Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال سيل عن القنوت، في صلاة الصبح فقال كنا نقنت قبل الركوع وبعده
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد، قال سالت انس بن مالك عن القنوت، فقال قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الركوع
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن يحيى بن وثاب، عن مسروق، قال سالت عايشة عن وتر، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: من كل الليل قد اوتر. من اوله واوسطه، وانتهى وتره، حين مات، في السحر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي قال: من كل الليل قد اوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم. من اوله واوسطه، وانتهى وتره الى السحر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابن ابي غنية، حدثنا الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من خاف منكم ان لا يستيقظ من اخر الليل، فليوتر من اول الليل ثم ليرقد. ومن طمع منكم ان يستيقظ من اخر الليل، فليوتر من اخر الليل. فان قراءة اخر الليل محضورة. وذلك افضل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نماز وتر سے سو جائے، یا اسے بھول جائے، تو صبح کے وقت یا جب یاد آ جائے پڑھ لے ۔
حدثنا ابو مصعب، احمد بن ابي بكر المديني وسويد بن سعيد قالا حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن الوتر او نسيه، فليصل اذا اصبح، او ذكره
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اوتروا قبل ان تصبحوا " . قال محمد بن يحيى في هذا الحديث دليل على ان حديث عبد الرحمن واه
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق ( ثابت ) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الفريابي، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الوتر حق. فمن شاء فليوتر بخمس. ومن شاء فليوتر بثلاث. ومن شاء فليوتر بواحدة
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود ( صلاۃ ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، قال سالت عايشة قلت يا ام المومنين افتني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله فيما شاء ان يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضا ثم يصلي تسع ركعات لا يجلس فيها الا عند الثامنة فيدعو ربه فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم ينهض ولا يسلم ثم يقوم فيصلي التاسعة ثم يقعد فيذكر الله ويحمده ويدعو ربه ويصلي على نبيه ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين بعد ما يسلم وهو قاعد فتلك احدى عشرة ركعة فلما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ اللحم اوتر بسبع وصلى ركعتين بعد ما سلم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن زهير، عن منصور، عن الحكم، عن مقسم، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بسبع او بخمس لا يفصل بينهن بتسليم ولا كلام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں ) وتر پڑھتے تھے؟ کہا: جی ہاں۔
حدثنا احمد بن سنان، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شعبة، عن جابر، عن سالم، عن ابيه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في السفر ركعتين. لا يزيد عليهما. وكان يتهجد من الليل . قلت وكان يوتر؟ قال: نعم
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر کی ہے، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں، اور سفر میں نماز وتر پڑھنا سنت ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن جابر، عن عامر، عن ابن عباس، وابن، عمر قالا سن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة السفر ركعتين وهما تمام غير قصر والوتر في السفر سنة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو ہلکی رکعت بیٹھ کر پڑھتے
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا حماد بن مسعدة، حدثنا ميمون بن موسى المريي، عن الحسن، عن امه، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الوتر ركعتين خفيفتين، وهو جالس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ۱؎ اور ان میں قراءت کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عمر بن عبد الواحد، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، قال حدثتني عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بواحدة. ثم يركع ركعتين يقرا فيهما وهو جالس. فاذا اراد ان يركع، قام فركع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت ما كنت الفي - او القى - النبي صلى الله عليه وسلم من اخر الليل الا وهو نايم عندي . قال وكيع تعني بعد الوتر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى ركعتى الفجر اضطجع على شقه الايمن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو پہلو پر لیٹ جاتے۔
حدثنا عمر بن هشام، حدثنا النضر بن شميل، انبانا شعبة، حدثني سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى ركعتى الفجر اضطجع
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، میں پیچھے ہو گیا، اور نماز وتر ادا کی، انہوں نے پوچھا: تم پیچھے کیوں رہ گئے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، عن ابي بكر بن عمر بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن سعيد بن يسار، قال كنت مع ابن عمر فتخلفت فاوترت فقال ما خلفك قلت اوترت . فقال اما لك في رسول الله صلى الله عليه وسلم اسوة حسنة قلت بلى . قال فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر على بعيره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے
حدثنا محمد بن يزيد الاسفاطي، حدثنا ابو داود، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوتر على راحلته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ کہا: شروع رات میں عشاء کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اے عمر! انہوں نے کہا: رات کے اخیر حصے میں، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے ( یقینی طریقہ اختیار کیا ) اور اے عمر! تم نے قوت والا کام پکڑا ۔
حدثنا ابو داود، سليمان بن توبة حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زايدة، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابي بكر " اى حين توتر " قال اول الليل بعد العتمة . قال " فانت يا عمر " . فقال اخر الليل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما انت يا ابا بكر فاخذت بالوثقى واما انت يا عمر فاخذت بالقوة " . حدثنا ابو داود، سليمان بن توبة انبانا محمد بن عباد، حدثنا يحيى بن سليم، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر . فذكر نحوه