Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
ابن سلامہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ ۱؎ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك بن عبد الله، عن منصور، عن عبيد الله بن علي، عن ابن سلامة السلمي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اوصي امرا بامه اوصي امرا بامه اوصي امرا بامه - ثلاثا - اوصي امرا بابيه اوصي امرءا بمولاه الذي يليه وان كان عليه منه اذى يوذيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں ۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ميمون المكي حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قالوا يا رسول الله من ابر قال " امك " . قال ثم من قال " امك " . قال ثم من قال " اباك " . قال ثم من قال " الادنى فالادنى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجزي ولد والده الا ان يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قنطار» بارہ ہزار «اوقیہ» کا ہوتا ہے، اور ہر «اوقیہ» آسمان و زمین کے درمیان پائی جانے والی چیزوں سے بہتر ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا ( حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا ) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " القنطار اثنا عشر الف اوقية كل اوقية خير مما بين السماء والارض " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرجل لترفع درجته في الجنة فيقول انى هذا فيقال باستغفار ولدك لك
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ماؤں کے ساتھ حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کی وصیت کرتا ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں، پھر ان کے بعد جو قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يوصيكم بامهاتكم - ثلاثا - ان الله يوصيكم بابايكم ان الله يوصيكم بالاقرب فالاقرب
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! والدین کا حق ان کی اولاد پر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عثمان بن ابي العاتكة، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن ابي امامة، ان رجلا، قال يا رسول الله ما حق الوالدين على ولدهما قال " هما جنتك ونارك
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عطاء، عن ابي عبد الرحمن، عن ابي الدرداء، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الوالد اوسط ابواب الجنة فاضع ذلك الباب او احفظه
ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اتنے میں قبیلہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا، اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہیں کی وجہ سے ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عبد الرحمن بن سليمان، عن اسيد بن علي بن عبيد، مولى بني ساعدة عن ابيه، عن ابي اسيد، مالك بن ربيعة قال بينما نحن عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رجل من بني سليم فقال يا رسول الله ابقي من بر ابوى شىء ابرهما به من بعد موتهما قال " نعم الصلاة عليهما والاستغفار لهما وايفاء بعهودهما من بعد موتهما واكرام صديقهما وصلة الرحم التي لا توصل الا بهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں ( خانہ بدوشوں ) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! ( اپنے بچوں کا ) بوسہ نہیں لیتے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قدم ناس من الاعراب على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا اتقبلون صبيانكم قالوا نعم . فقالوا لكنا والله ما نقبل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " واملك ان كان الله قد نزع منكم الرحمة
یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا وهيب، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن ابي راشد، عن يعلى العامري، انه قال جاء الحسن والحسين يسعيان الى النبي صلى الله عليه وسلم فضمهما اليه وقال " ان الولد مبخلة مجبنة
سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتا دوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس آ گئی ہو ۱؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن موسى بن على، سمعت ابي يذكر، عن سراقة بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا ادلكم على افضل الصدقة ابنتك مردودة اليك ليس لها كاسب غيرك
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن مسعر، اخبرني سعد بن ابراهيم، عن الحسن، عن صعصعة، عم الاحنف قال دخلت على عايشة امراة معها ابنتان لها فاعطتها ثلاث تمرات فاعطت كل واحدة منهما تمرة ثم صدعت الباقية بينهما . قالت فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال " ما عجبك لقد دخلت به الجنة
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی ۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، حدثنا ابن المبارك، عن حرملة بن عمران، قال سمعت ابا عشانة المعافري، قال سمعت عقبة بن عامر، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان له ثلاث بنات فصبر عليهن واطعمهن وسقاهن وكساهن من جدته - كن له حجابا من النار يوم القيامة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک ( اچھا برتاؤ ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی ۔
حدثنا الحسين بن الحسن، حدثنا ابن المبارك، عن فطر، عن ابي سعد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل تدرك له ابنتان فيحسن اليهما ما صحبتاه او صحبهما الا ادخلتاه الجنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور انہیں بہترین ادب سکھاؤ ۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا علي بن عياش، حدثنا سعيد بن عمارة، اخبرني الحارث بن النعمان، سمعت انس بن مالك، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اكرموا اولادكم واحسنوا ادبهم
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام اور اس کی خاطرداری کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع نافع بن جبير، يخبر عن ابي شريح الخزاعي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليحسن الى جاره ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليسكت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جبرائیل علیہ السلام برابر پڑوس کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، وعبدة بن سليمان، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، جميعا عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمرة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنا دیں گے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما زال جبراييل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری ( ضیافت ) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي شريح الخزاعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه وجايزته يوم وليلة ولا يحل له ان يثوي عند صاحبه حتى يحرجه الضيافة ثلاثة ايام وما انفق عليه بعد ثلاثة ايام فهو صدقة
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ ہم کو لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں، اور ہم ان کے پاس اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ان چیزوں کے لینے کا حکم دیں جو مہمان کو درکار ہوتی ہیں، تو انہیں لے لو، اور اگر نہ دیں تو اپنی مہمان نوازی کا حق جو ان کے لیے مناسب ہو ان سے وصول کر لو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، انه قال قلنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم انك تبعثنا فننزل بقوم فلا يقرونا فما ترى في ذلك . قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان نزلتم بقوم فامروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا وان لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم