Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی پیکان ( نوک و پھل ) تھام لو ، انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، قال قلت لعمرو بن دينار سمعت جابر بن عبد الله، يقول مر رجل بسهام في المسجد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسك بنصالها " . قال نعم
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا بازار میں سے ہو کر گزرے، اور اس کے ساتھ تیر ہو تو اس کی پیکان اپنی ہتھیلی سے پکڑے رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس کی نوک لگ جائے، ( اور وہ زخمی ہو ) ، یا چاہیئے کہ وہ تیر کی پیکان اپنی مٹھی میں دبائے رہے ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا مر احدكم في مسجدنا او في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها بكفه ان تصيب احدا من المسلمين بشىء او فليقبض على نصالها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء ( فرشتوں ) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الماهر بالقران مع السفرة الكرام البررة والذي يقروه يتتعتع فيه وهو عليه شاق له اجران اثنان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے ( قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے ) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقال لصاحب القران اذا دخل الجنة اقرا واصعد . فيقرا ويصعد بكل اية درجة حتى يقرا اخر شىء معه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن قرآن ایک تھکے ماندے شخص کی صورت میں آئے گا، اور حافظ قرآن سے کہے گا کہ میں نے ہی تجھے رات کو جگائے رکھا، اور دن کو پیاسا رکھا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن بشير بن مهاجر، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يجيء القران يوم القيامة كالرجل الشاحب فيقول انا الذي اسهرت ليلك واظمات نهارك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں ( کیوں نہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايحب احدكم اذا رجع الى اهله ان يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان " . قلنا نعم . قال " فثلاث ايات يقروهن احدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات سمان عظام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا ۱؎۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل القران مثل الابل المعقلة ان تعاهدها صاحبها بعقلها امسكها عليه وان اطلق عقلها ذهبت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، آدھا میرے لیے ہے، اور آدھا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پڑھو!، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «حمدني عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری حمد ثنا بیان کی، اور بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أثنى علي عبدي ولعبدي ما سأل» میرے بندے نے میری تعریف کی، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:«مجدني عبدي فهذا لي وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين» میرے بندے نے میری عظمت بیان کی تو یہ میرے لیے ہے، اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، یعنی پھر جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل وآخر السورة لعبدي» یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، اور سورت کی اخیر آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، پھر جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: «فهذا لعبدي ولعبدي ما سأل» یہ میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله عز وجل قسمت الصلاة بيني وبين عبدي شطرين فنصفها لي ونصفها لعبدي ولعبدي ما سال " . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرءوا يقول العبد {الحمد لله رب العالمين} فيقول الله عز وجل حمدني عبدي ولعبدي ما سال . فيقول {الرحمن الرحيم} فيقول اثنى على عبدي ولعبدي ما سال . يقول {مالك يوم الدين } فيقول الله مجدني عبدي فهذا لي وهذه الاية بيني وبين عبدي نصفين يقول العبد {اياك نعبد واياك نستعين} يعني فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سال واخر السورة لعبدي يقول العبد {اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين} فهذا لعبدي ولعبدي ما سال
ابوسعید بن معلّیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں وہ سورت نہ سکھاؤں جو قرآن مجید میں سب سے عظیم سورت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت«الحمد لله رب العالمين» ہے جو سبع مثانی ہے، اور قرآن عظیم ہے، جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي سعيد بن المعلى، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اعلمك اعظم سورة في القران قبل ان اخرج من المسجد " . قال فذهب النبي صلى الله عليه وسلم ليخرج فاذكرته فقال " { الحمد لله رب العالمين} وهي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں ایک سورت ہے جس میں تیس آیتیں ہیں وہ اپنے پڑھنے والے کے لیے ( اللہ تعالیٰ سے ) سفارش کرے گی، حتیٰ کہ اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور وہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن شعبة، عن قتادة، عن عباس الجشمي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان سورة في القران ثلاثون اية شفعت لصاحبها حتى غفر له {تبارك الذي بيده الملك}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " {قل هو الله احد} تعدل ثلث القران
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ) ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، عن جرير بن حازم، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " {قل هو الله احد} تعدل ثلث القران
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله أحد الواحد الصمد» ( یعنی سورۃ الاخلاص ثواب میں ) تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي قيس الاودي، عن عمرو بن ميمون، عن ابي مسعود الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الله احد الواحد الصمد تعدل ثلث القران
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل ہو، اور تمہارے مالک کو سب سے زیادہ محبوب ہو، اور تمہارے درجات کو بلند کرتا ہو، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے اور دشمن سے ایسی جنگ کرنے سے کہ تم ان کی گردنیں مارو، اور وہ تمہاری گردنیں ماریں بہتر ہو؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اللہ کا ذکر ہے ۔ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے والا انسان کا کوئی عمل ذکر الٰہی سے بڑھ کر نہیں ہے۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن زياد بن ابي زياد، مولى ابن عياش عن ابي بحرية، عن ابي الدرداء، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا انبيكم بخير اعمالكم وارضاها عند مليككم وارفعها في درجاتكم وخير لكم من اعطاء الذهب والورق ومن ان تلقوا عدوكم فتضربوا اعناقهم ويضربوا اعناقكم " . قالوا وما ذاك يا رسول الله قال " ذكر الله " . وقال معاذ بن جبل ما عمل امرو بعمل انجى له من عذاب الله عز وجل من ذكر الله
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ مجلس میں بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ( اللہ کی ) رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور سکینت انپر نازل ہونے لگتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں سے ان کا ذکر کرتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، عن عمار بن رزيق، عن ابي اسحاق، عن الاغر ابي مسلم، عن ابي هريرة، وابي، سعيد يشهدان به على النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما جلس قوم مجلسا يذكرون الله فيه الا حفتهم الملايكة وتغشتهم الرحمة وتنزلت عليهم السكينة وذكرهم الله فيمن عنده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور اس کے ہونٹ میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، عن اسماعيل بن عبيد الله، عن ام الدرداء، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله عز وجل يقول انا مع عبدي اذا هو ذكرني وتحركت بي شفتاه
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و قواعد مجھ پر بہت ہو گئے ہیں ۱؎، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جس پر میں مضبوطی سے جم جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیئے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا زيد بن الحباب، اخبرني معاوية بن صالح، اخبرني عمرو بن قيس الكندي، عن عبد الله بن بسر، ان اعرابيا، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان شرايع الاسلام قد كثرت على فانبيني منها بشىء اتشبث به . قال " لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله عز وجل
اغر ابومسلم سے روایت ہے اور انہوں نے شہادت دی کہ ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ «لا إله إلا الله والله أكبر» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله وحده» یعنی صرف تنہا اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، میں ہی اکیلا معبود برحق ہوں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله لا شريك له»کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک اور ساجھی نہیں، اور جب بندہ «لا إله إلا الله له الملك وله الحمد» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اسی کی بادشاہت اور ہر قسم کی تعریف ہے، کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، بادشاہت اور تعریف ( یعنی ملک اور حمد ) میرے ہی لیے ہے، اور جب بندہ «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اس کے علاوہ کسی میں کوئی طاقت و قوت نہیں، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میرے علاوہ کسی میں کوئی قوت و طاقت نہیں ۱؎۔ ابواسحاق کہتے ہیں: پھر اغر نے ایک بات کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے ابوجعفر سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مرتے وقت ان کلمات کے کہنے کی توفیق بخشی تو اسے جہنم کی آگ نہ چھوئے گی ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا الحسين بن علي، عن حمزة الزيات، عن ابي اسحاق، عن الاغر ابي مسلم، انه شهد على ابي هريرة وابي سعيد انهما شهدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال العبد لا اله الا الله والله اكبر . قال يقول الله عز وجل صدق عبدي لا اله الا انا وانا اكبر . واذا قال العبد لا اله الا الله وحده . قال صدق عبدي لا اله الا انا وحدي . واذا قال لا اله الا الله لا شريك له . قال صدق عبدي لا اله الا انا ولا شريك لي . واذا قال لا اله الا الله له الملك وله الحمد . قال صدق عبدي لا اله الا انا لي الملك ولي الحمد . واذا قال لا اله الا الله ولا حول ولا قوة الا بالله . قال صدق عبدي لا اله الا انا ولا حول ولا قوة الا بي " . قال ابو اسحاق ثم قال الاغر شييا لم افهمه . قال فقلت لابي جعفر ما قال فقال من رزقهن عند موته لم تمسه النار
سعدیٰ مریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گزرے، تو انہوں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو رنجیدہ پاتا ہوں؟ کیا تمہیں اپنے چچا زاد بھائی ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی خلافت گراں گزری ہے؟، انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں ایک بات جانتا ہوں اگر کوئی اسے موت کے وقت کہے گا تو وہ اس کے نامہ اعمال کا نور ہو گا، اور موت کے وقت اس کے بدن اور روح دونوں اس سے راحت پائیں گے ، لیکن میں یہ کلمہ آپ سے دریافت نہ کر سکا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کلمہ کو جانتا ہوں، یہ وہی کلمہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( ابوطالب ) سے مرتے وقت پڑھنے کے لیے کہا تھا، اور اگر آپ کو اس سے بہتر اور باعث نجات کسی کلمہ کا علم ہوتا تو وہی پڑھنے کے لیے فرماتے ۱؎۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، عن مسعر، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن الشعبي، عن يحيى بن طلحة، عن امه، سعدى المرية قالت مر عمر بطلحة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما لك مكتيبا اساءتك امرة ابن عمك قال لا ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اني لاعلم كلمة لا يقولها احد عند موته الا كانت نورا لصحيفته وان جسده وروحه ليجدان لها روحا عند الموت " . فلم اساله حتى توفي . قال انا اعلمها هي التي اراد عمه عليها ولو علم ان شييا انجى له منها لامره
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا ۱؎۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن يونس، عن حميد بن هلال، عن هصان بن الكاهل، عن عبد الرحمن بن سمرة، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من نفس تموت تشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله صلى الله عليه وسلم يرجع ذلك الى قلب موقن الا غفر الله لها