Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابراهيم بن طهمان، عن حسين المعلم، عن ابن بريدة، عن عمران بن حصين، قال كان بي الناصور فسالت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة فقال " صل قايما. فان لم تستطع فقاعدا. فان لم تستطع، فعلى جنب
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، حدثنا اسحاق الازرق، عن سفيان، عن جابر، عن ابي حريز، عن وايل بن حجر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم صلى جالسا على يمينه وهو وجع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت والذي ذهب بنفسه صلى الله عليه وسلم ما مات حتى كان اكثر صلاته وهو جالس وكان احب الاعمال اليه العمل الصالح الذي يدوم عليه العبد وان كان يسيرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نفل نماز میں ) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن الوليد بن ابي هشام، عن ابي بكر بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا وهو قاعد فاذا اراد ان يركع قام قدر ما يقرا انسان اربعين اية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے ( پھر رکوع ) اور سجدے کرتے۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في شىء من صلاة الليل الا قايما حتى دخل في السن فجعل يصلي جالسا حتى اذا بقي عليه من قراءته اربعون اية او ثلاثون اية قام فقراها وسجد
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاذ بن معاذ، عن حميد، عن عبد الله بن شقيق العقيلي، قال سالت عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل فقالت كان يصلي ليلا طويلا قايما وليلا طويلا قاعدا فاذا قرا قايما ركع قايما واذا قرا قاعدا ركع قاعدا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا قطبة، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عبد الله بن باباه، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو يصلي جالسا فقال " صلاة الجالس على النصف من صلاة القايم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثني اسماعيل بن محمد بن سعد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج فراى اناسا يصلون قعودا فقال " صلاة القاعد على النصف من صلاة القايم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا يزيد بن زريع، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يصلي قاعدا قال " من صلى قايما فهو افضل. ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القايم. ومن صلى نايما فله نصف اجر القاعد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے ( ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے ) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ( تو بہتر ہو ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه - وقال ابو معاوية لما ثقل - جاء بلال يوذنه بالصلاة فقال " مروا ابا بكر فليصل بالناس " . قلنا يا رسول الله ان ابا بكر رجل اسيف - تعني رقيق - ومتى ما يقوم مقامك يبكي فلا يستطيع فلو امرت عمر فصلى بالناس . فقال " مروا ابا بكر فليصل بالناس فانكن صواحبات يوسف " . قالت فارسلنا الى ابي بكر فصلى بالناس فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة فخرج الى الصلاة يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض فلما احس به ابو بكر ذهب ليتاخر فاومى اليه النبي صلى الله عليه وسلم ان مكانك . قال فجاء حتى اجلساه الى جنب ابي بكر فكان ابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم والناس ياتمون بابي بكر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا بكر ان يصلي بالناس في مرضه فكان يصلي بهم فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم خفة فخرج واذا ابو بكر يوم الناس فلما راه ابو بكر استاخر فاشار اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم اى كما انت فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم حذاء ابي بكر الى جنبه فكان ابو بكر يصلي بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس يصلون بصلاة ابي بكر
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، انبانا عبد الله بن داود، من كتابه في بيته قال سلمة بن نبيط انبانا عن نعيم بن ابي هند عن نبيط بن شريط عن سالم بن عبيد قال اغمي على رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه ثم افاق فقال " احضرت الصلاة " . قالوا نعم . قال " مروا بلالا فليوذن ومروا ابا بكر فليصل بالناس - او للناس - " . ثم اغمي عليه فافاق فقال " احضرت الصلاة " . قالوا نعم . قال " مروا بلالا فليوذن ومروا ابا بكر فليصل بالناس " . ثم اغمي عليه فافاق فقال " احضرت الصلاة " . قالوا نعم . قال " مروا بلالا فليوذن ومروا ابا بكر فليصل بالناس " . فقالت عايشة ان ابي رجل اسيف فاذا قام ذلك المقام يبكي لا يستطيع فلو امرت غيره . ثم اغمي عليه فافاق فقال " مروا بلالا فليوذن ومروا ابا بكر فليصل بالناس فانكن صواحب يوسف او صواحبات يوسف " . قال فامر بلال فاذن وامر ابو بكر فصلى بالناس ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد خفة فقال " انظروا لي من اتكي عليه " . فجاءت بريرة ورجل اخر فاتكا عليهما فلما راه ابو بكر ذهب لينكص فاوما اليه ان اثبت مكانك ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جلس الى جنب ابي بكر حتى قضى ابو بكر صلاته ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض . قال ابو عبد الله هذا حديث غريب لم يحدث به غير نصر بن علي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمل اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ( رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو ، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ۱؎، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ( تو بہتر ہو ) ، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۲؎۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الارقم بن شرحبيل، عن ابن عباس، قال لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه كان في بيت عايشة . فقال " ادعوا لي عليا " . قالت عايشة يا رسول الله ندعو لك ابا بكر قال " ادعوه " . قالت حفصة يا رسول الله ندعو لك عمر قال " ادعوه " . قالت ام الفضل يا رسول الله ندعو لك العباس قال " نعم " . فلما اجتمعوا رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه فنظر فسكت فقال عمر قوموا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم جاء بلال يوذنه بالصلاة فقال " مروا ابا بكر فليصل بالناس " . فقالت عايشة يا رسول الله ان ابا بكر رجل رقيق حصر ومتى لا يراك يبكي والناس يبكون فلو امرت عمر يصلي بالناس . فخرج ابو بكر فصلى بالناس فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة فخرج يهادى بين رجلين ورجلاه تخطان في الارض فلما راه الناس سبحوا بابي بكر فذهب ليستاخر فاوما اليه النبي صلى الله عليه وسلم اى مكانك فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس عن يمينه وقام ابو بكر فكان ابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم والناس ياتمون بابي بكر . قال ابن عباس فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم من القراءة من حيث كان بلغ ابو بكر . قال وكيع وكذا السنة . قال فمات رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه ذلك
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں ) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن حميد، عن بكر بن عبد الله، عن حمزة بن المغيرة بن شعبة، عن ابيه، قال تخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتهينا الى القوم وقد صلى بهم عبد الرحمن بن عوف ركعة فلما احس بالنبي صلى الله عليه وسلم ذهب يتاخر فاوما اليه النبي صلى الله عليه وسلم ان يتم الصلاة قال " وقد احسنت كذلك فافعل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عليه ناس من اصحابه يعودونه فصلى النبي صلى الله عليه وسلم جالسا فصلوا بصلاته قياما فاشار اليهم ان اجلسوا فلما انصرف قال " انما جعل الامام ليوتم به. فاذا ركع فاركعوا. واذا رفع فارفعوا. واذا صلى جالسا فصلوا جلوسا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم صرع عن فرس فجحش شقه الايمن فدخلنا نعوده وحضرت الصلاة فصلى بنا قاعدا وصلينا وراءه قعودا فلما قضى الصلاة قال " انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد واذا سجد فاسجدوا واذا صلى قاعدا فصلوا قعودا اجمعين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هشيم بن بشير، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد وان صلى قايما فصلوا قياما وان صلى قاعدا فصلوا قعودا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلينا وراءه وهو قاعد وابو بكر يكبر يسمع الناس تكبيره فالتفت الينا فرانا قياما فاشار الينا فقعدنا فصلينا بصلاته قعودا فلما سلم قال " ان كدتم ان تفعلوا فعل فارس والروم يقومون على ملوكهم وهم قعود فلا تفعلوا ايتموا بايمتكم ان صلى قايما فصلوا قياما وان صلى قاعدا فصلوا قعودا
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، وحفص بن غياث، ويزيد بن هارون، عن ابي مالك الاشجعي، سعد بن طارق قال قلت لابي يا ابت انك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان وعلي ها هنا بالكوفة، نحوا من خمس سنين. فكانوا يقنتون في الفجر؟ فقال: اى بنى محدث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا۔
حدثنا حاتم بن بكر الضبي، حدثنا محمد بن يعلى، زنبور حدثنا عنبسة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن نافع، عن ابيه، عن ام سلمة، قالت: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القنوت في الفجر