Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کرتے، ( ذبح کے وقت ) «بسم الله» اور «الله أكبر» کہتے تھے، اور میں نے آپ کو اپنا پاؤں جانور کے پٹھوں پر رکھ کر اپنے ہاتھوں سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثني ابي ح، وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يضحي بكبشين املحين اقرنين ويسمي ويكبر ولقد رايته يذبح بيده واضعا قدمه على صفاحهما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي عياش الزرقي، عن جابر بن عبد الله، قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عيد بكبشين فقال حين وجههما " اني وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا اول المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وامته
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذبح فرماتے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا سفيان الثوري، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن ابي سلمة، عن عايشة، وعن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان يضحي اشترى كبشين عظيمين سمينين اقرنين املحين موجوءين فذبح احدهما عن امته لمن شهد لله بالتوحيد وشهد له بالبلاغ وذبح الاخر عن محمد وعن ال محمد صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا عبد الله بن عياش، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا قربانی واجب ہے؟ تو جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی ہے، اور آپ کے بعد مسلمانوں نے کی ہے، اور یہ سنت جاری ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين، قال سالت ابن عمر عن الضحايا، اواجبة هي قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون من بعده وجرت به السنة . حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا الحجاج بن ارطاة، حدثنا جبلة بن سحيم، قال سالت ابن عمر . فذكر مثله سواء
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ۱؎ اور ایک «عتیرہ» ہے ، تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاذ بن معاذ، عن ابن عون، قال انبانا ابو رملة، عن مخنف بن سليم، قال كنا وقوفا عند النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة فقال " يا ايها الناس ان على كل اهل بيت في كل عام اضحية وعتيرة " . اتدرون ما العتيرة هي التي يسميها الناس الرجبية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عبد الله بن نافع، حدثني ابو المثنى، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما عمل ابن ادم يوم النحر عملا احب الى الله عز وجل من هراقة دم وانه لياتي يوم القيامة بقرونها واظلافها واشعارها وان الدم ليقع من الله عز وجل بمكان قبل ان يقع على الارض فطيبوا بها نفسا
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا سلام بن مسكين، حدثنا عايذ الله، عن ابي داود، عن زيد بن ارقم، قال قال اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله ما هذه الاضاحي قال " سنة ابيكم ابراهيم " . قالوا فما لنا فيها يا رسول الله قال " بكل شعرة حسنة " . قالوا فالصوف يا رسول الله قال " بكل شعرة من الصوف حسنة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگ دار نر تھا، اس کا منہ اور پیر کالے تھے، اور آنکھیں بھی کالی تھیں ( یعنی چتکبرا تھا ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن ابي سعيد، قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبش اقرن فحيل ياكل في سواد ويمشي في سواد وينظر في سواد
یونس بن میسرہ بن حلبس کہتے ہیں کہ میں صحابی رسول ابوسعید زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے گیا، تو آپ نے ایک ایسے مینڈھے کی نشاندہی کی جس کی ٹھوڑی اور کانوں میں کچھ سیاہی تھی، اور وہ جسمانی طور پر نہ زیادہ بلند تھا، نہ ہی زیادہ پست، انہوں نے مجھ سے کہا: میرے لیے اسے خرید لو، شاید انہوں نے اس جانور کو رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے مینڈھے کے مشابہ سمجھا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا محمد بن شعيب، اخبرني سعيد بن عبد العزيز، حدثنا يونس بن ميسرة بن حلبس، قال خرجنا مع ابي سعيد الزرقي - صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم - الى شراء الضحايا . قال يونس فاشار ابو سعيد الى كبش ادغم ليس بالمرتفع ولا المتضع في جسمه فقال لي اشتر لي هذا . كانه شبهه بكبش رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار مینڈھا ہے ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو عايذ، انه سمع سليم بن عامر، يحدث عن ابي امامة الباهلي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خير الكفن الحلة وخير الضحايا الكبش الاقرن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے ۱؎۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، انبانا الفضل بن موسى، انبانا الحسين بن واقد، عن علباء بن احمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فحضر الاضحى فاشتركنا في الجزور عن عشرة والبقرة عن سبعة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں اونٹ کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر کیا، اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی طرف سے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نحرنا بالحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی ان ساری بیویوں کی طرف سے جنہوں نے حجۃالوداع میں عمرہ کیا تھا، ایک ہی گائے ذبح کی ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عمن اعتمر من نسايه في حجة الوداع بقرة بينهن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کم ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عمرو بن ميمون، عن ابي حاضر الازدي، عن ابن عباس، قال قلت الابل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرهم ان ينحروا البقر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري ابو طاهر، انبانا ابن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن عمرة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نحر عن ال محمد صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بقرة واحدة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میرے ذمہ ایک اونٹ کی ( قربانی ) ہے، اور میں اس کی استطاعت بھی رکھتا ہوں، لیکن اونٹ دستیاب نہیں کہ میں اسے خرید سکوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات بکریاں خریدنے اور انہیں ذبح کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا محمد بن بكر البرساني، حدثنا ابن جريج، قال قال عطاء الخراساني عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتاه رجل فقال ان على بدنة وانا موسر بها ولا اجدها فاشتريها . فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يبتاع سبع شياه فيذبحهن
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے ذوالحلیفہ نامی جگہ میں تھے، ہم نے اونٹ اور بکریاں مال غنیمت میں پائیں، پھر لوگوں نے ( گوشت کاٹنے میں ) عجلت سے کام لیا، اور ہم نے ( مال غنیمت ) کی تقسیم سے پہلے ہی ہانڈیاں چڑھا دیں، پھر ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا، تو وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر ٹھہرایا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا المحاربي، وعبد الرحيم، عن سفيان الثوري، عن سعيد بن مسروق، وحدثنا الحسين بن علي، عن زايدة، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن رافع بن خديج، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن بذي الحليفة من تهامة فاصبنا ابلا وغنما فعجل القوم فاغلينا القدور قبل ان تقسم فاتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بها فاكفيت ثم عدل الجزور بعشرة من الغنم
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں عنایت کیں، تو انہوں نے ان کو اپنے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیا، ایک بکری کا بچہ بچ رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی تم کر لو ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاه غنما فقسمها على اصحابه ضحايا فبقي عتود فذكره لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ضح به انت
ہلال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا انس بن عياض، حدثني محمد بن ابي يحيى، - مولى الاسلميين - عن امه، قالت حدثتني ام بلال بنت هلال، عن ابيها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يجوز الجذع من الضان اضحية