Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن عمرو ابو عمرو الاوزاعي، قال حدثني الوليد بن هشام المعيطي، حدثه معدان بن ابي طلحة اليعمري، قال لقيت ثوبان فقلت له حدثني حديثا عسى الله ان ينفعني به . قال فسكت ثم عدت فقلت مثلها فسكت ثلاث مرات فقال لي عليك بالسجود لله فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية " . قال معدان ثم لقيت ابا الدرداء فسالته فقال مثل ذلك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن خالد بن يزيد المري، عن يونس بن ميسرة بن حلبس، عن الصنابحي، عن عبادة بن الصامت، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا كتب الله له بها حسنة ومحا عنه بها سيية ورفع له بها درجة فاستكثروا من السجود
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا يزيد بن هارون، عن سفيان بن حسين، عن علي بن زيد، عن انس بن حكيم الضبي، قال قال لي ابو هريرة اذا اتيت اهل مصرك فاخبرهم اني، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما يحاسب به العبد المسلم يوم القيامة، الصلاة المكتوبة فان اتمها، والا قيل: انظروا هل له من تطوع؟ فان كان له تطوع اكملت الفريضة من تطوعه. ثم يفعل بساير الاعمال المفروضة مثل ذلك
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہو گی، اگر اس نے نماز مکمل طریقے سے ادا کی ہو گی تو نفل نماز علیحدہ لکھی جائے گی، اور اگر مکمل طریقے سے ادا نہ کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس نفل نمازیں ہیں، تو ان سے فرض کی کمی کو پورا کرو، پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح حساب ہو گا ۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، عن داود بن ابي هند، عن زرارة بن اوفى، عن تميم الداري، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا عفان، حدثنا حماد، انبانا حميد، عن الحسن، عن رجل، عن ابي هريرة، وداود بن ابي هند، عن زرارة بن اوفى، عن تميم الداري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته. فان اكملها كتبت له نافلة. فان لم يكن اكملها، قال الله سبحانه لملايكته: انظروا، هل تجدون لعبدي من تطوع؟ فاكملوا بها ما ضيع من فريضته . ثم توخذ الاعمال على حسب ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب ( فرض ) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہو جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ليث، عن حجاج بن عبيد، عن ابراهيم بن اسماعيل، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايعجز احدكم اذا صلى ان يتقدم او يتاخر او عن يمينه او عن شماله " يعني السبحة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس جگہ سنت ( نفل نماز ) نہ پڑھے جہاں پر اس نے فرض پڑھائی ہے، جب تک کہ وہاں سے دور نہ جائے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا قتيبة، حدثنا ابن وهب، عن عثمان بن عطاء، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يصلي الامام في مقامه الذي صلى فيه المكتوبة حتى يتنحى عنه " . حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا بقية، عن ابي عبد الرحمن التميمي، عن عثمان بن عطاء، عن ابيه، عن المغيرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں ) تین چیزوں سے منع فرمایا: ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن سعيد، قالا حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن ابيه، عن تميم بن محمود، عن عبد الرحمن بن شبل، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثلاث عن نقرة الغراب وعن فرشة السبع وان يوطن الرجل المكان الذي يصلي فيه كما يوطن البعير
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل نماز ) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن المخزومي، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، انه كان ياتي الى سبحة الضحى فيعمد الى الاسطوانة دون المصحف فيصلي قريبا منها فاقول له الا تصلي ها هنا واشير الى بعض نواحي المسجد فيقول اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتحرى هذا المقام
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، عن محمد بن عباد، عن عبد الله بن سفيان، عن عبد الله بن السايب، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم الفتح فجعل نعليه عن يساره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن عبد الله بن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الزم نعليك قدميك. فان خلعتهما فاجعلهما بين رجليك. ولا تجعلهما عن يمينك، ولا عن يمين صاحبك، ولا وراءك، فتوذي من خلفك