سلمة، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الجمعة ركعة فليصل اليها اخرى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك من الصلاة ركعة فقد ادرك