Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا، ( ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فزاد او نقص - قال ابراهيم والوهم مني - فقيل له يا رسول الله ازيد في الصلاة شىء قال " انما انا بشر. انسى كما تنسون. فاذا نسي احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس " . ثم تحول النبي صلى الله عليه وسلم فسجد سجدتين
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن هشام، حدثني يحيى، حدثني عياض، انه سال ابا سعيد الخدري فقال احدنا يصلي فلا يدري كم صلى . فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم فلم يدر كم صلى، فليسجد سجدتين وهو جالس
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ آپ سے کہا گیا ( کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے
حدثنا محمد بن بشار، وابو بكر بن خلاد قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، حدثني الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال: صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا. فقيل له: ازيد في الصلاة؟ قال " وما ذاك؟ " . فقيل له . فثنى رجله، فسجد سجدتين
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة وهشام بن عمار قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن الاعرج، عن ابن بحينة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة اظن انها الظهر (العصر) فلما كان في الثانية قام قبل ان يجلس فلما كان قبل ان يسلم سجد سجدتين
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، وابن، فضيل ويزيد بن هارون ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، ويزيد بن هارون، وابو معاوية كلهم عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن الاعرج، ان ابن بحينة، اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم قام في ثنتين من الظهر نسي الجلوس حتى اذا فرغ من صلاته الا ان يسلم سجد سجدتى السهو وسلم
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن جابر، عن المغيرة بن شبيل، عن قيس بن ابي حازم، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم من الركعتين فلم يستتم قايما فليجلس فاذا استتم قايما فلا يجلس ويسجد سجدتى السهو
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، ( کیونکہ وہ یقینی ہے ) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۱؎۔
حدثنا ابو يوسف الرقي، محمد بن احمد الصيدلاني حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن كريب، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا شك احدكم في الثنتين والواحدة فليجعلها واحدة واذا شك في الثنتين والثلاث فليجعلها ثنتين واذا شك في الثلاث والاربع فليجعلها ثلاثا ثم ليتم ما بقي من صلاته حتى يكون الوهم في الزيادة ثم يسجد سجدتين وهو جالس قبل ان يسلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شك احدكم في صلاته فليلغ الشك وليبن على اليقين فاذا استيقن التمام سجد سجدتين فان كانت صلاته تامة كانت الركعة نافلة وان كانت ناقصة كانت الركعة لتمام صلاته وكانت السجدتان رغم انف الشيطان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن منصور، قال شعبة كتب الى وقراته عليه قال اخبرني ابراهيم عن علقمة عن عبد الله قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة لا يدري ازاد او نقص . فسال فحدثناه فثنى رجله واستقبل القبلة وسجد سجدتين ثم سلم ثم اقبل علينا بوجهه فقال " لو حدث في الصلاة شىء لانباتكموه وانما انا بشر انسى كما تنسون فاذا نسيت فذكروني وايكم ما شك في الصلاة فليتحر اقرب ذلك من الصواب فيتم عليه ويسلم ويسجد سجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ طنافسی کہتے ہیں: یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مسعر، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شك احدكم في الصلاة فليتحر الصواب ثم يسجد سجدتين " . قال الطنافسي هذا الاصل ولا يقدر احد يرده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔
حدثنا علي بن محمد، وابو كريب واحمد بن سنان قالوا حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سها فسلم في الركعتين . فقال له رجل يقال له ذو اليدين يا رسول الله اقصرت الصلاة ام نسيت؟ قال " ما قصرت وما نسيت " . قال انك صليت ركعتين . قال " اكما يقول ذو اليدين؟ " . قالوا نعم . فتقدم فصلى ركعتين. ثم سلم ثم سجد سجدتى السهو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء ( یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ ، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن ابن عون، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم احدى صلاتى العشي ركعتين ثم سلم ثم قام الى خشبة كانت في المسجد يستند اليها فخرج سرعان الناس يقولون قصرت الصلاة . وفي القوم ابو بكر وعمر فهاباه ان يقولا له شييا وفي القوم رجل طويل اليدين يسمى ذا اليدين فقال يا رسول الله اقصرت الصلاة ام نسيت؟ فقال " لم تقصر ولم انس " . قال فانما صليت ركعتين . فقال " اكما يقول ذو اليدين؟ " . قالوا نعم . قال فقام فصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتين ثم سلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ( رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
حدثنا محمد بن المثنى، واحمد بن ثابت الجحدري، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن الحصين، قال سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر ثم قام فدخل الحجرة فقام الخرباق رجل بسيط اليدين فنادى يا رسول الله اقصرت الصلاة؟ فخرج مغضبا يجر ازاره. فسال، فاخبر. فصلى تلك الركعة التي كان ترك. ثم سلم. ثم سجد سجدتين. ثم سلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا ابن اسحاق، حدثني الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الشيطان ياتي احدكم في صلاته، فيدخل بينه وبين نفسه حتى لا يدري زاد او نقص. فاذا كان ذلك، فليسجد سجدتين قبل ان يسلم. ثم يسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا ابن اسحاق، اخبرني سلمة بن صفوان بن سلمة، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الشيطان يدخل بين ابن ادم وبين نفسه فلا يدري كم صلى فاذا وجد ذلك فليسجد سجدتين قبل ان يسلم
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، ان ابن مسعود، سجد سجدتى السهو بعد السلام وذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، وعثمان بن ابي شيبة��، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عبيد الله بن عبيد، عن زهير بن سالم العنسي، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ثوبان، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " في كل سهو سجدتان بعد ما يسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد الله بن موسى التيمي، عن اسامة بن زيد، عن عبد الله بن يزيد، مولى الاسود بن سفيان عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن ابي هريرة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى الصلاة وكبر ثم اشار اليهم فمكثوا ثم انطلق فاغتسل وكان راسه يقطر ماء فصلى بهم فلما انصرف قال " اني خرجت اليكم جنبا. واني نسيت حتى قمت في الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الهيثم بن خارجة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصابه قىء او رعاف او قلس او مذى، فلينصرف، فليتوضا. ثم ليبن على صلاته، وهو في ذلك لا يتكلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ۱؎۔
حدثنا عمر بن شبة بن عبيدة بن زيد، حدثنا عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فاحدث، فليمسك على انفه، ثم لينصرف " . حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا عمر بن قيس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه