Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں ۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، حدثنا ضبارة بن عبد الله بن ابي السليل، اخبرني دويد بن نافع، عن الزهري، قال قال سعيد بن المسيب ان ابا قتادة بن ربعي اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله عز وجل افترضت على امتك خمس صلوات وعهدت عندي عهدا انه من حافظ عليهن لوقتهن ادخلته الجنة ومن لم يحافظ عليهن فلا عهد له عندي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔
حدثنا ابو مصعب المديني، احمد بن ابي بكر حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن رباح، وعبيد الله بن ابي عبد الله، عن ابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه. الا المسجد الحرام " . حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، حدثنا زكريا بن عدي، انبانا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الكريم، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي افضل من الف صلاة فيما سواه. الا المسجد الحرام. وصلاة في المسجد الحرام افضل من ماية الف صلاة فيما سواه
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا ۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله الرقي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ثور بن يزيد، عن زياد بن ابي سودة، عن اخيه، عثمان بن ابي سودة عن ميمونة، مولاة النبي صلى الله عليه وسلم قالت قلت يا رسول الله افتنا في بيت المقدس . قال " ارض المحشر والمنشر ايتوه فصلوا فيه فان صلاة فيه كالف صلاة في غيره " . قلت ارايت ان لم استطع ان اتحمل اليه قال " فتهدي له زيتا يسرج فيه فمن فعل ذلك فهو كمن اتاه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن الجهم الانماطي، حدثنا ايوب بن سويد، عن ابي زرعة السيباني، يحيى بن ابي عمرو حدثنا عبد الله بن الديلمي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لما فرغ سليمان بن داود من بناء بيت المقدس سال الله ثلاثا حكما يصادف حكمه وملكا لا ينبغي لاحد من بعده والا ياتي هذا المسجد احد لا يريد الا الصلاة فيه الا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه " . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما اثنتان فقد اعطيهما وارجو ان يكون قد اعطي الثالثة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الاقصى
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن شعيب، حدثنا يزيد بن ابي مريم، عن قزعة، عن ابي سعيد، وعبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد الى المسجد الحرام والى المسجد الاقصى والى مسجدي هذا
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبد الحميد بن جعفر، حدثنا ابو الابرد، مولى بني خطمة انه سمع اسيد بن ظهير الانصاري، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " صلاة في مسجد قباء كعمرة
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، وعيسى بن يونس، قالا حدثنا محمد بن سليمان الكرماني، قال سمعت ابا امامة بن سهل بن حنيف، يقول قال سهل بن حنيف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تطهر في بيته، ثم اتى مسجد قباء، فصلى فيه صلاة، كان له كاجر عمرة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا ابو الخطاب الدمشقي، حدثنا رزيق ابو عبد الله الالهاني، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الرجل في بيته بصلاة وصلاته في مسجد القبايل بخمس وعشرين صلاة وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمسماية صلاة وصلاة في المسجد الاقصى بخمسين الف صلاة وصلاة في مسجدي بخمسين الف صلاة وصلاة في المسجد الحرام بماية الف صلاة
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے ) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله الرقي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى جذع اذ كان المسجد عريشا وكان يخطب الى ذلك الجذع فقال رجل من اصحابه هل لك ان نجعل لك شييا تقوم عليه يوم الجمعة حتى يراك الناس وتسمعهم خطبتك قال " نعم " . فصنع له ثلاث درجات فهي التي على المنبر فلما وضع المنبر وضعوه في موضعه الذي هو فيه فلما اراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقوم الى المنبر مر الى الجذع الذي كان يخطب اليه فلما جاوز الجذع خار حتى تصدع وانشق فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم لما سمع صوت الجذع فمسحه بيده حتى سكن ثم رجع الى المنبر فكان اذا صلى صلى اليه فلما هدم المسجد وغير اخذ ذلك الجذع ابى بن كعب وكان عنده في بيته حتى بلي فاكلته الارضة وعاد رفاتا
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا بهز بن اسد، حدثنا حماد بن سلمة، عن عمار بن ابي عمار، عن ابن عباس، . وعن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخطب الى جذع فلما اتخذ المنبر ذهب الى المنبر فحن الجذع فاتاه فاحتضنه فسكن . فقال " لو لم احتضنه لحن الى يوم القيامة
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي حازم، قال اختلف الناس في منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم من اى شىء هو فاتوا سهل بن سعد فسالوه فقال ما بقي احد من الناس اعلم به مني هو من اثل الغابة عمله فلان مولى فلانة نجار فجاء به فقام عليه حين وضع فاستقبل القبلة وقام الناس خلفه فقرا ثم ركع ثم رفع راسه فرجع القهقرى حتى سجد بالارض ثم عاد الى المنبر فقرا ثم ركع فقام ثم رجع القهقرى حتى سجد بالارض
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابن ابي عدي، عن سليمان التيمي، عن ابي نضرة، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم في اصل شجرة - او قال الى جذع - ثم اتخذ منبرا . قال فحن الجذع - قال جابر - حتى سمعه اهل المسجد حتى اتاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسحه فسكن . فقال بعضهم لو لم ياته لحن الى يوم القيامة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، ( راوی ابووائل کہتے ہیں: ) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال صليت ذات ليلة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يزل قايما حتى هممت بامر سوء . قلت وما ذاك الامر قال هممت ان اجلس واتركه
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زياد بن علاقة، سمع المغيرة، يقول قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه . فقيل يا رسول الله قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر . قال " افلا اكون عبدا شكورا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۱؎۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، محمد بن يزيد حدثنا يحيى بن يمان، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي حتى تورمت قدماه فقيل له ان الله قد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر . قال " افلا اكون عبدا شكورا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم اى الصلاة افضل قال " طول القنوت
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، وعبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقيان، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن كثير بن مرة، ان ابا فاطمة، حدثه قال قلت يا رسول الله اخبرني بعمل، استقيم عليه واعمله . قال " عليك بالسجود فانك لا تسجد لله سجدة الا رفعك الله بها درجة وحط بها عنك خطيية