Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ یا کسی بھی نماز سے ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، حدثنا يونس بن يزيد الايلي، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك ركعة من صلاة الجمعة او غيرها، فقد ادرك الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: قباء کے رہنے والے جمعے کے دن جمعے کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن ابي مريم، عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال ان اهل قباء كانوا يجمعون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، ويزيد بن هارون، ومحمد بن بشر، قالوا حدثنا محمد بن عمرو، حدثني عبيدة بن سفيان الحضرمي، عن ابي الجعد الضمري، - وكان له صحبة - قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من ترك الجمعة ثلاث مرات، تهاونا بها، طبع على قلبه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین جمعے بغیر کسی ضرورت کے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پہ مہر لگا دے گا ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عامر، حدثنا زهير، عن اسيد بن ابي اسيد، ح وحدثنا احمد بن عيسى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، عن ابن ابي ذيب، عن اسيد بن ابي اسيد، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك الجمعة، ثلاثا، من غير ضرورة، طبع الله على قلبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سن لو! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کر لے، وہاں گھاس ملنی مشکل ہو جائے تو دور چلا جائے، پھر جمعہ آ جائے اور وہ واپس نہ آئے، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معدي بن سليمان، حدثنا ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا هل عسى احدكم ان يتخذ الصبة من الغنم على راس ميل او ميلين، فيتعذر عليه الكلا، فيرتفع. ثم تجيء الجمعة فلا يجيء ولا يشهدها وتجيء الجمعة فلا يشهدها. وتجيء الجمعة فلا يشهدها. حتى يطبع على قلبه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا، تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو سکے تو آدھا دینار ہی سہی ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا نوح بن قيس، عن اخيه، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ترك الجمعة متعمدا، فليتصدق بدينار، فان لم يجد، فبنصف دينار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن عبد ربه، حدثنا بقية، عن مبشر بن عبيد، عن حجاج بن ارطاة، عن عطية العوفي، عن ابن عباس، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يركع من قبل الجمعة اربعا، لا يفصل في شىء منهن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه كان اذا صلى الجمعة انصرف فصلى سجدتين في بيته ثم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن عمرو، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الجمعة ركعتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو السايب، سلم بن جنادة قالا حدثنا عبد الله بن ادريس، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صليتم بعد الجمعة، فصلوا اربعا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا ابن لهيعة، جميعا عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يحلق في المسجد يوم الجمعة قبل الصلاة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، عن عبد الله بن واقد، عن محمد بن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاحتباء يوم الجمعة - يعني - والامام يخطب
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک ہی مؤذن تھے ۱؎، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ کے لیے ) نکلتے تو وہ اذان دیتے، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے، ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا، جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے، تو انہوں نے زوراء نامی ۲؎ بازار میں ایک مکان پر، تیسری اذان کا اضافہ کر دیا، چنانچہ جب عثمان رضی اللہ عنہ ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتے تو مؤذن ( دوبارہ ) اذان دیتا، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا ۳؎۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان، حدثنا جرير، ح وحدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، جميعا عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال ما كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم الا موذن واحد. فاذا خرج اذن، واذا نزل اقام. وابو بكر وعمر كذلك. فلما كان عثمان، وكثر الناس، زاد النداء الثالث على دار في السوق، يقال لها الزوراء. فاذا خرج اذن، واذا نزل اقام
ثابت کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ کے صحابہ اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر لیتے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن جميل، حدثنا ابن المبارك، عن ابان بن تغلب، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام على المنبر استقبله اصحابه بوجوههم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہوا اسے پا لے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے، تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت کو بہت ہی مختصر بتایا
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان في الجمعة ساعة، لا يوافقها رجل مسلم، قايم يصلي، يسال الله فيها خيرا، الا اعطاه " . وقللها بيده
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہو گی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " في يوم الجمعة ساعة من النهار، لا يسال الله فيها العبد شييا الا اعطي سوله " قيل: اى ساعة؟ قال " حين تقام الصلاة الى الانصراف منها
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پا لے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کیا کہ وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے، میں نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دن کی آخری ساعت ہے میں نے کہا: یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن سلام، قال قلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس انا لنجد في كتاب الله في يوم الجمعة ساعة لا يوافقها عبد مومن يصلي يسال الله فيها شييا الا قضى له حاجته . قال عبد الله فاشار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم او بعض ساعة . فقلت صدقت، او بعض ساعة . قلت: اى ساعة هي؟ قال: " هي اخر ساعة من ساعات النهار " قلت: انها ليست ساعة صلاة . قال: " بلى. ان العبد المومن اذا صلى ثم جلس، لا يحبسه الا الصلاة، فهو في صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد، دو رکعت فجر سے پہلے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن سليمان الرازي، عن مغيرة بن زياد، عن عطاء، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ثابر على ثنتى عشرة ركعة من السنة، بني له بيت في الجنة. اربع قبل الظهر، وركعتين بعد الظهر، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں ۱؎، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا اسماعيل بن ابي خالد، عن المسيب بن رافع، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة بنت ابي سفيان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى في يوم وليلة ثنتى عشرة ركعة، بني له بيت في الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا: دو رکعت فجر سے پہلے، دو رکعت ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، غالباً آپ نے یہ بھی فرمایا: دو رکعت عصر سے پہلے، اور دو رکعت مغرب کے بعد، اور یہ بھی فرمایا: دو رکعت عشاء کے بعد ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن سليمان بن الاصبهاني، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى في يوم ثنتى عشرة ركعة بني له بيت في الجنة ركعتين قبل الفجر وركعتين قبل الظهر وركعتين بعد الظهر وركعتين - اظنه قال - قبل العصر وركعتين بعد المغرب - اظنه قال - وركعتين بعد العشاء الاخرة