Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز استخارہ سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے، تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر ( پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے ) خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو خيرا لي في عاجل أمري وآجله- فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه وإن كنت تعلم ( پھر ویسا ہی کہے جیسے پہلی بار کہا ) ، وإن كان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما كان ثم رضني به» اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کی مدد سے قوت کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام ( جس کا میں قصد رکھتا ہوں ) میرے لیے میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کار میں ۱؎ بہتر ہے، تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، اور میرے لیے اس میں برکت دے، اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے ( ویسے ہی کہے جیسا کہ پہلی بار کہا تھا ) تو اس کو مجھ سے پھیر دے، اور مجھ کو اس سے پھیر دے، اور میرے لیے خیر مقدر کر دے، جہاں بھی ہو، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دے ۲؎۔
حدثنا احمد بن يوسف السلمي، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموال، قال سمعت محمد بن المنكدر، يحدث عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة كما يعلمنا السورة من القران يقول " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم اني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك واسالك من فضلك العظيم فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب اللهم ان كنت تعلم هذا الامر - فيسميه ما كان من شىء - خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري - او خيرا لي في عاجل امري واجله - فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه وان كنت تعلم - يقول مثل ما قال في المرة الاولى - وان كان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما كان ثم رضني به
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها» کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم ( کرم والا ) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے ۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا ابو عاصم العباداني، عن فايد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن ابي اوفى الاسلمي، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من كانت له حاجة الى الله او الى احد من خلقه فليتوضا وليصل ركعتين ثم ليقل لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم اني اسالك موجبات رحمتك وعزايم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل اثم اسالك الا تدع لي ذنبا الا غفرته ولا هما الا فرجته ولا حاجة هي لك رضا الا قضيتها لي ثم يسال الله من امر الدنيا والاخرة ما شاء فانه يقدر
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں، اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجئیے، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے، اور دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما ۔ ابواسحاق نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منصور بن سيار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي جعفر المدني، عن عمارة بن خزيمة بن ثابت، عن عثمان بن حنيف، ان رجلا، ضرير البصر اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ادع الله لي ان يعافيني . فقال " ان شيت اخرت لك وهو خير وان شيت دعوت " . فقال ادعه . فامره ان يتوضا فيحسن وضوءه ويصلي ركعتين ويدعو بهذا الدعاء " اللهم اني اسالك واتوجه اليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد اني قد توجهت بك الى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ چار رکعت پڑھیے، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہو جائے تو«سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر»پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر سجدہ کیجئیے، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، تو ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو ( ۳۰۰ ) مرتبہ ہوئے، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے یہاں تک کہ فرمایا: سال میں ایک بار پڑھ لے ۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن ابو عيسى المسروقي، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا موسى بن عبيدة، حدثني سعيد بن ابي سعيد، مولى ابي بكر بن عمرو بن حزم عن ابي رافع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس " يا عم الا احبوك الا انفعك الا اصلك " قال بلى يا رسول الله . قال " تصلي اربع ركعات تقرا في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فاذا انقضت القراءة فقل سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر خمس عشرة مرة قبل ان تركع ثم اركع فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا قبل ان تقوم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاثماية في اربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل رمل عالج غفرها الله لك " . قال يا رسول الله ومن لم يستطع يقولها في يوم قال " قلها في جمعة فان لم تستطع فقلها في شهر " . حتى قال " فقلها في سنة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، جانے اور انجانے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے، وہ دس خصلتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ«سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوا، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم النيسابوري، حدثنا موسى بن عبد العزيز، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بن عبد المطلب " يا عباس يا عماه الا اعطيك الا امنحك الا احبوك الا افعل لك عشر خصال اذا انت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك اوله واخره وقديمه وحديثه وخطاه وعمده وصغيره وكبيره وسره وعلانيته عشر خصال ان تصلي اربع ركعات تقرا في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فاذا فرغت من القراءة في اول ركعة قلت وانت قايم سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقول وانت راكع عشرا ثم ترفع راسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وانت ساجد عشرا ثم ترفع راسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع راسك من السجود فتقولها عشرا فذلك خمسة وسبعون في كل ركعة تفعل في اربع ركعات ان استطعت ان تصليها في كل يوم مرة فافعل فان لم تستطع ففي كل جمعة مرة فان لم تفعل ففي كل شهر مرة فان لم تفعل ففي عمرك مرة
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی ( کسی بیماری یا مصیبت میں ) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟ ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، انبانا ابن ابي سبرة، عن ابراهيم بن محمد، عن معاوية بن عبد الله بن جعفر، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها . فان الله ينزل فيها لغروب الشمس الى سماء الدنيا فيقول الا من مستغفر فاغفر له الا مسترزق فارزقه الا مبتلى فاعافيه الا كذا الا كذا حتى يطلع الفجر
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں ) نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے۔ ( جب مجھے دیکھا تو ) فرمایا: عائشہ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا ( شاید ) آپ اپنی کسی ( اور ) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ ( لوگوں ) کو معاف فرما دیتا ہے ۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي، ومحمد بن عبد الملك ابو بكر، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حجاج، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عن عايشة، قالت فقدت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فخرجت اطلبه فاذا هو بالبقيع رافع راسه الى السماء فقال " يا عايشة اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله " . قالت قد قلت وما بي ذلك ولكني ظننت انك اتيت بعض نسايك . فقال " ان الله تعالى ينزل ليلة النصف من شعبان الى السماء الدنيا فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات ( اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور ( مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
حدثنا راشد بن سعيد بن راشد الرملي، حدثنا الوليد، عن ابن لهيعة، عن الضحاك بن ايمن، عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب، عن ابي موسى الاشعري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليطلع في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه الا لمشرك او مشاحن " . حدثنا محمد بن اسحاق، حدثنا ابو الاسود النضر بن عبد الجبار، حدثنا ابن لهيعة، عن الزبير بن سليم، عن الضحاك بن عبد الرحمن، عن ابيه، قال سمعت ابا موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا سلمة بن رجاء، حدثتني شعثاء، عن عبد الله بن ابي اوفى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم بشر براس ابي جهل ركعتين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح المصري، انبانا ابي، انبانا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عمرو بن الوليد بن عبدة السهمي، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم بشر بحاجة فخر ساجدا
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال لما تاب الله عليه خر ساجدا
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي، واحمد بن يوسف السلمي، قالا حدثنا ابو عاصم، عن بكار بن عبد العزيز بن عبد الله بن ابي بكرة، عن ابيه، عن ابي بكرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اتاه امر يسره او يسر به خر ساجدا شكرا لله تبارك وتعالى
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے ، مسعر کی روایت میں ہے: پھر نماز پڑھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ونصر بن علي، قالا حدثنا وكيع، حدثنا مسعر، وسفيان، عن عثمان بن المغيرة الثقفي، عن علي بن ربيعة الوالبي، عن اسماء بن الحكم الفزاري، عن علي بن ابي طالب، قال كنت اذا سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا ينفعني الله بما شاء منه واذا حدثني عنه غيره استحلفته فاذا حلف صدقته وان ابا بكر حدثني وصدق ابو بكر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل يذنب ذنبا فيتوضا فيحسن الوضوء ثم يصلي ركعتين - وقال مسعر ثم يصلي - ويستغفر الله الا غفر الله له
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل میں گئے ۱؎، لڑائی نہیں ہوئی، ان لوگوں نے صرف مورچہ باندھا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے، اس وقت ابوایوب انصاری اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عاصم نے کہا: ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا، اور ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جو کوئی چاروں مسجدوں میں ۲؎ نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، ابوایوب نے کہا: میرے بھتیجے! کیا میں تمہیں اس سے آسان بات نہ بتاؤں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی وضو کرے جیسا حکم دیا گیا ہے، اور نماز پڑھے جس طرح حکم دیا گیا ہے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے پوچھا: ایسے ہی ہے نا عقبہ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن سفيان بن عبد الله، - اظنه - عن عاصم بن سفيان الثقفي، انهم غزوا غزوة السلاسل ففاتهم الغزو فرابطوا ثم رجعوا الى معاوية وعنده ابو ايوب وعقبة بن عامر فقال عاصم يا ابا ايوب فاتنا الغزو العام وقد اخبرنا انه من صلى في المساجد الاربعة غفر له ذنبه . فقال يا ابن اخي ادلك على ايسر من ذلك اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من توضا كما امر وصلى كما امر غفر له ما قدم من عمل " . اكذلك يا عقبة قال نعم
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ لوگوں نے کہا: کچھ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثني ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، حدثني صالح بن عبد الله بن ابي فروة، ان عامر بن سعد، اخبره قال سمعت ابان بن عثمان، يقول قال عثمان سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ارايت لو كان بفناء احدكم نهر يجري يغتسل فيه كل يوم خمس مرات ما كان يبقى من درنه " قال لا شىء . قال " فان الصلاة تذهب الذنوب كما يذهب الماء الدرن
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بدتہذیبی کر لی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا، بہرحال معاملہ زناکاری تک نہیں پہنچا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، اور یہ یاد کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے ( سورة هود: ۱۱۴ ) ، پھر اس شخص نے عرض کیا: کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اس شخص کے لیے جو اس پر عمل کرے ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن عبد الله بن مسعود، ان رجلا، اصاب من امراة يعني ما دون الفاحشة فلا ادري ما بلغ غير انه دون الزنا فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فانزل الله سبحانه {اقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين} فقال يا رسول الله الي هذه قال " لمن اخذ بها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ( معراج کی رات ) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کریں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ ( ادا کرنے میں ) پانچ وقت کی نمازیں ( شمار میں ) ہیں، جو ( ثواب میں ) پچاس نماز کے برابر ہیں، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فرض الله على امتي خمسين صلاة فرجعت بذلك . حتى اتي على موسى فقال موسى ماذا افترض ربك على امتك قلت فرض على خمسين صلاة . قال فارجع الى ربك فان امتك لا تطيق ذلك . فراجعت ربي فوضع عني شطرها فرجعت الى موسى فاخبرته فقال ارجع الى ربك فان امتك لا تطيق ذلك . فراجعت ربي فقال هي خمس وهي خمسون لا يبدل القول لدى . فرجعت الى موسى فقال ارجع الى ربك . فقلت قد استحييت من ربي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا ابو الوليد، حدثنا شريك، عن عبد الله بن عصم ابي علوان، عن ابن عباس، قال امر نبيكم صلى الله عليه وسلم بخمسين صلاة فنازل ربكم ان يجعلها خمس صلوات
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، عن المخدجي، عن عبادة بن الصامت، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خمس صلوات افترضهن الله على عباده فمن جاء بهن لم ينتقص منهن شييا استخفافا بحقهن فان الله جاعل له يوم القيامة عهدا ان يدخله الجنة ومن جاء بهن قد انتقص منهن شييا استخفافا بحقهن لم يكن له عند الله عهد ان شاء عذبه وان شاء غفر له
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی ، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جو چاہو پوچھو ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! ہاں ، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن سعيد المقبري، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، انه سمع انس بن مالك، يقول بينما نحن جلوس في المسجد دخل رجل على رحل فاناخه في المسجد ثم عقله ثم قال لهم ايكم محمد ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكي بين ظهرانيهم . قال فقالوا هذا الرجل الابيض المتكي . فقال له الرجل يا ابن عبد المطلب . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " قد اجبتك " . فقال له الرجل يا محمد اني سايلك ومشدد عليك في المسالة فلا تجدن على في نفسك . فقال " سل ما بدا لك " . قال له الرجل نشدتك بربك ورب من قبلك الله ارسلك الى الناس كلهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك بالله الله امرك ان تصلي الصلوات الخمس في اليوم والليلة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك بالله الله امرك ان تصوم هذا الشهر من السنة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . قال فانشدك بالله الله امرك ان تاخذ هذه الصدقة من اغنياينا فتقسمها على فقراينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم نعم " . فقال الرجل امنت بما جيت به وانا رسول من ورايي من قومي . وانا ضمام بن ثعلبة اخو بني سعد بن بكر