Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا پورا وظیفہ ( ورد ) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد، وعبيد الله بن عبد الله، اخبراه عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن جزيه، او عن شىء منه، فقراه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر - كتب له كانما قراه من الليل
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا ۔
حدثنا هارون بن عبد الل��ه الحمال، حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن سليمان الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عبدة بن ابي لبابة، عن سويد بن غفلة، عن ابي الدرداء، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتى فراشه وهو ينوي ان يقوم فيصلي من الليل فغلبته عينه حتى يصبح - كتب له ما نوى وكان نومه صدقة عليه من ربه
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا ( بقرہ، آل عمران اور نساء ) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ( مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا ( یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل ) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا ( بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان ) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ( شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین ) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ( صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات ) ، اور ساتواں حزب مفصل کا ( سورۃ ق سے آخر قرآن تک ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى الطايفي، عن عثمان بن عبد الله بن اوس، عن جده، اوس بن حذيفة قال قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد ثقيف فنزلوا الاحلاف على المغيرة بن شعبة وانزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بني مالك في قبة له فكان ياتينا كل ليلة بعد العشاء فيحدثنا قايما على رجليه حتى يراوح بين رجليه واكثر ما يحدثنا ما لقي من قومه من قريش ويقول " ولا سواء كنا مستضعفين مستذلين فلما خرجنا الى المدينة كانت سجال الحرب بيننا وبينهم ندال عليهم ويدالون علينا " . فلما كان ذات ليلة ابطا عن الوقت الذي كان ياتينا فيه فقلت يا رسول الله لقد ابطات علينا الليلة . قال " انه طرا على حزبي من القران فكرهت ان اخرج حتى اتمه " . قال اوس فسالت اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف تحزبون القران قالوا ثلاث وخمس وسبع وتسع واحدى عشرة وثلاث عشرة وحزب المفصل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن يحيى بن حكيم بن صفوان، عن عبد الله بن عمرو، قال جمعت القران فقراته كله في ليلة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني اخشى ان يطول عليك الزمان وان تمل فاقراه في شهر " . فقلت دعني استمتع من قوتي وشبابي . قال " فاقراه في عشرة " . قلت دعني استمتع من قوتي وشبابي . قال " فاقراه في سبع " . قلت دعني استمتع من قوتي وشبابي . فابى
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لم يفقه من قرا القران في اقل من ثلاث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، حدثنا قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت لا اعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرا القران كله حتى الصباح
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا مسعر، عن ابي العلاء، عن يحيى بن جعدة، عن ام هاني بنت ابي طالب، قالت كنت اسمع قراءة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل وانا على عريشي
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے ( سورة المائدة: 118 ) ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن قدامة بن عبد الله، عن جسرة بنت دجاجة، قالت سمعت ابا ذر، يقول قام النبي صلى الله عليه وسلم باية حتى اصبح يرددها والاية {ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفر لهم فانك انت العزيز الحكيم}
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن المستورد بن الاحنف، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى فكان اذا مر باية رحمة سال واذا مر باية عذاب استجار واذا مر باية فيها تنزيه لله سبح
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن هاشم، عن ابن ابي ليلى، عن ثابت، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ليلى، قال صليت الى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي من الليل تطوعا فمر باية عذاب فقال " اعوذ بالله من النار وويل لاهل النار
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا جرير بن حازم، عن قتادة، قال سالت انس بن مالك عن قراءة النبي، صلى الله عليه وسلم فقال كان يمد صوته مدا
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ؟ انہوں نے کہا: کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن برد بن سنان، عن عبادة بن نسى، عن غضيف بن الحارث، قال اتيت عايشة فقلت اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجهر بالقران او يخافت به قالت ربما جهر وربما خافت . قلت الله اكبر الحمد لله الذي جعل في هذا الامر سعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا مالک ہے، تیری حمد و ثناء ہے، تو برحق ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات برحق ہے، تیری بات سچی ہے، جنت و جہنم برحق ہیں، قیامت برحق ہے، انبیاء برحق ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، اے اللہ! میں نے تیرے آگے گردن جھکائی، اور تجھ پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی دلیلوں سے لڑا، اور تیری ہی طرف انصاف کے لیے آیا، تو میرے اگلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے، تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور تیرے سوا کسی کا زور اور طاقت نہیں
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا تهجد من الليل قال " اللهم لك الحمد انت نور السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت قيام السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت مالك السموات والارض ومن فيهن ولك الحمد انت الحق ووعدك حق ولقاوك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك اسلمت وبك امنت وعليك توكلت واليك انبت وبك خاصمت واليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت المقدم وانت الموخر لا اله الا انت ولا اله غيرك ولا حول ولا قوة الا بك " . حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا سليمان بن ابي مسلم الاحول، خال ابن ابي نجيح سمع طاوسا، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام من الليل للتهجد . فذكر نحوه
(عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، حدثني ازهر بن سعيد، عن عاصم بن حميد، قال سالت عايشة ماذا كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح به قيام الليل قالت لقد سالتني عن شىء ما سالني عنه احد قبلك كان يكبر عشرا ويحمد عشرا ويسبح عشرا ويستغفر عشرا ويقول " اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني " . ويتعوذ من ضيق المقام يوم القيامة
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمر، حدثنا عمر بن يونس اليمامي، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال سالت عايشة بما كان يستفتح النبي صلى الله عليه وسلم صلاته اذا قام من الليل قالت كان يقول " اللهم رب جبرييل وميكاييل واسرافيل فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق باذنك انك لتهدي الى صراط مستقيم " . قال عبد الرحمن بن عمر احفظوه جبرييل مهموزة فانه كذا عن النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، - وهذا حديث ابي بكر - قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي ما بين ان يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر احدى عشرة ركعة يسلم في كل اثنتين ويوتر بواحدة ويسجد فيهن سجدة بقدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه فاذا سكت الموذن من الاذان الاول من صلاة الصبح قام فركع ركعتين خفيفتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل تسع ركعات
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت ( تہجد کی ہوتی ) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون ابو عبيد المديني، حدثنا ابي، عن محمد بن جعفر، عن موسى بن عقبة، عن ابي اسحاق، عن عامر الشعبي، قال سالت عبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل فقالا ثلاث عشرة ركعة منها ثمان ويوتر بثلاث وركعتين بعد الفجر
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔
حدثنا عبد السلام بن عاصم، حدثنا عبد الله بن نافع بن ثابت الزبيري، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، ان عبد الله بن قيس بن مخرمة، اخبره عن زيد بن خالد الجهني، قال قلت لارمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الليلة . قال فتوسدت عتبته او فسطاطه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ركعتين خفيفتين ثم ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين ثم ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم ركعتين ثم اوتر فتلك ثلاث عشرة ركعة