Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں پر زبان درازی کرتا تھا، لیکن اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور سے زبان درازی نہ کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کیا کرتے، تم ہر روز ستر بار استغفار کیا کرو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن ابي المغيرة، عن حذيفة، قال كان في لساني ذرب على اهلي وكان لا يعدوهم الى غيرهم فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اين انت من الاستغفار تستغفر الله في اليوم سبعين مرة
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ ( نامہ اعمال ) میں کثرت سے استغفار پائے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن عرق، سمعت عبد الله بن بسر، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " طوبى لمن وجد في صحيفته استغفارا كثيرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الحكم بن مصعب، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، انه حدثه عن عبد الله بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لزم الاستغفار جعل الله له من كل هم فرجا ومن كل ضيق مخرجا ورزقه من حيث لا يحتسب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللهم اجعلني من الذين إذا أحسنوا استبشروا وإذا أساءوا استغفروا» اے اللہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اور جب برا کام کرتے ہیں تو اس سے استغفار کرتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، عن على بن زيد، عن ابي عثمان، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " اللهم اجعلني من الذين اذا احسنوا استبشروا واذا اساءوا استغفروا
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے ( عبادت و طاعت کے ذریعہ ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس ( معمولی چال سے ) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله تبارك وتعالى من جاء بالحسنة فله عشر امثالها وازيد ومن جاء بالسيية فجزاء سيية مثلها او اغفر ومن تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعا ومن تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا ومن اتاني يمشي اتيته هرولة ومن لقيني بقراب الارض خطيية ثم لا يشرك بي شييا لقيته بمثلها مغفرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله سبحانه انا عند ظن عبدي بي وانا معه حين يذكرني فان ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وان ذكرني في ملا ذكرته في ملا خير منهم وان اقترب الى شبرا اقتربت اليه ذراعا وان اتاني يمشي اتيته هرولة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا ہر عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل عمل ابن ادم يضاعف له الحسنة بعشر امثالها الى سبعماية ضعف . قال الله سبحانه الا الصوم فانه لي وانا اجزي به
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «لا حول ولا قوة إلا بالله» گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا جرير، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن ابي موسى، قال سمعني النبي صلى الله عليه وسلم وانا اقول، لا حول ولا قوة الا بالله . قال " يا عبد الله بن قيس الا ادلك على كلمة من كنوز الجنة " . قلت بلى يا رسول الله . قال " قل لا حول ولا قوة الا بالله
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کلمہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا ادلك على كنز من كنوز الجنة " . قلت بلى يا رسول الله . قال " لا حول ولا قوة الا بالله
حازم بن حرملہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ( ایک روز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حازم! تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد المدني، حدثنا محمد بن معن، حدثنا خالد بن سعيد، عن ابي زينب، مولى حازم بن حرملة عن حازم بن حرملة، قال مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم فقال لي " يا حازم اكثر من قول لا حول ولا قوة الا بالله فانها من كنوز الجنة