Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں: «سبح اسم ربك الأعلى»اور«هل أتاك حديث الغاشية»پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا وكيع بن الجراح، حدثنا موسى بن عبيدة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا في العيدين ب {سبح اسم ربك الاعلى } و {هل اتاك حديث الغاشية}
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، عن اسماعيل بن ابي خالد، قال رايت ابا كاهل وكانت له صحبة فحدثني اخي، عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على ناقة وحبشي اخذ بخطامها
قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن عايذ، - هو ابو كاهل - قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على ناقة حسناء وحبشي اخذ بخطامها
نبیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سلمة بن نبيط، عن ابيه، انه حج فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على بعيره
سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد الموذن، حدثني ابي، عن ابيه، عن جده، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكبر بين اضعاف الخطبة يكثر التكبير في خطبة العيدين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، حدثنا داود بن قيس، عن عياض بن عبد الله، اخبرني ابو سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم العيد فيصلي بالناس ركعتين ثم يسلم فيقف على رجليه فيستقبل الناس وهم جلوس فيقول " تصدقوا تصدقوا " . فاكثر من يتصدق النساء بالقرط والخاتم والشىء فان كانت حاجة يريد ان يبعث بعثا ذكره لهم والا انصرف
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو بحر، حدثنا اسماعيل بن مسلم، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فطر او اضحى فخطب قايما ثم قعد قعدة ثم قام
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ہم نماز ادا کر چکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے ۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، وعمرو بن رافع البجلي، قالا حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبد الله بن السايب، قال حضرت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بنا العيد ثم قال " قد قضينا الصلاة. فمن احب ان يجلس للخطبة فليجلس. ومن احب ان يذهب فليذهب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، حدثني عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج فصلى بهم العيد لم يصل قبلها ولا بعدها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن الطايفي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يصل قبلها ولا بعدها في عيد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن جميل، عن عبيد الله بن عمرو الرقي، حدثنا عبد الله بن محمد بن عقيل، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبل العيد شييا فاذا رجع الى منزله صلى ركعتين
سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، حدثني ابي، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخرج الى العيد ماشيا ويرجع ماشيا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد الرحمن بن عبد الله العمري، عن ابيه، وعبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج الى العيد ماشيا ويرجع ماشيا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائیں
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال ان من السنة ان يمشي الى العيد
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن الخطاب، حدثنا مندل، عن محمد بن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ياتي العيد ماشيا
مؤذن رسول سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، اخبرني ابي، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج الى العيدين سلك على دارى سعيد بن ابي العاص ثم على اصحاب الفساطيط ثم انصرف في الطريق الاخرى طريق بني زريق ثم يخرج على دار عمار بن ياسر ودار ابي هريرة الى البلاط
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو قتيبة، حدثنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يخرج الى العيد في طريق ويرجع في اخرى ويزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا عبد العزيز بن الخطاب، حدثنا مندل، عن محمد بن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياتي العيد ماشيا ويرجع ماشيا في غير الطريق الذي ابتدا فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا ابو تميلة، عن فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث الزرقي، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج الى العيد رجع في غير الطريق الذي اخذ فيه
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا شريك، عن مغيرة، عن عامر، قال شهد عياض الاشعري عيدا بالانبار فقال مالي لا اراكم تقلسون كما كان يقلس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم