Loading...

Loading...
کتب
۲۹ احادیث
عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا ( تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا ) ، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، ( لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا ) ، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح. الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے ، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا ( فرشتہ ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ۱؎۔
حدثنا ابو عبيد، محمد بن عبيد بن ميمون المدني حدثنا محمد بن سلمة الحراني، حدثنا محمد بن اسحاق، حدثنا محمد بن ابراهيم التيمي، عن محمد بن عبد الله بن زيد، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد هم بالبوق وامر بالناقوس فنحت فاري عبد الله بن زيد في المنام قال رايت رجلا عليه ثوبان اخضران يحمل ناقوسا فقلت له يا عبد الله تبيع الناقوس قال وما تصنع به قلت انادي به الى الصلاة . قال افلا ادلك على خير من ذلك قلت وما هو قال تقول الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح . الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله . قال فخرج عبد الله بن زيد حتى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بما راى . قال يا رسول الله رايت رجلا عليه ثوبان اخضران يحمل ناقوسا . فقص عليه الخبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان صاحبكم قد راى رويا فاخرج مع بلال الى المسجد فالقها عليه وليناد بلال فانه اندى صوتا منك " . قال فخرجت مع بلال الى المسجد فجعلت القيها عليه وهو ينادي بها . قال فسمع عمر بن الخطاب بالصوت فخرج فقال يا رسول الله والله لقد رايت مثل الذي راى . قال ابو عبيد فاخبرني ابو بكر الحكمي ان عبد الله بن زيد الانصاري قال في ذلك احمد الله ذا الجلال وذا الاكرام حمدا على الاذان كثيرا اذ اتاني به البشير من الله فاكرم به لدى بشيرا في ليال والى بهن ثلاث كلما جاء زادني توقيرا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اس مسئلہ میں مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کیا صورت ہونی چاہیئے، کچھ صحابہ نے بگل کا ذکر کیا ( کہ اسے نماز کے وقت بجا دیا جائے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہود سے مشابہت کے بنیاد پر ناپسند فرمایا، پھر کچھ نے ناقوس کا ذکر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی نصاریٰ سے تشبیہ کی بناء پر ناپسند فرمایا، اسی رات ایک انصاری صحابی عبداللہ بن زید اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو خواب میں اذان دکھائی گئی، انصاری صحابی رات ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم دیا تو انہوں نے اذان دی۔ زہری کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ نے صبح کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے کا اضافہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے، لیکن وہ ( آپ کے پاس پہنچنے میں ) مجھ سے سبقت لے گئے۔
حدثنا محمد بن خالد بن عبد الله الواسطي، حدثنا ابي، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم استشار الناس لما يهمهم الى الصلاة فذكروا البوق فكرهه من اجل اليهود ثم ذكروا الناقوس فكرهه من اجل النصارى فاري النداء تلك الليلة رجل من الانصار يقال له عبد الله بن زيد وعمر بن الخطاب فطرق الانصاري رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بلالا به فاذن . قال الزهري وزاد بلال في نداء صلاة الغداة الصلاة خير من النوم فاقرها رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال عمر يا رسول الله قد رايت مثل الذي راى ولكنه سبقني
عبداللہ بن محیریز جو یتیم تھے اور ابومحذورہ بن معیر کے زیر پرورش تھے، کہتے ہیں کہ جس وقت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سامان تجارت دے کر شام کی جانب روانہ کیا، تو انہوں نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: چچا جان! میں ملک شام جا رہا ہوں، اور لوگ مجھ سے آپ کی اذان کے سلسلے میں پوچھیں گے، ابومحذورہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ نکلا، ہم راستے ہی میں تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم نے مؤذن کی آواز سنی چونکہ ہم اس ( اذان یا اسلام ) سے متنفر تھے ( کیونکہ ہم کفر کی حالت میں تھے ) اس لیے ہم چلا چلا کر اس کی نقلیں اتارنے اور اس کا ٹھٹھا کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہوں نے ہمیں پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس کی آواز ابھی میں نے سنی کافی بلند تھی ، سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور وہ سچ بولے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو چھوڑ دیا اور صرف مجھے روک لیا، اور مجھ سے کہا: کھڑے ہو اذان دو ، میں اٹھا لیکن اس وقت میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس چیز سے جس کا آپ مجھے حکم دے رہے تھے زیادہ بری کوئی اور چیز نہ تھی، خیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، آپ نے خود مجھے اذان سکھانی شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: بآواز بلند کہو: «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»، جب میں اذان دے چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا اور اسے ان کے چہرہ، سینہ، پیٹ اور ناف تک پھیرا، پھر فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہیں حکم دیا ہے بس اس کے ساتھ ہی جتنی بھی نفرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی وہ جاتی رہی، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بدل گئی، ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کی گورنری کے زمانہ میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔ عبدالعزیز بن عبدالملک کہتے ہیں کہ جس طرح عبداللہ بن محیریز نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی اسی طرح اس شخص نے بھی بیان کی جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے ملا تھا۔
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کے لیے انیس کلمات اور اقامت کے لیے سترہ کلمات سکھائے، اذان کے کلمات یہ ہیں:«الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ اور اقامت کے لیے سترہ کلمات یہ ہیں: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، نماز قائم ہو گئی، نماز قائم ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۱؎
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا همام بن يحيى، عن عامر الاحول، ان مكحولا، حدثه ان عبد الله بن محيريز حدثه ان ابا محذورة حدثه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم الاذان تسع عشرة كلمة والاقامة سبع عشرة كلمة الاذان " الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله " . والاقامة سبع عشرة كلمة " الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله
مؤذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں، اور فرمایا: اس سے تمہاری آواز خوب بلند ہو گی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن ابيه عن جده ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بلالا ان يجعل اصبعيه في اذنيه وقال " انه ارفع لصوتك
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں وادی بطحاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ایک سرخ خیمہ میں قیام پذیر تھے، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور اذان دی، تو اپنی اذان میں گھوم گئے ( جس وقت انہوں نے «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے کلمات کہے ) ، اور اپنی ( شہادت کی ) دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالیں ۱؎۔
حدثنا ايوب بن محمد الهاشمي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن حجاج بن ارطاة، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالابطح وهو في قبة حمراء فخرج بلال فاذن فاستدار في اذانه وجعل اصبعيه في اذنيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے دو کام مؤذن کی گردنوں میں لٹکے ہوتے ہیں: ایک نماز، دوسرے روزہ ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية، عن مروان بن سالم، عن عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خصلتان معلقتان في اعناق الموذنين للمسلمين صلاتهم وصيامهم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو داود، حدثنا شريك، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان بلال لا يوخر الاذان عن الوقت وربما اخر الاقامة شييا
عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری وصیت یہ کی تھی کہ میں کوئی ایسا مؤذن نہ رکھوں جو اذان پر اجرت لیتا ہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن اشعث، عن الحسن، عن عثمان بن ابي العاص، قال كان اخر ما عهد الى النبي صلى الله عليه وسلم ان لا اتخذ موذنا ياخذ على الاذان اجرا
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی اذان میں «تثويب» ۱؎ کہوں، اور آپ نے عشاء کی اذان میں «تثويب» سے مجھے منع فرمایا ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي، عن ابي اسراييل، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن بلال، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اثوب في الفجر ونهاني ان اثوب في العشاء
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، ان کو بتایا گیا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں، تو بلال رضی اللہ عنہ نے دو بار «الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم» کہا نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے تو یہ کلمات فجر کی اذان میں برقرار رکھے گئے، پھر معاملہ اسی پر قائم رہا۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن بلال، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم يوذنه بصلاة الفجر فقيل هو نايم . فقال الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم فاقرت في تاذين الفجر فثبت الامر على ذلك
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، ( پھر جب نماز کا وقت ہوا ) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صداء کے بھائی ( زیاد بن حارث صدائی ) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا الافريقي، عن زياد بن نعيم، عن زياد بن الحارث الصدايي، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فامرني فاذنت فاراد بلال ان يقيم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخا صداء قد اذن ومن اذن فهو يقيم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان دے تو تم بھی انہیں کلمات کو دہراؤ ۱؎۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن عباد بن اسحاق، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اذن الموذن فقولوا مثل قوله
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کی باری کے دن و رات ان کے پاس ہوتے، اور مؤذن کی آواز سنتے تو انہی کلمات کو دہراتے جو مؤذن کہتا۔
حدثنا شجاع بن مخلد ابو الفضل، قال حدثنا هشيم، انبانا ابو بشر، عن ابي المليح بن اسامة، عن عبد الله بن عتبة بن ابي سفيان، حدثتني عمتي ام حبيبة، انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اذا كان عندها في يومها وليلتها فسمع الموذن يوذن قال كما يقول الموذن
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کی اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا زيد بن الحباب، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سمعتم النداء فقولوا كما يقول الموذن
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ تن تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن الحكيم بن عبد الله بن قيس، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من قال حين يسمع الموذن وانا اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا غفر له ذنبه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے مالک، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلت ۲؎ عطا فرما، آپ کو اس مقام محمود ۳؎ تک پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت حلال ہو گئی ۴؎ ۔
حدثنا محمد بن يحيى، والعباس بن الوليد الدمشقي، ومحمد بن ابي الحسين، قالوا حدثنا علي بن عياش الالهاني، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القايمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته - الا حلت له الشفاعة يوم القيامة
عبدالرحمٰن بن ابوصعصعہ (جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش تھے) کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم صحراء میں ہو تو اذان میں اپنی آواز بلند کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اذان کو جنات، انسان، درخت اور پتھر جو بھی سنیں گے وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دیں گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، - وكان ابوه في حجر ابي سعيد - قال قال لي ابو سعيد اذا كنت في البوادي فارفع صوتك بالاذان فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يسمعه جن ولا انس ولا شجر ولا حجر الا شهد له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ۲۵ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن موسى بن ابي عثمان، عن ابي يحيى، عن ابي هريرة، قال سمعت من، في رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الموذن يغفر له مد صوته ويستغفر له كل رطب ويابس وشاهد الصلاة يكتب له خمس وعشرون حسنة ويكفر عنه ما بينهما
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا ابو عامر، حدثنا سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن عيسى بن طلحة، قال سمعت معاوية بن ابي سفيان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الموذنون اطول الناس اعناقا يوم القيامة
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا ابو عاصم، انبانا ابن جريج، اخبرني عبد العزيز بن عبد الملك بن ابي محذورة، عن عبد الله بن محيريز، - وكان يتيما في حجر ابي محذورة بن معير حين جهزه الى الشام - فقلت لابي محذورة اى عم اني خارج الى الشام واني اسال عن تاذينك فاخبرني ان ابا محذورة قال خرجت في نفر فكنا ببعض الطريق فاذن موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعنا صوت الموذن ونحن عنه متنكبون فصرخنا نحكيه نهزا به فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فارسل الينا قوما فاقعدونا بين يديه فقال " ايكم الذي سمعت صوته قد ارتفع " . فاشار الى القوم كلهم وصدقوا فارسل كلهم وحبسني وقال لي " قم فاذن " . فقمت ولا شىء اكره الى من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا مما يامرني به فقمت بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فالقى على رسول الله التاذين هو بنفسه فقال " قل الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله " . ثم قال لي " ارجع فمد من صوتك اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله " . ثم دعاني حين قضيت التاذين فاعطاني صرة فيها شىء من فضة ثم وضع يده على ناصية ابي محذورة ثم امرها على وجهه من بين يديه ثم على كبده ثم بلغت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم سرة ابي محذورة ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بارك الله لك وبارك عليك " . فقلت يا رسول الله امرتني بالتاذين بمكة قال " نعم قد امرتك " . فذهب كل شىء كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم من كراهية وعاد ذلك كله محبة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقدمت على عتاب بن اسيد عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فاذنت معه بالصلاة على امر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال واخبرني ذلك من ادرك ابا محذورة على ما اخبرني عبد الله بن محيريز