Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا إله إلا الله» سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں، اور یہ کلمہ کوئی گناہ باقی نہیں چھوڑتا ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا زكريا بن منظور، حدثني محمد بن عقبة، عن ام هاني، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا اله الا الله لا يسبقها عمل ولا تترك ذنبا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی و شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت اور تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، کہا تو اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور اس کی سو برائیاں مٹائی جاتی ہیں، اور وہ پورے دن رات تک شیطان سے بچا رہتا ہے، اور کسی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا مگر جو کوئی اسی کلمہ کو سو بار سے زیادہ کہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا زيد بن الحباب، عن مالك بن انس، اخبرني سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال في يوم ماية مرة لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير كان له عدل عشر رقاب وكتبت له ماية حسنة ومحي عنه ماية سيية وكن له حرزا من الشيطان ساير يومه الى الليل ولم يات احد بافضل مما اتى به الا من قال اكثر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز صبح ( فجر ) کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير» کہے تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن محمد بن ابي ليلى، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال في دبر صلاة الغداة لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شىء قدير - كان كعتاق رقبة من ولد اسماعيل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہترین ذکر «لا إله إلا الله» اور سب سے بہترین دعا «الحمد لله» ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا موسى بن ابراهيم بن كثير بن بشير بن الفاكه، قال سمعت طلحة بن خراش ابن عم، جابر قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " افضل الذكر لا اله الا الله وافضل الدعاء الحمد لله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یوں کہا: «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» اے میرے رب! میں تیری ایسی تعریف کرتا ہوں جو تیری ذات کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے ، تو یہ کلمہ ان دونوں فرشتوں ( یعنی کراما ً کاتبین ) پر مشکل ہوا، اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کلمے کو کس طرح لکھیں، آخر وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا: اے ہمارے رب! تیرے بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے جسے ہم نہیں جانتے کیسے لکھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے کیا کہا؟ حالانکہ اس کے بندے نے جو کہا اسے وہ خوب جانتا ہے، ان فرشتوں نے عرض کیا: تیرے بندے نے یہ کلمہ کہا ہے «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کلمہ کو ( ان ہی لفظوں کے ساتھ نامہ اعمال میں ) اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے کہا: یہاں تک کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملے گا تو میں اس وقت اس کو اس کا بدلہ دوں گا ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا صدقة بن بشير، مولى العمريين قال سمعت قدامة بن ابراهيم الجمحي، يحدث انه كان يختلف الى عبد الله بن عمر بن الخطاب وهو غلام وعليه ثوبان معصفران قال فحدثنا عبد الله بن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثهم " ان عبدا من عباد الله قال يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك فعضلت بالملكين فلم يدريا كيف يكتبانها فصعدا الى السماء وقالا يا ربنا ان عبدك قد قال مقالة لا ندري كيف نكتبها . قال الله عز وجل وهو اعلم بما قال عبده ماذا قال عبدي قالا يا رب انه قال يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك وعظيم سلطانك . فقال الله عز وجل لهما اكتباها كما قال عبدي حتى يلقاني فاجزيه بها
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے ( «سمع الله لمن حمده» کے بعد ) «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمہ کس نے کہا؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فقال رجل الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه . فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ذا الذي قال هذا " . قال الرجل انا وما اردت الا الخير . فقال " لقد فتحت لها ابواب السماء فما نهنهها شىء دون العرش
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں ، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ۔
حدثنا هشام بن خالد الازرق ابو مروان، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن منصور بن عبد الرحمن، عن امه، صفية بنت شيبة عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا راى ما يحب قال " الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات " . واذا راى ما يكره قال " الحمد لله على كل حال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: «الحمد لله على كل حال رب أعوذ بك من حال أهل النار» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے میرے رب! میں جہنمیوں کے حال سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن ثابت، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " الحمد لله على كل حال رب اعوذ بك من حال اهل النار
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے، اور وہ «الحمدللہ» کہتا ہے تو اس نے جو دیا وہ اس چیز سے افضل ہے جو اس نے لیا ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو عاصم، عن شبيب بن بشر، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انعم الله على عبد نعمة فقال الحمد لله . الا كان الذي اعطاه افضل مما اخذ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر بہت ہلکے ہیں ۱؎، اور میزان میں بہت بھاری ہیں، اور رحمن کو بہت پسند ہیں ( وہ دو کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» اللہ ( ہر عیب و نقص سے ) پاک ہے اور ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، عظیم ( عظمت والا ) اللہ ( ہر عیب و نقص ) سے پاک ہے ) ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، وعلي بن محمد، قالا حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان الى الرحمن سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں درخت لگا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي سنان، عن عثمان بن ابي سودة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر به وهو يغرس غرسا فقال " يا ابا هريرة ما الذي تغرس " . قلت غراسا لي . قال " الا ادلك على غراس خير لك من هذا " . قال بلى يا رسول الله . قال " قل سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر يغرس لك بكل واحدة شجرة في الجنة
جویریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح ( فجر ) کے وقت یا صبح کے بعد ان کے پاس سے گزرے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوٹے جب دن چڑھ آیا، یا انہوں نے کہا: دوپہر ہو گئی اور وہ اسی حال میں تھیں ( یعنی ذکر میں مشغول تھیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جب سے تمہارے پاس سے اٹھا ہوں یہ چار کلمے تین مرتبہ پڑھے ہیں، یہ چاروں کلمے ( ثواب میں ) زیادہ اور وزن میں بھاری ہیں، اس ذکر سے جو تم نے کئے ہیں، ( وہ چار کلمے یہ ہیں ) «سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن، اور لامحدود کلمے کے برابر اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا مسعر، حدثني محمد بن عبد الرحمن، عن ابي رشدين، عن ابن عباس، عن جويرية، قالت مر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم حين صلى الغداة او بعد ما صلى الغداة وهي تذكر الله فرجع حين ارتفع النهار - او قال انتصف - وهي كذلك فقال " لقد قلت منذ قمت عنك اربع كلمات ثلاث مرات هي اكثر وارجح - او اوزن - مما قلت سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( «سبحان الله» ) ، تہلیل، «لا إله إلا الله»، اور تحمید، «الحمد لله» ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز ہوتی ہے، اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں ( اللہ کے سامنے ) کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثني يحيى بن سعيد، عن موسى بن ابي عيسى الطحان، عن عون بن عبد الله، عن ابيه، او عن اخيه، عن النعمان بن بشير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مما تذكرون من جلال الله التسبيح والتهليل والتحميد ينعطفن حول العرش لهن دوي كدوي النحل تذكر بصاحبها اما يحب احدكم ان يكون له - او لا يزال له - من يذكر به
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو بار «اللہ اکبر»، سو بار «الحمدللہ»، سو بار «سبحان اللہ»کہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا ابو يحيى، زكريا بن منظور حدثني محمد بن عقبة بن ابي مالك، عن ام هاني، قالت اتيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله دلني على عمل فاني قد كبرت وضعفت وبدنت . فقال " كبري الله ماية مرة واحمدي الله ماية مرة وسبحي الله ماية مرة خير من ماية فرس ملجم مسرج في سبيل الله وخير من ماية بدنة وخير من ماية رقبة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں، وہ یہ ہیں «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ کی ذات پاک ہے، ہر سم کی حمد و ثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو عمر، حفص بن عمرو حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن هلال بن يساف، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اربع افضل الكلام لا يضرك بايهن بدات سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو بار «سبحان الله وبحمده» کہے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الوشاء، حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن مالك بن انس، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال سبحان الله وبحمده ماية مرة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ یہ کلمے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے ( پرانے ) پتے جھاڑ دیتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن عمر بن راشد، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي الدرداء، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليك بسبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر فانها - يعني - يحططن الخطايا كما تحط الشجرة ورقها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے سو بار کہتے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، والمحاربي، عن مالك بن مغول، عن محمد بن سوقة، عن نافع، عن ابن عمر، قال ان كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس يقول " رب اغفر لي وتب على انك انت التواب الرحيم " . ماية مرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے سو بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاستغفر الله واتوب اليه في اليوم ماية مرة
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے ستر بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مغيرة بن ابي الحر، عن سعيد بن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاستغفر الله واتوب اليه في اليوم سبعين مرة