Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
کلیب کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہو گئی، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ( قربانی کے لیے ) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، قال كنا مع رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقال له مجاشع من بني سليم فعزت الغنم فامر مناديا فنادى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " ان الجذع يوفي مما توفي منه الثنية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف مسنہ ( دانتا جانور ) ذبح کرو، البتہ جب وہ تم پر دشوار ہو تو بھیڑ کا جذعہ ( ایک سالہ بچہ ) ذبح کرو ۱؎۔
حدثنا هارون بن حيان، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله، انبانا زهير، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تذبحوا الا مسنة الا ان يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضان
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن شريح بن النعمان، عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يضحى بمقابلة او مدابرة او شرقاء او خرقاء او جدعاء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ( قربانی کے جانور ) کی آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیں ( آیا وہ سلامت ہیں یا نہیں ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن حجية بن عدي، عن علي، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستشرف العين والاذن
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۱؎۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وعبد الرحمن، وابو داود وابن ابي عدي وابو الوليد قالوا حدثنا شعبة، سمعت سليمان بن عبد الرحمن، قال سمعت عبيد بن فيروز، قال قلت للبراء بن عازب حدثني بما، كره او نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم من الاضاحي . فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هكذا بيده ويدي اقصر من يده " اربع لا تجزي في الاضاحي العوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعرجاء البين ظلعها والكسيرة التي لا تنقي " . قال فاني اكره ان يكون نقص في الاذن . قال فما كرهت منه فدعه ولا تحرمه على احد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، انه ذكر انه سمع جرى بن كليب، يحدث انه سمع عليا، يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يضحى باعضب القرن والاذن
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس سلسلے میں ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن عبد الملك ابو بكر، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن الثوري، عن جابر بن يزيد، عن محمد بن قرظة الانصاري، عن ابي سعيد الخدري، قال ابتعنا كبشا نضحي به فاصاب الذيب من اليته او اذنه فسالنا النبي صلى الله عليه وسلم فامرنا ان نضحي به
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني الضحاك بن عثمان، عن عمارة بن عبد الله بن صياد، عن عطاء بن يسار، قال سالت ابا ايوب الانصاري كيف كانت الضحايا فيكم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان الرجل في عهد النبي صلى الله عليه وسلم يضحي بالشاة عنه وعن اهل بيته فياكلون ويطعمون ثم تباهى الناس فصار كما ترى
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا عبد الرحمن بن مهدي، ومحمد بن يوسف، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، جميعا عن سفيان الثوري، عن بيان، عن الشعبي، عن ابي سريحة، قال حملني اهلي على الجفاء بعدما علمت من السنة كان اهل البيت يضحون بالشاة والشاتين والان يبخلنا جيراننا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے ۱؎۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن سعيد بن المسيب، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل العشر واراد احدكم ان يضحي فلا يمس من شعره ولا بشره شييا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے، اور قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کے قریب نہ پھٹکے ۔
حدثنا حاتم بن بكر الضبي ابو عمرو، حدثنا محمد بن بكر البرساني، ح وحدثنا محمد بن سعيد بن يزيد بن ابراهيم، حدثنا ابو قتيبة، ويحيى بن كثير، قالوا حدثنا شعبة، عن مالك بن انس، عن عمرو بن مسلم، عن سعيد بن المسيب، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من راى منكم هلال ذي الحجة فاراد ان يضحي فلا يقربن له شعرا ولا ظفرا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن انس بن مالك، ان رجلا، ذبح يوم النحر قبل الصلاة فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعيد
جندب بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے، اور جس نے نہ ذبح کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاسود بن قيس، عن جندب البجلي، انه سمعه يقول شهدت الاضحى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فذبح اناس قبل الصلاة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كان ذبح منكم قبل الصلاة فليعد اضحيته ومن لا فليذبح على اسم الله
عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ کہتے کہ انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قربانی دوبارہ کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن يحيى بن سعيد، عن عباد بن تميم، عن عويمر بن اشقر، انه ذبح قبل الصلاة فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعد اضحيتك
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس شخص نے ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا، اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي زيد، - قال ابو بكر وقال غير عبد الاعلى عن عمرو بن بجدان، عن ابي زيد، - ح وحدثنا محمد بن المثنى ابو موسى، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا ابي، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن عمرو بن بجدان، عن ابي زيد الانصاري، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بدار من دور الانصار فوجد ريح قتار فقال " من هذا الذي ذبح " . فخرج اليه رجل منا فقال انا يا رسول الله ذبحت قبل ان اصلي لاطعم اهلي وجيراني . فامره ان يعيد . فقال لا والله الذي لا اله الا هو ما عندي الا جذع او حمل من الضان . قال " اذبحها ولن تجزي جذعة عن احد بعدك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہوئے دیکھا آپ اپنا پاؤں اس کے پٹھے پر رکھے ہوئے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، قال لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذبح اضحيته بيده واضعا قدمه على صفاحها
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد، موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن ابيه عن جده ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذبح اضحيته عند طرف الزقاق طريق بني زريق بيده بشفرة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء، اس کے گوشت، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا محمد بن بكر البرساني، انبانا ابن جريج، اخبرني الحسن بن مسلم، ان مجاهدا، اخبره ان عبد الرحمن بن ابي ليلى اخبره ان علي بن ابي طالب اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امره ان يقسم بدنه كلها لحومها وجلودها وجلالها للمساكين
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، اور اس کا شوربہ پیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر من كل جزور ببضعة فجعلت في قدر فاكلوا من اللحم وحسوا من المرق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابيه، عن عايشة، قالت انما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لحوم الاضاحي لجهد الناس ثم رخص فيها