Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن منصور، عن الشعبي، عن المقدام ابي كريمة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليلة الضيف واجبة فان اصبح بفنايه فهو دين عليه فان شاء اقتضى وان شاء ترك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن عجلان، عن سعيد بن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اني احرج حق الضعيفين اليتيم والمراة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ( پرورش پاتا ) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن المبارك، عن سعيد بن ابي ايوب، عن يحيى بن ابي سليمان، عن زيد بن ابي عتاب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يحسن اليه وشر بيت في المسلمين بيت فيه يتيم يساء اليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا ( اور دکھایا ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حماد بن عبد الرحمن الكلبي، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم الانصاري، عن عطاء بن ابي رباح، عن عبد الله بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عال ثلاثة من الايتام كان كمن قام ليله وصام نهاره وغدا وراح شاهرا سيفه في سبيل الله وكنت انا وهو في الجنة اخوين كهاتين اختان " . والصق اصبعيه السبابة والوسطى
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن ابان بن صمعة، عن ابي الوازع الراسبي، عن ابي برزة الاسلمي، قال قلت يا رسول الله دلني على عمل انتفع به . قال " اعزل الاذى عن طريق المسلمين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستے میں ایک درخت کی شاخ ( ٹہنی ) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا ( تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان على الطريق غصن شجرة يوذي الناس فاماطها رجل فادخل الجنة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا هشام بن حسان، عن واصل، مولى ابي عيينة عن يحيى بن عقيل، عن يحيى بن يعمر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال عرضت على امتي باعمالها حسنها وسييها فرايت في محاسن اعمالها الاذى ينحى عن الطريق ورايت في سيي اعمالها النخاعة في المسجد لا تدفن
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام، صاحب الدستوايي عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن عبادة، قال قلت يا رسول الله اى الصدقة افضل قال " سقى الماء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی ( ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی ) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ ( وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے ) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يصف الناس يوم القيامة صفوفا - وقال ابن نمير اهل الجنة - فيمر الرجل من اهل النار على الرجل فيقول يا فلان اما تذكر يوم استسقيت فسقيتك شربة قال فيشفع له ويمر الرجل فيقول اما تذكر يوم ناولتك طهورا فيشفع له " . قال ابن نمير " ويقول يا فلان اما تذكر يوم بعثتني في حاجة كذا وكذا فذهبت لك فيشفع له
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن جعشم، عن ابيه، عن عمه، سراقة بن جعشم قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ضالة الابل تغشى حياضي قد لطتها لابلي فهل لي من اجر ان سقيتها فقال " نعم في كل ذات كبد حرى اجر
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نرمی ( کی خصلت ) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن تميم بن سلمة، عن عبد الرحمن بن هلال العبسي، عن جرير بن عبد الله البجلي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يحرم الرفق يحرم الخير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن حفص الابلي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله رفيق يحب الرفق ويعطي عليه ما لا يعطي على العنف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، ح وحدثنا هشام بن عمار، وعبد الرحمن بن ابراهيم، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله رفيق يحب الرفق في الامر كله
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( حقیقت میں لونڈی اور غلام ) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لیے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخوانكم جعلهم الله تحت ايديكم فاطعموهم مما تاكلون والبسوهم مما تلبسون ولا تكلفوهم ما يغلبهم فان كلفتموهم فاعينوهم
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو ( اس کی جگہ ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا اسحاق بن سليمان، عن مغيرة بن مسلم، عن فرقد السبخي، عن مرة الطيب، عن ابي بكر الصديق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة سيي الملكة " . قالوا يا رسول الله اليس اخبرتنا ان هذه الامة اكثر الامم مملوكين ويتامى قال " نعم فاكرموهم ككرامة اولادكم واطعموهم مما تاكلون " . قالوا فما ينفعنا في الدنيا قال " فرس ترتبطه تقاتل عليه في سبيل الله مملوكك يكفيك فاذا صلى فهو اخوك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے ( وہ یہ کہ ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، وابن، نمير عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تومنوا ولا تومنوا حتى تحابوا . اولا ادلكم على شىء اذا فعلتموه تحاببتم افشوا السلام بينكم
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن زياد، عن ابي امامة، قال امرنا نبينا صلى الله عليه وسلم ان نفشي السلام
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعبدوا الرحمن وافشوا السلام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» ( اور تم پر بھی سلامتی ہو ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رجلا، دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد فصلى ثم جاء فسلم فقال " وعليك السلام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ( یہ سن کر ) انہوں نے جواب میں کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ( اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا، عن الشعبي، عن ابي سلمة، ان عايشة، حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها " ان جبراييل يقرا عليك السلام " . قالت وعليه السلام ورحمة الله