Loading...

Loading...
کتب
۳۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ، اس لیے کہ وہ علم کا آدھا حصہ ہے، وہ بھلا دیا جائے گا، اور سب سے پہلے یہی علم میری امت سے اٹھایا جائے گا ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا حفص بن عمر بن ابي العطاف، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة تعلموا الفرايض وعلموها فانه نصف العلم وهو ينسى وهو اول شىء ينتزع من امتي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی ان کی دونوں بیٹیوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں تھے اور شہید ہو گئے، ان کے چچا نے ان کی ساری میراث پر قبضہ کر لیا ( اب ان بچیوں کی شادی کا معاملہ ہے ) اور عورت سے مال کے بغیر کوئی شادی نہیں کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ میراث والی آیت نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بھائی کو طلب کیا اور فرمایا: سعد کی دونوں بیٹیوں کو ان کے مال کا دو تہائی حصہ اور ان کی بیوی کو آٹھواں حصہ دے دو، پھر جو بچے وہ تم لے لو ۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال جاءت امراة سعد بن الربيع بابنتى سعد الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله هاتان ابنتا سعد قتل معك يوم احد وان عمهما اخذ جميع ما ترك ابوهما وان المراة لا تنكح الا على مالها . فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انزلت اية الميراث فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم اخا سعد بن الربيع فقال " اعط ابنتى سعد ثلثى ماله واعط امراته الثمن وخذ انت ما بقي
ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ابوموسیٰ اشعری اور سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے اس نے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کے ( حصہ کے ) بارے میں پوچھا، تو ان دونوں نے کہا: آدھا بیٹی کے لیے ہے، اور جو باقی بچے وہ بہن کے لیے ہے، لیکن تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اور ان سے بھی معلوم کر لو، وہ بھی ہماری تائید کریں گے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے بھی مسئلہ معلوم کیا، نیز بتایا کہ ابوموسیٰ اشعری، اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا حکم دوں تو گمراہ ہو گیا، اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا، لیکن میں وہ فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، بیٹی کے لیے آدھا، اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہے، اس طرح دو تہائی پورے ہو جائیں، اور جو ایک تہائی بچا وہ بہن کے لیے ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي قيس الاودي، عن الهزيل بن شرحبيل، قال جاء رجل الى ابي موسى الاشعري وسلمان بن ربيعة الباهلي فسالهما عن ابنة وابنة ابن واخت، لاب وام فقالا للابنة النصف وما بقي فللاخت وايت ابن مسعود فسيتابعنا . فاتى الرجل ابن مسعود فساله واخبره بما قالا فقال عبد الله قد ضللت اذا وما انا من المهتدين ولكني ساقضي بما قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم للابنة النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقي فللاخت
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ کے پاس ترکے کا ایک ایسا مقدمہ لایا گیا جس میں دادا بھی ( وراثت کا حقدار ) تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی یا چھٹا حصہ دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معقل بن يسار المزني، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم اتي بفريضة فيها جد فاعطاه ثلثا او سدسا
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔
قال ابو الحسن القطان حدثنا ابو حاتم، حدثنا ابن الطباع، حدثنا هشيم، عن يونس، عن الحسن، عن معقل بن يسار، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في جد كان فينا بالسدس
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نانی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کر لوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور وہی بات بتائی جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ کر دیا۔ پھر دوسری عورت جو دادی تھی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے کہا: کتاب اللہ ( قرآن ) میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پیشتر ہو چکا ہے وہ تمہارے لیے نہیں، بلکہ نانی کے لیے ہوا، اور میں از خود فرائض میں کچھ بڑھا بھی نہیں سکتا، وہی چھٹا حصہ ہے اگر دادی اور نانی دونوں ہوں تو دونوں اس چھٹے حصے کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں، اور دونوں میں سے ایک ہو تو وہ چھٹا حصہ پورا لے لے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، انبانا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، حدثه عن قبيصة بن ذويب، ح وحدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عثمان بن اسحاق بن خرشة، عن ابن ذويب، قال جاءت الجدة الى ابي بكر الصديق تساله ميراثها فقال لها ابو بكر ما لك في كتاب الله شىء وما علمت لك في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا فارجعي حتى اسال الناس . فسال الناس فقال المغيرة بن شعبة حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاها السدس فقال ابو بكر هل معك غيرك فقام محمد بن مسلمة الانصاري فقال مثل ما قال المغيرة بن شعبة فانفذه لها ابو بكر . ثم جاءت الجدة الاخرى من قبل الاب الى عمر تساله ميراثها فقال ما لك في كتاب الله شىء وما كان القضاء الذي قضي به الا لغيرك وما انا بزايد في الفرايض شييا ولكن هو ذاك السدس فان اجتمعتما فيه فهو بينكما وايتكما خلت به فهو لها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی و نانی کو چھٹے حصے کا وارث بنایا۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الوهاب، حدثنا سلم بن قتيبة، عن شريك، عن ليث، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ورث جدة سدسا
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، یا خطبہ دیا، تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے بعد کلالہ ( ایسا مرنے والا جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا ) کے معاملے سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں چھوڑ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ ویسی سختی آپ نے مجھ سے کبھی نہیں کی یہاں تک کہ اپنی انگلی سے میری پسلی یا سینہ میں ٹھوکا مارا پھر فرمایا: اے عمر! تمہارے لیے آیت صیف «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں: آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) جو کہ سورۃ نساء کے آخر میں نازل ہوئی، وہی کافی ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سعيد، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، ان عمر بن الخطاب، قام خطيبا يوم الجمعة او خطبهم يوم الجمعة فحمد الله واثنى عليه وقال اني والله ما ادع بعدي شييا هو اهم الى من امر الكلالة وقد سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فما اغلظ لي في شىء ما اغلظ لي فيها حتى طعن باصبعه في جنبي او في صدري ثم قال " يا عمر تكفيك اية الصيف التي نزلت في اخر سورة النساء
مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا، یعنی کللہ، سود اور خلافت۔
حدثنا علي بن محمد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن مرة، عن مرة بن شراحيل، قال قال عمر بن الخطاب ثلاث لان يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهن احب الى من الدنيا وما فيها الكلالة والربا والخلافة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرنے آئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، دونوں پیدل آئے، مجھ پر بیہوشی طاری تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ( مجھے ہوش آ گیا ) تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا کروں؟ اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ کروں؟ یہاں تک کہ سورۃ نساء کے اخیر میں میراث کی یہ آیت نازل ہوئی «وإن كان رجل يورث كلالة» اور جن کی میراث لی جاتی ہے، وہ مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو ( سورۃ النساء: 12 ) اور «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں: آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، سمع جابر بن عبد الله، يقول مرضت فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني هو وابو بكر معه وهما ماشيان وقد اغمي على فتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم فصب على من وضويه فقلت يا رسول الله كيف اصنع كيف اقضي في مالي حتى نزلت اية الميراث في اخر النساء {وان كان رجل يورث كلالة} الاية و {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة} الاية
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے ؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں ( ابوطالب کے انتقال کے وقت ) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ مسلمان کافر کا وارث ہو گا، اور نہ ہی کافر مسلمان کا ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، انه حدثه ان عمرو بن عثمان اخبره عن اسامة بن زيد، انه قال يا رسول الله اتنزل في دارك بمكة قال " وهل ترك لنا عقيل من رباع او دور " . وكان عقيل ورث ابا طالب هو وطالب ولم يرث جعفر ولا علي شييا لانهما كانا مسلمين وكان عقيل وطالب كافرين . فكان عمر من اجل ذلك يقول لا يرث المومن الكافر . وقال اسامة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مذہب والے ( جیسے کافر اور مسلمان ) ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا ابن لهيعة، عن خالد بن يزيد، ان المثنى بن الصباح، اخبره عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتوارث اهل ملتين
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے نکاح کیا، اور ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو اس کے بیٹے زمین جائیداد اور ان کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے، ان سب کو لے کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام گئے، وہ سب طاعون عمواس میں مر گئے تو ان کے وارث عمرو رضی اللہ عنہ ہوئے، جو ان کے عصبہ تھے، اس کے بعد جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام سے لوٹے تو معمر کے بیٹے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی بہن کے ولاء ( حق میراث ) کا مقدمہ لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسی کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، میں نے آپ صلی اللہعلیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس ولاء کو لڑکا اور والد حاصل کریں وہ ان کے عصبہ کو ملے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو ، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا، اور ہمارے لیے ایک دستاویز لکھ دی، جس میں عبدالرحمٰن بن عوف، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرے شخص کی گواہی درج تھی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو ام وائل کا ایک غلام مر گیا، جس نے دو ہزار دینار میراث میں چھوڑے تھے، مجھے پتہ چلا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا فیصلہ بدل دیا گیا ہے، اور اس کا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس گیا ہے، تو ہم نے معاملہ عبدالملک کے سامنے اٹھایا، اور ان کے سامنے عمر رضی اللہ عنہ کی دستاویز پیش کی جس پر عبدالملک نے کہا: میرے خیال سے تو یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں کسی کو بھی شک نہیں کرنا چاہیئے، اور میں یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ مدینہ والوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ اس جیسے ( واضح ) فیصلے میں شک کر رہے ہیں، آخر کار عبدالملک نے ہماری موافقت میں فیصلہ کیا، اور ہم برابر اس میراث پر قابض رہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال تزوج رياب بن حذيفة بن سعيد بن سهم ام وايل بنت معمر الجمحية فولدت له ثلاثة فتوفيت امهم فورثها بنوها رباعا وولاء مواليها فخرج بهم عمرو بن العاص معه الى الشام فماتوا في طاعون عمواس فورثهم عمرو وكان عصبتهم فلما رجع عمرو بن العاص جاء بنو معمر يخاصمونه في ولاء اختهم الى عمر فقال عمر اقضي بينكم بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعته يقول " ما احرز الولد او الوالد فهو لعصبته من كان " . قال فقضى لنا به وكتب لنا به كتابا فيه شهادة عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت واخر حتى اذا استخلف عبد الملك بن مروان توفي مولى لها وترك الفى دينار فبلغني ان ذلك القضاء قد غير فخاصموه الى هشام بن اسماعيل فرفعنا الى عبد الملك فاتيناه بكتاب عمر فقال ان كنت لارى ان هذا من القضاء الذي لا يشك فيه وما كنت ارى ان امر اهل المدينة بلغ هذا ان يشكوا في هذا القضاء . فقضى لنا به فلم نزل فيه بعد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام کھجور کے درخت پر سے گر کر مر گیا، اور کچھ مال چھوڑ گیا، اس نے کوئی اولاد یا رشتہ دار نہیں چھوڑا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی میراث اس کے گاؤں میں سے کسی کو دے دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن مجاهد بن وردان، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان مولى، للنبي صلى الله عليه وسلم وقع من نخلة فمات وترك مالا ولم يترك ولدا ولا حميما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعطوا ميراثه رجلا من اهل قريته
عبداللہ بن شداد کی اخیافی بہن بنت حمزہ کہتی ہیں کہ میرا ایک غلام فوت ہو گیا، اس نے ایک بیٹی چھوڑی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کیا، اور مجھے اور اس کی بیٹی کو آدھا آدھا دیا، ( بیٹی کو بطور فرض اور بہن کو بطور عصبہ ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن الحكم، عن عبد الله بن شداد، عن بنت حمزة، - قال محمد يعني ابن ابي ليلى وهي اخت ابن شداد لامه - قالت مات مولاى وترك ابنة فقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ماله بيني وبين ابنته فجعل لي النصف ولها النصف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن اسحاق بن ابي فروة، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " القاتل لا يرث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: عورت اپنے شوہر کی دیت اور مال دونوں میں وارث ہو گی، اور شوہر بیوی کی دیت اور مال میں وارث ہو گا، جب کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل نہ کیا ہو، لیکن جب ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ہو تو اس دیت اور مال سے کسی بھی چیز کا وارث نہیں ہو گا، اور اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو غلطی سے قتل کر دیا ہو تو اس کے مال سے تو وارث ہو گا، لیکن دیت سے وارث نہ ہو گا ۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الحسن بن صالح، عن محمد بن سعيد، - وقال محمد بن يحيى عن عمر بن سعيد، - عن عمرو بن شعيب، حدثني ابي، عن جدي عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يوم فتح مكة فقال " المراة ترث من دية زوجها وماله وهو يرث من ديتها ومالها ما لم يقتل احدهما صاحبه فاذا قتل احدهما صاحبه عمدا لم يرث من ديته وماله شييا وان قتل احدهما صاحبه خطا ورث من ماله ولم يرث من ديته
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو تیر مارا، جس سے وہ مر گیا، اور اس کا ماموں کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تھا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سارا قصہ لکھ بھیجا، جس کے جواب میں عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی مولیٰ نہیں اس کا مولیٰ اللہ اور اس کے رسول ہیں، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث اس کا ماموں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ابي ربيعة الزرقي، عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف الانصاري، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، ان رجلا، رمى رجلا بسهم فقتله وليس له وارث الا خال فكتب في ذلك ابو عبيدة بن الجراح الى عمر فكتب اليه عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الله ورسوله مولى من لا مولى له والخال وارث من لا وارث له
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ (جو اہل شام میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو شخص بوجھ ( قرض یا محتاج اہل و عیال ) چھوڑ جائے تو وہ ہمارے ذمہ ہے ، اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، جس کا کوئی وارث نہ ہو، اس کا وارث میں ہوں، میں ہی اس کی دیت دوں گا، اور میں ہی میراث لوں گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہی اس کی طرف سے دیت دے گا، اور وہی اس کا وارث بھی ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، ح وحدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، حدثني بديل بن ميسرة العقيلي، عن علي بن ابي طلحة، عن راشد بن سعد، عن ابي عامر الهوزني، عن المقدام ابي كريمة، - رجل من اهل الشام من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال - قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فالينا - وربما قال فالى الله والى رسوله - وانا وارث من لا وارث له اعقل عنه وارثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه