Loading...

Loading...
کتب
۲۹ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اچھے لوگ اذان دیں، اور جو لوگ قاری عالم ہوں وہ امامت کریں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن عيسى، اخو سليم القاري عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليوذن لكم خياركم وليومكم قراوكم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے طلب ثواب کی نیت سے سات سال اذان دی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دے گا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا مختار بن غسان، حدثنا حفص بن عمر الازرق البرجمي، عن جابر، عن عكرمة، عن ابن عباس، ح وحدثنا روح بن الفرج، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا ابو حمزة، عن جابر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اذن محتسبا سبع سنين كتب الله له براءة من النار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بارہ سال اذان دی، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور اس کے لیے ہر روز کی اذان کے بدلے ساٹھ نیکیاں، اور ہر اقامت پہ تیس نیکیاں لکھ دی گئیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، والحسن بن علي الخلال، قالا حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا يحيى بن ايوب، عن ابن جريج، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اذن ثنتى عشرة سنة وجبت له الجنة وكتب له بتاذينه في كل يوم ستون حسنة ولكل اقامة ثلاثون حسنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے اوقات کی واقفیت ہو جائے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال التمسوا شييا يوذنون به علما للصلاة فامر بلال ان يشفع الاذان ويوتر الاقامة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عمر بن علي، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس، قال امر بلال ان يشفع، الاذان ويوتر الاقامة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن ابيه عن جده ان اذان بلال كان مثنى مثنى واقامته مفردة
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ۱؎۔
حدثنا ابو بدر، عباد بن الوليد حدثني معمر بن محمد بن عبيد الله بن ابي رافع، مولى النبي صلى الله عليه وسلم حدثني ابي محمد بن عبيد الله عن ابيه عبيد الله عن ابي رافع قال رايت بلالا يوذن بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم مثنى مثنى ويقيم واحدة
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم مسجد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں مؤذن نے اذان دی، ایک شخص مسجد سے اٹھ کر جانے لگا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا، اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابراهيم بن مهاجر، عن ابي الشعثاء، قال كنا قعودا في المسجد مع ابي هريرة فاذن الموذن فقام رجل من المسجد يمشي فاتبعه ابو هريرة بصره حتى خرج من المسجد فقال ابو هريرة اما هذا فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد میں ہو، اور اذان ہو جائے پھر وہ بلا ضرورت باہر نکل جائے اور واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھے، تو وہ منافق ہے ۱؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا عبد الجبار بن عمر، عن ابن ابي فروة، عن محمد بن يوسف، مولى عثمان بن عفان عن ابيه، عن عثمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادركه الاذان في المسجد ثم خرج لم يخرج لحاجة وهو لا يريد الرجعة فهو منافق