Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اضاء الفجر صلى ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن انس بن سيرين، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الركعتين قبل الغداة كان الاذان باذنيه
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز فجر کی نماز کی خبر دے دی جاتی تو آپ نماز کے لیے اٹھنے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن حفصة بنت عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا نودي لصلاة الصبح ركع ركعتين خفيفتين قبل ان يقوم الى الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو دو رکعت پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا توضا صلى ركعتين ثم خرج الى الصلاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا الخليل بن عمرو ابو عمرو، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الركعتين عند الاقامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا مروان بن معاوية، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا في الركعتين قبل الفجر {قل يا ايها الكافرون} و {قل هو الله احد}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد»پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن سنان، ومحمد بن عبادة الواسطيان، قالا حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال رمقت النبي صلى الله عليه وسلم شهرا فكان يقرا في الركعتين قبل الفجر {قل يا ايها الكافرون} و {قل هو الله احد}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک: «قل هو الله أحد»دوسری «قل يا أيها الكافرون»۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا الجريري، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي ركعتين قبل الفجر وكان يقول " نعم السورتان هما يقرا بهما في ركعتى الفجر {قل هو الله احد} و {قل يا ايها الكافرون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی ۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ازهر بن القاسم، ح وحدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا روح بن عبادة، قالا حدثنا زكريا بن اسحاق، عن عمرو بن دينار، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقيمت الصلاة، فلا صلاة الا المكتوبة " . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عمرو بن دينار، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم، عن عبد الله بن سرجس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يصلي الركعتين قبل صلاة الغداة وهو في الصلاة فلما صلى قال له: " باى صلاتيك اعتددت؟
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے ۱؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن حفص بن عاصم، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم برجل وقد اقيمت صلاة الصبح وهو يصلي فكلمه بشىء لا ادري ما هو فلما انصرف احطنا به نقول له ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال لي " يوشك احدكم ان يصلي الفجر اربعا
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟ ، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا سعد بن سعيد، حدثني محمد بن ابراهيم، عن قيس بن عمرو، قال راى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اصلاة الصبح مرتين؟ " . فقال له الرجل اني لم اكن صليت الركعتين اللتين قبلها فصليتهما . قال فسكت النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا مروان بن معاوية، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نام عن ركعتى الفجر. فقضاهما بعد ما طلعت الشمس
قابوس اپنے والد (ابوظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( یہ پوچھنے کے لیے ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان سنتوں میں سے ) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن قابوس، عن ابيه، قال ارسل ابي الى عايشة اى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كان احب اليه ان يواظب عليها؟ قالت: كان يصلي اربعا قبل الظهر. يطيل فيهن القيام، ويحسن فيهن الركوع والسجود
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن عبيدة بن معتب الضبي، عن ابراهيم، عن سهم بن منجاب، عن قزعة، عن قرثع، عن ابي ايوب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر اربعا اذا زالت الشمس لا يفصل بينهن بتسليم وقال " ان ابواب السماء تفتح اذا زالت الشمس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے
حدثنا محمد بن يحيى، وزيد بن اخزم، ومحمد بن معمر، قالوا حدثنا موسى بن داود الكوفي، حدثنا قيس بن الربيع، عن شعبة، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا فاتته الاربع قبل الظهر صلاها بعد الركعتين بعد الظهر. قال ابو عبد الله لم يحدث به الا قيس عن شعبة
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، قال ارسل معاوية الى ام سلمة فانطلقت مع الرسول فسال ام سلمة فقالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو يتوضا في بيتي للظهر وكان قد بعث ساعيا وكثر عنده المهاجرون وكان قد اهمه شانهم اذ ضرب الباب فخرج اليه فصلى الظهر ثم جلس يقسم ما جاء به . قالت فلم يزل كذلك حتى العصر . ثم دخل منزلي فصلى ركعتين ثم قال " اشغلني امر الساعي ان اصليهما بعد الظهر فصليتهما بعد العصر
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا محمد بن عبد الله الشعيثي، عن ابيه، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى قبل الظهر اربعا، وبعدها اربعا، حرمه الله على النار
عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کر سکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کر سکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے، ۱؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے، ۲؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، وابي، واسراييل، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة السلولي، قال سالنا عليا عن تطوع، رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنهار فقال انكم لا تطيقونه فقلنا اخبرنا به ناخذ منه ما استطعنا . قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر يمهل حتى اذا كانت الشمس من هاهنا - يعني من قبل المشرق - بمقدارها من صلاة العصر من ها هنا - يعني من قبل المغرب - قام فصلى ركعتين. ثم يمهل حتى اذا كانت الشمس من ها هنا - يعني من قبل المشرق - مقدارها من صلاة الظهر من ها هنا قام فصلى اربعا. واربعا قبل الظهر اذا زالت الشمس. وركعتين بعدها. واربعا قبل العصر. يفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملايكة المقربين والنبيين. ومن تبعهم من المسلمين والمومنين . قال علي: فتلك ست عشرة ركعة. تطوع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنهار. وقل من يداوم عليها . قال وكيع: زاد فيه ابي: فقال حبيب بن ابي ثابت: يا ابا اسحاق ما احب ان لي بحديثك هذا ملء مسجدك هذا ذهبا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: اس کے لیے جو چاہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، ووكيع، عن كهمس، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن عبد الله بن مغفل، قال قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " بين كل اذانين صلاة " . قالها ثلاثا قال في الثالثة " لمن شاء