Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن حميد، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبقيع فنادى رجل رجلا يا ابا القاسم فالتفت اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني لم اعنك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن حمزة بن صهيب، ان عمر، قال لصهيب ما لك تكتني بابي يحيى وليس لك ولد . قال كناني رسول الله صلى الله عليه وسلم بابي يحيى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «ام عبداللہ» ہو ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن مولى، للزبير عن عايشة، . انها قالت للنبي صلى الله عليه وسلم كل ازواجك كنيته غيري . قال " فانت ام عبد الله
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ابوعمیر کہہ کر پکارتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن ابي التياح، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتينا فيقول لاخ لي وكان صغيرا " يا ابا عمير
ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ولا تنابزوا بالألقاب» ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے پاس ( مدینہ ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ولا تنابزوا بالألقاب» کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن داود، عن الشعبي، عن ابي جبيرة بن الضحاك، قال فينا نزلت معشر الانصار {ولا تنابزوا بالالقاب) قدم علينا النبي صلى الله عليه وسلم والرجل منا له الاسمان والثلاثة فكان النبي صلى الله عليه وسلم ربما دعاهم ببعض تلك الاسماء فيقال يا رسول الله انه يغضب من هذا . فنزلت {ولا تنابزوا بالالقاب}
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن المقداد بن عمرو، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نحثو في وجوه المداحين التراب
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن سعد بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن معبد الجهني، عن معاوية، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اياكم والتمادح فانه الذبح
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن خالد الحذاء، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال مدح رجل رجلا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويحك قطعت عنق صاحبك " . مرارا ثم قال " ان كان احدكم مادحا اخاه فليقل احسبه ولا ازكي على الله احدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ ایمانداری سے مشورہ دے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، عن شيبان، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المستشار موتمن
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے ( لہٰذا وہ دیانتداری سے مشورہ دے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسود بن عامر، عن شريك، عن الاعمش، عن ابي عمرو الشيباني، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المستشار موتمن
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، وعلي بن هاشم، عن ابن ابي ليلى، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استشار احدكم اخاه فليشر عليه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات ( عمومی غسل خانے ) کہا جاتا ہو گا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبدة بن سليمان، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى وجعفر بن عون جميعا عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم الافريقي، عن عبد الرحمن بن رافع، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تفتح لكم ارض الاعاجم وستجدون فيها بيوتا يقال لها الحمامات فلا يدخلها الرجال الا بازار وامنعوا النساء ان يدخلنها الا مريضة او نفساء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، قالا حدثنا حماد بن سلمة، انبانا عبد الله بن شداد، عن ابي عذرة، - قال وكان قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم - عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى الرجال والنساء من الحمامات ثم رخص للرجال ان يدخلوها في الميازر ولم يرخص للنساء
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي المليح الهذلي، ان نسوة، من اهل حمص استاذن على عايشة فقالت لعلكن من اللواتي يدخلن الحمامات سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما امراة وضعت ثيابها في غير بيت زوجها فقد هتكت ستر ما بينها وبين الله
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگاتے تو پہلے آپ اپنی شرمگاہ پر ملتے، پھر باقی بدن پر آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ملتیں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي هاشم الرماني، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اطلى بدا بعورته فطلاها بالنورة وساير جسده اهله
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثني اسحاق بن منصور، عن كامل ابي العلاء، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ام سلمة، ان النبي اطلى وولي عانته بيده
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الهقل بن زياد، حدثنا الاوزاعي، عن عبد الله بن عامر الاسلمي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقص على الناس الا امير او مامور او مراء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یہ قصہ گوئی نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی، اور نہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن العمري، عن نافع، عن ابن عمر، قال لم يكن القصص في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا زمن ابي بكر ولا زمن عمر
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک کچھ شعر حکمت و دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، حدثنا ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن مروان بن الحكم، عن عبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من الشعر لحكمة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابو اسامة، عن زايدة، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " ان من الشعر حكما