Loading...

Loading...
کتب
۱۷۰ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم ( جواب میں صرف ) «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبدة بن سليمان، ومحمد بن بشر، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سلم عليكم احد من اهل الكتاب فقولوا وعليكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے، اور کہا: «السام عليك يا أبا القاسم» اے ابوالقاسم تم پر موت ہو ، تو آپ نے ( جواب میں صرف ) فرمایا: «وعليكم» اور تم پر بھی ہو۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم ناس من اليهود فقالوا السام عليك يا ابا القاسم . فقال " وعليكم
ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں «وعليكم» کہو ( یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق ) ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابن نمير، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مرثد بن عبد الله اليزني، عن ابي عبد الرحمن الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني راكب غدا الى اليهود فلا تبدءوهم بالسلام فاذا سلموا عليكم فقولوا وعليكم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ( اس وقت ) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حميد، عن انس، قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن صبيان فسلم علينا
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي حسين، سمعه من، شهر بن حوشب يقول اخبرته اسماء بنت يزيد، قالت مر علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في نسوة فسلم علينا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ( ملاقات کے وقت ) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر ہم نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں ( گلے ملیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ مصافحہ کیا کرو ( ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ ) ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن جرير بن حازم، عن حنظلة بن عبد الرحمن السدوسي، عن انس بن مالك، قال قلنا يا رسول الله اينحني بعضنا لبعض قال " لا " . قلنا ايعانق بعضنا بعضا قال " لا ولكن تصافحوا
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور مصافحہ کرتے ( ہاتھ ملاتے ) ہیں، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، وعبد الله بن نمير، عن الاجلح، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان الا غفر لهما قبل ان يتفرقا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ چوما۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا يزيد بن ابي زياد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابن عمر، قال قبلنا يد النبي صلى الله عليه وسلم
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن ادريس، وغندر، وابو اسامة عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن صفوان بن عسال، ان قوما، من اليهود قبلوا يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجليه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور بلا کر پوچھا کہ آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ویسے ہی تین مرتبہ اجازت طلب کی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگر ہمیں تین دفعہ میں اجازت دے دی جائے تو اندر چلے جائیں ورنہ لوٹ جائیں، تب انہوں نے کہا: آپ اس حدیث پر گواہ لائیں ورنہ میں آپ کے ساتھ ایسا ایسا کروں گا یعنی سزا دوں گا، تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مجلس میں آئے، اور ان کو قسم دی ( کہ اگر کسی نے یہ تین مرتبہ اجازت طلب کرنے والی حدیث سنی ہو تو میرے ساتھ اس کی گواہی دے ) ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کر گواہی دی تب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو چھوڑا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا داود بن ابي هند، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، ان ابا موسى، استاذن على عمر ثلاثا فلم يوذن له فانصرف فارسل اليه عمر ما ردك قال استاذنت الاستيذان الذي امرنا به رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فان اذن لنا دخلنا وان لم يوذن لنا رجعنا . قال فقال لتاتيني على هذا ببينة او لافعلن . فاتى مجلس قومه فناشدهم فشهدوا له فخلى سبيله
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن واصل بن السايب، عن ابي سورة، عن ابي ايوب الانصاري، قال قلنا يا رسول الله هذا السلام فما الاستيناس قال " يتكلم الرجل تسبيحة وتكبيرة وتحميدة ويتنحنح ويوذن اهل البيت
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لیے میرے دو وقت مقرر تھے: ایک رات میں، ایک دن میں، تو میں جب آتا اور آپ نماز کی حالت میں ہوتے تو آپ میرے لیے کھنکار دیتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن مغيرة، عن الحارث، عن عبد الله بن نجى، عن علي، قال كان لي من رسول الله صلى الله عليه وسلم مدخلان مدخل بالليل ومدخل بالنهار فكنت اذا اتيته وهو يصلي يتنحنح لي
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے ( مکان کے اندر سے ) پوچھا: کون ہو ؟ میں نے عرض کیا: میں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، میں کیا؟ ( نام لو ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال استاذنت على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من هذا " . فقلت انا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انا انا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح کیسے کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نہ آج روزہ رکھا، نہ بیمار کی عیادت ( مزاج پرسی ) کی خیریت سے ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبد الله بن مسلم، عن عبد الرحمن بن سابط، عن جابر، قال قلت كيف اصبحت يا رسول الله قال " بخير من رجل لم يصبح صايما ولم يعد سقيما
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے تو فرمایا: «السلام عليكم» انہوں نے ( جواب میں ) «وعليك السلام ورحمة الله وبركاته» کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كيف أصبحتم» آپ نے صبح کیسے کی ؟ جواب دیا: «بخير نحمد الله» خیریت سے کی اس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لیکن آپ نے کیسے کی؟ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله» میں نے بھی خیریت کے ساتھ صبح کی ۔
حدثنا ابو اسحاق الهروي، ابراهيم بن عبد الله بن حاتم حدثنا عبد الله بن عثمان بن اسحاق بن سعد بن ابي وقاص، حدثني جدي ابو امي، مالك بن حمزة بن ابي اسيد الساعدي عن ابيه، عن جده ابي اسيد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بن عبد المطلب ودخل عليهم فقال " السلام عليكم " . قالوا وعليك السلام ورحمة الله وبركاته . قال " كيف اصبحتم " . قالوا بخير نحمد الله فكيف اصبحت بابينا وامنا يا رسول الله قال " اصبحت بخير احمد الله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی معزز آدمی آئے تو تم اس کا احترام کرو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سعيد بن مسلمة، عن ابن عجلان، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتاكم كريم قوم فاكرموه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کے جواب میں «يرحمك الله» اللہ تم پر رحم کرے کہا، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا، اس کا سبب کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نے ( چھینکنے کے بعد ) «الحمد لله» کہا، اور دوسرے نے نہیں کہا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن سليمان التيمي، عن انس بن مالك، قال عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما - او سمت - ولم يشمت الاخر فقيل يا رسول الله عطس عندك رجلان فشمت احدهما ولم تشمت الاخر فقال " ان هذا حمد الله وان هذا لم يحمد الله
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کو تین مرتبہ جواب دیا جائے، جو اس سے زیادہ چھینکے تو اسے زکام ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يشمت العاطس ثلاثا فما زاد فهو مزكوم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله» کہے، اس کے پاس موجود لوگ«يرحمك الله» کہیں، پھر چھینکنے والا ان کو جواب دے «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے، اور تمہاری حالت درست کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن ابن ابي ليلى، عن عيسى، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا عطس احدكم فليقل الحمد لله . وليرد عليه من حوله يرحمك الله . وليرد عليهم يهديكم الله ويصلح بالكم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کسی شخص سے ملاقات ہوتی اور آپ اس سے بات کرتے تو اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیر لیتا، اور جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابي يحيى الطويل، - رجل من اهل الكوفة - عن زيد العمي، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا لقي الرجل فكلمه لم يصرف وجهه عنه حتى يكون هو الذي ينصرف واذا صافحه لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزعها ولم ير متقدما بركبتيه جليسا له قط