Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید ( شاعر ) کا یہ شعر ہے «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» سن لو! اللہ کے علاوہ ساری چیزیں فانی ہیں اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد الا كل شىء ما خلا الله باطل وكاد امية بن ابي الصلت ان يسلم
شرید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے امیہ بن ابی صلت کے سو اشعار پڑھے، آپ ہر شعر کے بعد فرماتے جاتے: اور پڑھو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى، عن عمرو بن الشريد، عن ابيه، قال انشدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ماية قافية من شعر امية بن ابي الصلت يقول بين كل قافية " هيه " . وقال " كاد ان يسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیماری کے سبب آدمی کے پیٹ کا مواد سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۱؎۔ حفص نے «یریہ» کا لفظ ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا حفص، وابو معاوية ووكيع عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمتلي جوف الرجل قيحا حتى يريه خير له من ان يمتلي شعرا " . الا ان حفصا لم يقل يريه
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ ( مواد ) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، حدثني قتادة، عن يونس بن جبير، عن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن سعد بن ابي وقاص، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لان يمتلي جوف احدكم قيحا حتى يريه خير له من ان يمتلي شعرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان لگانے والا وہ شخص ہے جو کسی ایک شخص کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ اس کی ساری قوم کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کو باپ بنائے، اور اپنی ماں کو زنا کا مرتکب قرار دے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، عن شيبان، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن يوسف بن ماهك، عن عبيد بن عمير، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اعظم الناس فرية لرجل هاجى رجلا فهجا القبيلة باسرها ورجل انتفى من ابيه وزنى امه
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے «نرد» ( چوسر ) کھیلا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن سعيد بن ابي هند، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چوسر کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبویا ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لعب بالنردشير فكانما غمس يده في لحم خنزير ودمه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا، یعنی اسے اڑا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نظر الى انسان يتبع طايرا فقال " شيطان يتبع شيطانا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھا، تو فرمایا: شیطان شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا الاسود بن عامر، عن حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يتبع حمامة فقال " شيطان يتبع شيطانة
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطانہ کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، حدثنا ابن جريج، عن الحسن بن ابي الحسن، عن عثمان بن عفان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا وراء حمامة فقال " شيطان يتبع شيطانة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
حدثنا ابو نصر، محمد بن خلف العسقلاني حدثنا رواد بن الجراح، حدثنا ابو سعد الساعدي، عن انس بن مالك، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يتبع حماما فقال " شيطان يتبع شيطانا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہو جاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عاصم بن محمد، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم احدكم ما في الوحدة ما سار احد بليل وحده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ مت چھوڑو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ کا ایک گھر لوگوں سمیت جل گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک آگ تمہاری دشمن ہے، لہٰذا جب تم سونے لگو، تو آگ بجھا دیا کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال احترق بيت بالمدينة على اهله فحدث النبي صلى الله عليه وسلم بشانهم فقال " انما هذه النار عدو لكم فاذا نمتم فاطفيوها عنكم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت سی باتوں کا حکم دیا، اور بہت سی باتوں سے منع فرمایا: ( ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ) آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ( سوتے وقت ) چراغ بجھا دیا کریں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبد الملك، عن ابي الزبير، عن جابر، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونهانا فامرنا ان نطفي سراجنا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ راستہ کے درمیان قیام کرو، اور نہ وہاں قضائے حاجت کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا هشام، عن الحسن، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنزلوا على جواد الطريق ولا تقضوا عليها الحاجات
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن عاصم، حدثنا مورق العجلي، حدثني عبد الله بن جعفر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قدم من سفر تلقي بنا . قال فتلقي بي وبالحسن او بالحسين . قال فحمل احدنا بين يديه والاخر خلفه حتى قدمنا المدينة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خط لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈال دیا کرو، اس سے تمہاری مراد پوری ہو گی کیونکہ مٹی مبارک چیز ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا بقية، انبانا ابو احمد الدمشقي، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تربوا صحفكم انجح لها ان التراب مبارك
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ اسے رنج و غم میں مبتلا کر دے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون صاحبهما فان ذلك يحزنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ اگر تین آدمی موجود ہوں تو تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی کریں
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتناجى اثنان دون الثالث