Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ ( قبیلہ مضر پر ) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقنت في صلاة الصبح. يدعو على حى من احياء العرب، شهرا. ثم ترك
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال لما رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه من صلاة الصبح قال " اللهم انج الوليد بن الوليد، وسلمة بن هشام، وعياش بن ابي ربيعة، والمستضعفين بمكة. اللهم اشدد وطاتك على مضر، واجعلها عليهم سنين كسني يوسف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ضمضم بن جوس، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بقتل الاسودين في الصلاة العقرب والحية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو ۔
حدثنا احمد بن عثمان بن حكيم الاودي، والعباس بن جعفر، قالا حدثنا علي بن ثابت الدهان، حدثنا الحكم بن عبد الملك، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، قالت لدغت النبي صلى الله عليه وسلم عقرب وهو في الصلاة فقال " لعن الله العقرب ما تدع المصلي وغير المصلي اقتلوها في الحل والحرم
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں ایک بچھو کو مار ڈالا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن جميل، حدثنا مندل، عن ابن ابي رافع، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قتل عقربا وهو في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صلاتين عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغرب الشمس
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يعلى التيمي، عن عبد الملك بن عمير، عن قزعة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس ولا صلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی اچھے لوگوں نے گواہی دی، ان میں میرے نزدیک سب زیادہ اچھے شخص عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال شهد عندي رجال مرضيون فيهم عمر بن الخطاب وارضاهم عندي عمر ان ر سول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس ولا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: کیا کوئی وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرے وقت سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، رات کا بیچ کا حصہ، لہٰذا اس میں جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور جب تک وہ ڈھال کے مانند رہے رکے رہو یہاں تک کہ وہ پوری طرح روشن ہو جائے، پھر جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو یہاں تک کہ ستون کا اپنا اصلی سایہ رہ جائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ دوپہر کے وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، پھر عصر تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اس لیے کہ اس کا نکلنا اور ڈوبنا شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن يزيد بن طلق، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن عبسة، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت هل من ساعة احب الى الله من اخرى قال " نعم. جوف الليل الاوسط. فصل ما بدا لك حتى يطلع الصبح. ثم انته حتى تطلع الشمس، وما دامت كانها حجفة حتى تنتشر. ثم صل ما بدا لك حتى يقوم العمود على ظله. ثم انته حتى تزول الشمس فان جهنم تسجر نصف النهار. ثم صل ما بدا لك حتى تصلي العصر. ثم انته حتى تغرب الشمس، فانها تغرب بين قرنى الشيطان وتطلع بين قرنى الشيطان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھ رہا ہوں جسے آپ جانتے ہیں میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: رات اور دن میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، جب تم نماز فجر پڑھ لو تو نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، پھر نماز پڑھو اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی، یہاں تک کہ سورج سیدھے سر پہ نیزے کی طرح آ جائے تو نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، اور اس کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں ابرو سے ڈھل جائے، لہٰذا جب سورج ڈھل جائے ( تو نماز پڑھو ) اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی، یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر ( عصر کے بعد ) نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے ۔
حدثنا الحسن بن داود المنكدري، حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال سال صفوان بن المعطل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني سايلك عن امر انت به عالم وانا به جاهل . قال " وما هو " . قال هل من ساعات الليل والنهار ساعة تكره فيها الصلاة قال " نعم. اذا صليت الصبح، فدع الصلاة حتى تطلع الشمس. فانها تطلع بقرنى الشيطان. ثم صل فالصلاة محضورة متقبلة حتى تستوي الشمس على راسك كالرمح. فاذا كانت على راسك كالرمح فدع الصلاة. فان تلك الساعة تسجر فيها جهنم وتفتح فيها ابوابها. حتى تزيغ الشمس عن حاجبك الايمن. فاذا زالت فالصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر. ثم دع الصلاة حتى تغيب الشمس
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، یا فرمایا کہ سورج کے ساتھ وہ اس کی دونوں سینگیں نکلتی ہیں، جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے بیچ میں آتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، لہٰذا تم ان تین اوقات میں نماز نہ پڑھو ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي عبد الله الصنابحي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الشمس تطلع بين قرنى الشيطان او قال: يطلع معها قرنا الشيطان فاذا ارتفعت فارقها. فاذا كانت في وسط السماء قارنها. فاذا دلكت او قال: زالت فارقها. فاذا دنت للغروب قارنها. فاذا غربت فارقها. فلا تصلوا هذه الساعات الثلاث
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبدمناف! دن و رات کے جس وقت میں جو کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا یا نماز پڑھنا چاہے اسے نہ روکو ۱؎۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن عبد الله بن بابيه، عن جبير بن مطعم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بني عبد مناف لا تمنعوا احدا طاف بهذا البيت وصلى اية ساعة شاء من الليل والنهار
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے، جو نماز بے وقت پڑھیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نماز اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل ( سنت ) بنا لو ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلكم ستدركون اقواما يصلون الصلاة لغير وقتها. فان ادركتموهم فصلوا في بيوتكم للوقت الذي تعرفون. ثم صلوا معهم واجعلوها سبحة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز اس کے وقت پر پڑھو، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہو گئی، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صل الصلاة لوقتها. فان ادركت الامام يصلي بهم فصل معهم، وقد احرزت صلاتك. والا فهي نافلة لك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ( تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو ) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي المثنى، عن ابي ابى ابن امراة، عبادة بن الصامت يعني عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سيكون امراء تشغلهم اشياء يوخرون الصلاة عن وقتها فاجعلوا صلاتكم معهم تطوعا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی ( کیفیت ) کے بارے میں فرمایا: امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو نماز پڑھائے، اور وہ ایک رکعت ادا کریں، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان متعین رہے، پھر جس گروہ نے ایک رکعت اپنے امام کے ساتھ پڑھی وہ ہٹ کر اس جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے نماز نہیں پڑھی، اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے وہ آئیں، اور اپنے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں، اب امام تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے گا، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی ایک ایک رکعت پڑھیں، اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو، ( صف بندی نہ کر سکتے ہوں ) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لے ۱؎۔ راوی نے کہا کہ سجدہ سے مراد رکعت ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا جرير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الخوف " ان يكون الامام يصلي بطايفة معه فيسجدون سجدة واحدة وتكون طايفة منهم بينهم وبين العدو ثم ينصرف الذين سجدوا السجدة مع اميرهم ثم يكونون مكان الذين لم يصلوا ويتقدم الذين لم يصلوا فيصلوا مع اميرهم سجدة واحدة ثم ينصرف اميرهم وقد صلى صلاته ويصلي كل واحدة من الطايفتين بصلاته سجدة لنفسه فان كان خوف اشد من ذلك فرجالا او ركبانا " . قال يعني بالسجدة الركعة
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا: امام قبلہ رو کھڑا ہو، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لیے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کر کے دوسری رکعت پوری کریں، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے نماز پڑھائے، امام کی نماز دو رکعت ہوئی، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کر کے نماز پوری کر لیں ۱؎۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے «شعبة عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي حثمة» کے طریق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ً یحییٰ بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحییٰ کی حدیث کے ہم مثل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثني يحيى بن سعيد الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، انه قال في صلاة الخوف قال يقوم الامام مستقبل القبلة وتقوم طايفة منهم معه وطايفة من قبل العدو ووجوههم الى الصف فيركع بهم ركعة ويركعون لانفسهم ويسجدون لانفسهم سجدتين في مكانهم ثم يذهبون الى مقام اوليك ويجيء اوليك فيركع بهم ركعة ويسجد بهم سجدتين فهي له ثنتان ولهم واحدة ثم يركعون ركعة واحدة ويسجدون سجدتين . قال محمد بن بشار فسالت يحيى بن سعيد القطان عن هذا الحديث فحدثني عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن ابيه عن صالح بن خوات عن سهل بن ابي حثمة عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل حديث يحيى بن سعيد . قال قال لي يحيى اكتبه الى جنبه ولست احفظ الحديث ولكن مثل حديث يحيى
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے، پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی، جہاں یہ لوگ تھے، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی، اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى باصحابه صلاة الخوف فركع بهم جميعا ثم سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم والصف الذين يلونه والاخرون قيام حتى اذا نهض سجد اوليك بانفسهم سجدتين ثم تاخر الصف المقدم حتى قاموا مقام اوليك وتخلل اوليك حتى قاموا مقام الصف المقدم فركع بهم النبي صلى الله عليه وسلم جميعا ثم سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم والصف الذي يلونه فلما رفعوا رءوسهم سجد اوليك سجدتين فكلهم قد ركع مع النبي صلى الله عليه وسلم وسجدت طايفة بانفسهم سجدتين وكان العدو مما يلي القبلة
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد من الناس. فاذا رايتموه فقوموا فصلوا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج میں گہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور سورج روشن ہونے تک برابر نماز پڑھتے رہے، پھر فرمایا: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، بلکہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز پر اپنی تجلی کرتا ہے تو وہ عاجزی سے جھک جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، واحمد بن ثابت، وجميل بن الحسن، قالوا حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج فزعا يجر ثوبه حتى اتى المسجد فلم يزل يصلي حتى انجلت ثم قال " ان اناسا يزعمون ان الشمس والقمر لا ينكسفان الا لموت عظيم من العظماء وليس كذلك ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته فاذا تجلى الله لشىء من خلقه خشع له