Loading...

Loading...
کتب
۳۴ احادیث
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سگے بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، علاتی کے نہیں، آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہو گا علاتی بھائیوں کا نہیں ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو بحر البكراوي، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي بن ابي طالب، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اعيان بني الام يتوارثون دون بني العلات يرث الرجل اخاه لابيه وامه دون اخوته لابيه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال کو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق ذوی الفروض ( میراث کے حصہ داروں ) میں تقسیم کرو، پھر جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کا ہو گا جو میت کا زیادہ قریبی ہو ۱؎۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقسموا المال بين اهل الفرايض على كتاب الله فما تركت الفرايض فلاولى رجل ذكر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عوسجة، عن ابن عباس، قال مات رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يدع له وارثا الا عبدا هو اعتقه فدفع النبي صلى الله عليه وسلم ميراثه اليه
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لاوارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا عمر بن روبة التغلبي، عن عبد الواحد بن عبد الله النصري، عن واثلة بن الاسقع، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المراة تحوز ثلاث مواريث عتيقها ولقيطها وولدها الذي لاعنت عليه " . قال محمد بن يزيد ما روى هذا الحديث غير هشام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے ( بچہ ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن موسى بن عبيدة، حدثني يحيى بن حرب، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال لما نزلت اية اللعان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة الحقت بقوم من ليس منهم فليست من الله في شىء ولن يدخلها جنته وايما رجل انكر ولده وقد عرفه احتجب الله منه يوم القيامة وفضحه على رءوس الاشهاد
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک ( دقیق ) ہو یہ بھی کفر ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " كفر بامري ادعاء نسب لا يعرفه او جحده وان دق
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن اليمان، عن المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عاهر امة او حرة فولده ولد زنا لا يرث ولا يورث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن بكار بن بلال الدمشقي، انبانا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل مستلحق استلحق بعد ابيه الذي يدعى له ادعاه ورثته من بعده فقضى ان من كان من امة يملكها يوم اصابها فقد لحق بمن استلحقه وليس له فيما قسم قبله من الميراث شىء وما ادرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه ولا يلحق اذا كان ابوه الذي يدعى له انكره وان كان من امة لا يملكها او من حرة عاهر بها فانه لا يلحق ولا يورث وان كان الذي يدعى له هو ادعاه فهو ولد زنا لاهل امه من كانوا حرة او امة " . قال محمد بن راشد يعني بذلك ما قسم في الجاهلية قبل الاسلام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء ( میراث ) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، وسفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الولاء وعن هبته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء ( میراث ) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الولاء وعن هبته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا عبد الله بن لهيعة، عن عقيل، انه سمع نافعا، يخبر عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما كان من ميراث قسم في الجاهلية فهو على قسمة الجاهلية وما كان من ميراث ادركه الاسلام فهو على قسمة الاسلام
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الربيع بن بدر، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استهل الصبي صلي عليه وورث
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن جابر بن عبد الله، والمسور بن مخرمة، قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرث الصبي حتى يستهل صارخا " . قال واستهلاله ان يبكي ويصيح او يعطس
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عبد العزيز بن عمر، عن عبد الله بن موهب، قال سمعت تميما الداري، يقول قلت يا رسول الله ما السنة في الرجل من اهل الكتاب يسلم على يدى الرجل قال " هو اولى الناس بمحياه ومماته