Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ نے لمبی قراءت کی، پھر «الله أكبر» کہا، اور دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد»کہا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «الله أكبر»کہا، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد»کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت كسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المسجد فقام فكبر فصف الناس وراءه فقرا رسول الله صلى الله عليه وسلم قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم قام فقرا قراءة طويلة هي ادنى من القراءة الاولى ثم كبر فركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول ثم قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم فعل في الركعة الاخرى مثل ذلك فاستكمل اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس قبل ان ينصرف ثم قام فخطب الناس فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله. لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته. فاذا رايتموهما فافزعوا الى الصلاة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے ہمیں گہن کی نماز پڑھائی، تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن الاسود بن قيس، عن ثعلبة بن عباد، عن سمرة بن جندب، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في الكسوف فلا نسمع له صوتا
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھائی، اور کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، اور کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جنت مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اگر میں جرات کرتا تو تمہارے پاس اس کے خوشوں ( گچھوں ) میں سے کوئی خوشہ ( گچھا ) لے کر آتا، اور جہنم بھی مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ میں نے کہا: اے رب! ( کیا لوگوں پر عذاب آ جائے گا ) جبکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ ۔ نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس کو اس کی بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ اس عورت نے اسے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی ۱؎۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا نافع بن عمر الجمحي، عن ابن ابي مليكة، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الكسوف فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم رفع ثم سجد فاطال السجود ثم انصرف فقال " لقد دنت مني الجنة حتى لو اجترات عليها لجيتكم بقطاف من قطافها ودنت مني النار حتى قلت اى رب وانا فيهم " . قال نافع حسبت انه قال " ورايت امراة تخدشها هرة لها فقلت ما شان هذه قالوا حبستها حتى ماتت جوعا لا هي اطعمتها ولا هي ارسلتها تاكل من خشاش الارض
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں، خشوع خضوع کے ساتھ، آہستہ رفتار سے، گڑگڑاتے ہوئے ( عید گاہ کی طرف ) روانہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، عن ابيه، قال ارسلني امير من الامراء الى ابن عباس اساله عن الصلاة، في الاستسقاء فقال ابن عباس ما منعه ان يسالني، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متواضعا متبذلا متخشعا مترسلا متضرعا فصلى ركعتين كما يصلي في العيد ولم يخطب خطبتكم هذه
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ کی جانب نماز استسقاء کے لیے نکلے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنی چادر کو پلٹا، اور دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، قال سمعت عباد بن تميم، يحدث ابي عن عمه، انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى المصلى ليستسقي فاستقبل القبلة وقلب رداءه وصلى ركعتين . حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عباد بن تميم، عن عمه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال سفيان عن المسعودي قال سالت ابا بكر بن محمد بن عمرو اجعل اعلاه اسفله او اليمين على الشمال قال لا بل اليمين على الشمال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کر لیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن الازهر، والحسن بن ابي الربيع، قالا حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت النعمان، يحدث عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما يستسقي فصلى بنا ركعتين بلا اذان ولا اقامة ثم خطبنا ودعا الله وحول وجهه نحو القبلة رافعا يديه ثم قلب رداءه فجعل الايمن على الايسر والايسر على الايمن
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئیے اور احتیاط برتئے، تو انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: «اللهم اسقنا غيثا مريئا مريعا طبقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار» اے اللہ! ہم پر اچھے انجام والی، سبزہ اگانے والی، زمین کو بھر دینے والی، جلد برسنے والی، تھم کر نہ برسنے والی، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابھی نماز جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول! مکانات گر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی«اللهم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن شرحبيل بن السمط، انه قال لكعب يا كعب بن مرة حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واحذر . قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله استسق الله فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه فقال " اللهم اسقنا غيثا مرييا مريعا طبقا عاجلا غير رايث نافعا غير ضار " . قال فما جمعوا حتى اجيبوا . قال فاتوه فشكوا اليه المطر فقالوا يا رسول الله تهدمت البيوت . فقال " اللهم حوالينا ولا علينا " . قال فجعل السحاب ينقطع يمينا وشمالا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جس کے کسی چرواہے کے پاس توشہ ( کھانے پینے کی چیزیں ) نہیں، اور کوئی بھی نر جانور ( کمزوری دور دبلے پن کی وجہ سے ) دم تک نہیں ہلاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر یوں دعا فرمائی: «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا طبقا مريعا غدقا عاجلا غير رائث» اے اللہ! ہمیں سیراب کر دینے والا، فائدہ دینے والا، ساری زمین پر برسنے والا، سبزہ اگانے والا، زور کا برسنے والا، جلد برسنے والا اور تھم کر نہ برسنے والا پانی نازل فرما ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر گئے، اس کے بعد جو بھی جس کسی سمت سے آتا وہ یہی کہتا کہ ہمیں زندگی عطا ہو گئی۔
حدثنا محمد بن ابي القاسم ابو الاحوص، حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا عبد الله بن ادريس، حدثنا حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله لقد جيتك من عند قوم ما يتزود لهم راع ولا يخطر لهم فحل . فصعد المنبر فحمد الله ثم قال " اللهم اسقنا غيثا مغيثا مرييا طبقا مريعا غدقا عاجلا غير رايث " . ثم نزل فما ياتيه احد من وجه من الوجوه الا قالوا قد احيينا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی۔ معتمر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء کے بارے میں ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا معتمر، عن ابيه، عن بركة، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسقى حتى رايت - او روي - بياض ابطيه . قال معتمر اراه في الاستسقاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پر نالہ میں پانی زور سے بہنے لگا، وہ شعر یہ ہے: وہ سفید فام شخصیت ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ۔ یہ ابوطالب کا کلام ہے۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو عقيل، عن عمر بن حمزة، حدثنا سالم، عن ابيه، قال ربما ذكرت قول الشاعر وانا انظر، الى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فما نزل حتى جيش كل ميزاب بالمدينة فاذكر قول الشاعر وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل وهو قول ابي طالب
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو ( بھی ) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن عطاء، قال سمعت ابن عباس، يقول اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم انه صلى قبل الخطبة ثم خطب فراى انه لم يسمع النساء فاتاهن فذكرهن ووعظهن وامرهن بالصدقة وبلال قايل بيديه هكذا فجعلت المراة تلقي الخرص والخاتم والشىء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوم العيد بغير اذان ولا اقامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( گورنر ) مروان عید کے دن ( عید گاہ ) منبر لے گئے، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت عمل کیا، عید کے دن منبر لے آئے، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن ابيه، عن ابي سعيد، وعن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي سعيد، قال اخرج مروان المنبر يوم العيد فبدا بالخطبة قبل الصلاة فقام رجل فقال يا مروان خالفت السنة اخرجت المنبر يوم عيد ولم يكن يخرج به وبدات بالخطبة قبل الصلاة ولم يكن يبدا بها . فقال ابو سعيد اما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راى منكرا فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده. فان لم يستطع فبلسانه. فان لم يستطع بلسانه، فبقلبه. وذلك اضعف الايمان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما عید کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا حوثرة بن محمد، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ثم ابو بكر ثم عمر يصلون العيد قبل الخطبة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن ابيه عن جده ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكبر في العيدين في الاولى سبعا قبل القراءة وفي الاخرة خمسا قبل القراءة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم كبر في صلاة العيد سبعا وخمسا
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔
حدثنا ابو مسعود، محمد بن عبد الله بن عبيد بن عقيل حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر في العيدين سبعا في الاولى وخمسا في الاخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر میں رکوع کی تکبیروں کے علاوہ سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن خالد بن يزيد، وعقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر في الفطر والاضحى سبعا وخمسا سوى تكبيرتى الركوع
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى»اور«هل أتاك حديث الغاشية»پڑھتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في العيدين ب {سبح اسم ربك الاعلى} و {هل اتاك حديث الغاشية}
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن نماز عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورۃ «قٓ» اور«اقتربت الساعۃ»۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن ضمرة بن سعيد، عن عبيد الله بن عبد الله، قال خرج عمر يوم عيد فارسل الى ابي واقد الليثي باى شىء كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في مثل هذا اليوم؟ قال ب {ق} واقتربت