Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو نعيم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عامر، عن قيس بن سعد، قال ما كان شىء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم الا وقد رايته الا شىء واحد فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقلس له يوم الفطر . قال ابو الحسن بن سلمة القطان حدثنا ابن ديزيل، حدثنا ادم، حدثنا شيبان، عن جابر، عن عامر، ح وحدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا اسراييل، عن جابر، عن عامر، ح وحدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا ابو نعيم، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن عامر، نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، قالا حدثنا الاوزاعي، اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغدو الى المصلى في يوم العيد والعنزة تحمل بين يديه فاذا بلغ المصلى نصبت بين يديه فيصلي اليها وذلك ان المصلى كان فضاء ليس فيه شىء يستتر به
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب ( میدان میں ) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى يوم عيد او غيره نصبت الحربة بين يديه فيصلي اليها والناس من خلفه . قال نافع فمن ثم اتخذها الامراء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔
حدثنا هارون بن سعيد الايلي، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى العيد بالمصلى مستترا بحربة
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو ( کیا کرے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نخرجهن في يوم الفطر والنحر . قال قالت ام عطية فقلنا ارايت احداهن لا يكون لها جلباب قال " فلتلبسها اختها من جلبابها
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ام عطية، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخرجوا العواتق وذوات الخدور ليشهدن العيد ودعوة المسلمين . وليجتنبن الحيض مصلى الناس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا حفص بن غياث، حدثنا حجاج بن ارطاة، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخرج بناته ونساءه في العيدين
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے پڑھے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا ابو احمد، حدثنا اسراييل، عن عثمان بن المغيرة، عن اياس بن ابي رملة الشامي، قال سمعت رجلا، سال زيد بن ارقم هل شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيدين في يوم قال نعم . قال فكيف كان يصنع قال صلى العيد ثم رخص في الجمعة ثم قال " من شاء ان يصلي فليصل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، حدثنا شعبة، حدثني مغيرة الضبي، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابي صالح، عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اجتمع عيدان في يومكم هذا فمن شاء اجزاه من الجمعة وانا مجمعون ان شاء الله " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يزيد بن عبد ربه، حدثنا بقية، حدثنا شعبة، عن مغيرة الضبي، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا مندل بن علي، عن عبد العزيز بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال اجتمع عيدان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس ثم قال " من شاء ان ياتي الجمعة فلياتها ومن شاء ان يتخلف فليتخلف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عيسى بن عبد الاعلى بن ابي فروة، قال سمعت ابا يحيى، عبيد الله التيمي يحدث عن ابي هريرة، قال اصاب الناس مطر في يوم عيد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بهم في المسجد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد، حدثنا نايل بن نجيح، حدثنا اسماعيل بن زياد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يلبس السلاح في بلاد الاسلام في العيدين الا ان يكونوا بحضرة العدو
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا حجاج بن تميم، عن ميمون بن مهران، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل يوم الفطر ويوم الاضحى
فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يوسف بن خالد، حدثنا ابو جعفر الخطمي، عن عبد الرحمن بن عقبة بن الفاكه بن سعد، عن جده الفاكه بن سعد، - وكانت له صحبة - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل يوم الفطر ويوم النحر ويوم عرفة وكان الفاكه يامر اهله بالغسل في هذه الايام
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد نماز الضحی ( چاشت کی نفل ) کا وقت ہوتا تھا ۱؎۔
حدثنا عبد الوهاب بن الضحاك، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا صفوان بن عمرو، عن يزيد بن خمير، عن عبد الله بن بسر، انه خرج مع الناس يوم فطر او اضحى فانكر ابطاء الامام وقال ان كنا لقد فرغنا ساعتنا هذه وذلك حين التسبيح
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن انس بن سيرين، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل مثنى مثنى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے ۱؎۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، وعن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، وعن ابن ابي لبيد، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، وعن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عمر، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال " يصلي مثنى مثنى. فاذا خاف الصبح اوتر بركعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ( نفل ) نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عثام بن علي، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل ركعتين ركعتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: رات اور دن کی ( نفل ) نماز دو دو رکعت ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، وابو بكر بن خلاد قالا حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، انه سمع عليا الازدي، يحدث انه سمع ابن عمر، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " صلاة الليل والنهار مثنى مثنى