Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل ) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن رمح، انبانا ابن وهب، عن عياض بن عبد الله، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس عن ام هاني بنت ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح صلى سبحة الضحى ثماني ركعات سلم من كل ركعتين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام ہے ۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي سفيان السعدي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " في كل ركعتين تسليمة
مطلب بن ابی وداعہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے ( یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو ) اس کی نماز ناقص ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة بن سوار، حدثنا شعبة، حدثني عبد ربه بن سعيد، عن انس بن ابي انس، عن عبد الله بن نافع بن العمياء، عن عبد الله بن الحارث، عن المطلب، - يعني ابن ابي وداعة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى. وتشهد في كل ركعتين. وتباءس وتمسكن وتقنع. وتقول: اللهم اغفر لي. فمن لم يفعل ذلك، فهي خداج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان وقامه ايمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا مسلمة بن علقمة، عن داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي، عن جبير بن نفير الحضرمي، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شييا منه حتى بقي سبع ليال فقام بنا ليلة السابعة حتى مضى نحو من ثلث الليل ثم كانت الليلة السادسة التي تليها فلم يقمها حتى كانت الخامسة التي تليها ثم قام بنا حتى مضى نحو من شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه . فقال " انه من قام مع الامام حتى ينصرف فانه يعدل قيام ليلة " . ثم كانت الرابعة التي تليها فلم يقمها حتى كانت الثالثة التي تليها . قال فجمع نساءه واهله واجتمع الناس . قال فقام بنا حتى خشينا ان يفوتنا الفلاح . قيل وما الفلاح قال السحور . قال ثم لم يقم بنا شييا من بقية الشهر
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، وعبيد الله بن موسى، عن نصر بن علي الجهضمي، عن النضر بن شيبان، ح وحدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود، حدثنا نصر بن علي الجهضمي، والقاسم بن الفضل الحداني، كلاهما عن النضر بن شيبان، قال لقيت ابا سلمة بن عبد الرحمن فقلت حدثني بحديث، سمعته من، ابيك يذكره في شهر رمضان . قال نعم . حدثني ابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر شهر رمضان فقال " شهر كتب الله عليكم صيامه وسننت لكم قيامه فمن صامه وقامه ايمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعقد الشيطان على قافية راس احدكم بالليل بحبل فيه ثلاث عقد فان استيقظ فذكر الله انحلت عقدة فاذا قام فتوضا انحلت عقدة فاذا قام الى الصلاة انحلت عقده كلها فيصبح نشيطا طيب النفس قد اصاب خيرا وان لم يفعل اصبح كسلا خبيث النفس لم يصب خيرا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم رجل نام ليلة حتى اصبح قال " ذلك الشيطان بال في اذنيه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكن مثل فلان كان يقوم الليل فترك قيام الليل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا ۔
حدثنا زهير بن محمد، والحسن بن محمد بن الصباح، والعباس بن جعفر، ومحمد بن عمرو الحدثاني، قالوا حدثنا سنيد بن داود، حدثنا يوسف بن محمد بن المنكدر، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قالت ام سليمان بن داود لسليمان يا بنى لا تكثر النوم بالليل فان كثرة النوم بالليل تترك الرجل فقيرا يوم القيامة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا ۔
حدثنا اسماعيل بن محمد الطلحي، حدثنا ثابت بن موسى ابو يزيد، عن شريك، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كثرت صلاته بالليل حسن وجهه بالنهار
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وابن ابي عدي، وعبد الوهاب، ومحمد بن جعفر، عن عوف بن ابي جميلة، عن زرارة بن اوفى، عن عبد الله بن سلام، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة انجفل الناس اليه . وقيل قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم . فجيت في الناس لانظر اليه فلما استبنت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم عرفت ان وجهه ليس بوجه كذاب فكان اول شىء تكلم به ان قال " يا ايها الناس افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے ۱؎۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا شيبان ابو معاوية، عن الاعمش، عن علي بن الاقمر، عن الاغر، عن ابي سعيد، وابي، هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ الرجل من الليل وايقظ امراته فصليا ركعتين كتبا من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا ۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وايقظ امراته فصلت فان ابت رش في وجهها الماء رحم الله امراة قامت من الليل فصلت وايقظت زوجها فصلى فان ابى رشت في وجهه الماء
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو رافع، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الرحمن بن السايب، قال قدم علينا سعد بن ابي وقاص وقد كف بصره فسلمت عليه فقال من انت فاخبرته . فقال مرحبا بابن اخي بلغني انك حسن الصوت بالقران سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذا القران نزل بحزن فاذا قراتموه فابكوا فان لم تبكوا فتباكوا وتغنوا به فمن لم يتغن به فليس منا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا ۱؎۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حنظلة بن ابي سفيان، انه سمع عبد الرحمن بن سابط الجمحي، يحدث عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت ابطات على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة بعد العشاء ثم جيت فقال " اين كنت " . قلت كنت استمع قراءة رجل من اصحابك لم اسمع مثل قراءته وصوته من احد . قالت فقام وقمت معه حتى استمع له ثم التفت الى فقال " هذا سالم، مولى ابي حذيفة. الحمد لله الذي جعل في امتي مثل هذا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔
حدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا عبد الله بن جعفر المدني، حدثنا ابراهيم بن اسماعيل بن مجمع، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من احسن الناس صوتا بالقران، الذي اذا سمعتموه يقرا، حسبتموه يخشى الله
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے ۔
حدثنا راشد بن سعيد بن راشد الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا اسماعيل بن عبيد الله، عن ميسرة، مولى فضالة عن فضالة بن عبيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لله اشد اذنا الى الرجل الحسن الصوت بالقران يجهر به من صاحب القينة الى قينته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد فسمع قراءة رجل فقال " من هذا " . فقيل هذا عبد الله بن قيس . فقال " لقد اوتي هذا من مزامير ال داود
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، قال سمعت طلحة اليامي، قال سمعت عبد الرحمن بن عوسجة، قال سمعت البراء بن عازب، يحدث قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زينوا القران باصواتكم