Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوئے، وہ کہتے ہیں: میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے، پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی، پھر لیٹ گئے، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز ( فجر ) کے لیے نکل گئے۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا مالك بن انس، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، اخبره انه، نام عند ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم - وهي خالته - قال فاضطجعت في عرض الوسادة واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها فنام النبي صلى الله عليه وسلم حتى اذا انتصف الليل او قبله بقليل او بعده بقليل استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يمسح النوم عن وجهه بيده ثم قرا العشر ايات من اخر سورة ال عمران ثم قام الى شن معلقة فتوضا منها فاحسن وضوءه ثم قام يصلي . قال عبد الله بن عباس فقمت فصنعت مثل ما صنع ثم ذهبت فقمت الى جنبه فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على راسي واخذ اذني اليمنى يفتلها فصلى ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم اوتر . ثم اضطجع حتى جاءه الموذن فصلى ركعتين خفيفتين ثم خرج الى الصلاة
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام ۱؎ میں نے پوچھا: کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں رات کی درمیانی ساعت ( گھڑی ) ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالوا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن يزيد بن طلق، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن عبسة، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت يا رسول الله من اسلم معك قال " حر وعبد " . قلت هل من ساعة اقرب الى الله من اخرى قال " نعم جوف الليل الاوسط
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام اول الليل ويحيي اخره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت اخیر کی تہائی رات رہ جاتی ہے تو ہمارا رب جو کہ برکت والا اور بلند ہے، ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور فرماتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے ، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اخیر رات میں عبادت کرنا بہ نسبت اول رات کے پسند کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني ويعقوب بن حميد بن كاسب قالا حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ربنا تبارك وتعالى، حين يبقى ثلث الليل الاخر، كل ليلة، فيقول: من يسالني فاعطيه؟ من يدعوني فاستجيب له؟ من يستغفرني فاغفر له؟ حتى يطلع الفجر " . فلذلك كانوا يستحبون صلاة اخر الليل على اوله
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ مہلت دیتا ہے ( اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں ) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو فرماتا ہے: میرے بندے! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا، میں اسے بخش دوں گا، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن رفاعة الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يمهل حتى اذا ذهب من الليل نصفه او ثلثاه قال لا يسالن عبادي غيري من يدعني استجب له من يسالني اعطه من يستغفرني اغفر له حتى يطلع الفجر
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی ۱؎۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا حفص بن غياث، واسباط بن محمد، قالا حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن علقمة، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايتان من اخر سورة البقرة من قراهما في ليلة كفتاه " . قال حفص في حديثه قال عبد الرحمن فلقيت ابا مسعود وهو يطوف فحدثني به
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں ایک رات میں پڑھیں، تو وہ دونوں اسے کافی ہوں گی ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابي مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قرا الايتين من اخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہو گی کہ وہ استغفار کر رہا ہے، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، ح وحدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، جميعا عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا نعس احدكم فليرقد حتى يذهب عنه النوم فانه لا يدري اذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے ۱؎۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فراى حبلا ممدودا بين ساريتين فقال " ما هذا الحبل؟ " . قالوا لزينب تصلي فيه فاذا فترت تعلقت به . فقال " حلوه. حلوه. ليصل احدكم نشاطه. فاذا فتر فليقعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر ( نیند کے غلبے کی وجہ سے ) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن ابي بكر بن يحيى بن النضر، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام احدكم من الليل، فاستعجم القران على لسانه، فلم يدر ما يقول، اضطجع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يعقوب بن الوليد المديني، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى بين المغرب والعشاء عشرين ركعة بنى الله له بيتا في الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں، اور بیچ میں زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالی، تو اس کی یہ نماز بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائے گی ۔
حدثنا علي بن محمد، وابو عمر حفص بن عمر قالا حدثنا زيد بن الحباب، حدثني عمر بن ابي خثعم اليمامي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى ست ركعات بعد المغرب لم يتكلم بينهن بسوء عدلت له عبادة اثنتى عشرة سنة
عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے چلے، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: عراق سے، پوچھا: کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا: تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن طارق، عن عاصم بن عمرو، قال خرج نفر من اهل العراق الى عمر فلما قدموا عليه قال لهم ممن انتم قالوا من اهل العراق . قال فباذن جيتم قالوا نعم . قال فسالوه عن صلاة الرجل في بيته . فقال عمر سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اما صلاة الرجل في بيته فنور فنوروا بيوتكم " . حدثنا محمد بن ابي الحسين، حدثنا عبد الله بن جعفر، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن ابي انيسة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن عمرو، عن عمير، مولى عمر بن الخطاب عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کر لے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى احدكم صلاته فليجعل لبيته منها نصيبا فان الله جاعل في بيته من صلاته خيرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎۔
حدثنا زيد بن اخزم، وعبد الرحمن بن عمر، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تتخذوا بيوتكم قبورا
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن حرام بن معاوية، عن عمه عبد الله بن سعد، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ايما افضل الصلاة في بيتي او الصلاة في المسجد قال " الا ترى الى بيتي ما اقربه من المسجد فلان اصلي في بيتي احب الى من ان اصلي في المسجد الا ان تكون صلاة مكتوبة
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) کے متعلق پوچھا اور اس وقت لوگ ( صحابہ ) بہت تھے، لیکن ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی، ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا نے یہ مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت پڑھی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، قال سالت في زمن عثمان بن عفان والناس متوافرون - او متوافون - عن صلاة الضحى، فلم اجد احدا يخبرني انه صلاها - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - غير ام هاني فاخبرتني انه صلاها ثماني ركعات
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) بارہ رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وابو كريب قالا حدثنا يونس بن بكير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن موسى بن انس، عن ثمامة بن انس، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من صلى الضحى ثنتى عشرة ركعة بنى الله له قصرا من ذهب في الجنة
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، چار رکعت، اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ پڑھتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن يزيد الرشك، عن معاذة العدوية، قالت سالت عايشة اكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى قالت نعم اربعا ويزيد ما شاء الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز الضحی ( چاشت ) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن النهاس بن قهم، عن شداد ابي عمار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حافظ على شفعة الضحى غفرت له ذنوبه وان كانت مثل زبد البحر