Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار، درہم، بکری اور اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي وابو معاوية ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، - قال ابو بكر وعبد الله بن نمير - عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة، قالت ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا شاة ولا بعيرا ولا اوصى بشىء
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کی وصیت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، میں نے کہا: پھر کیوں کر مسلمانوں کو وصیت کا حکم دیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب ( قرآن ) پر چلنے کی وصیت فرمائی ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: طلحہ بن مصرف کا بیان ہے کہ ہزیل بن شرحبیل نے کہا: بھلا ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کے وصی پر حکومت کر سکتے تھے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تو یہ حال تھا کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پاتے تو تابع دار اونٹنی کی طرح اپنی ناک میں ( اطاعت کی ) نکیل ڈال لیتے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مالك بن مغول، عن طلحة بن مصرف، قال قلت لعبد الله بن ابي اوفى اوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم بشىء قال لا . قلت فكيف امر المسلمين بالوصية قال اوصى بكتاب الله . قال مالك وقال طلحة بن مصرف قال الهزيل بن شرحبيل ابو بكر كان يتامر على وصي رسول الله صلى الله عليه وسلم ود ابو بكر انه وجد من رسول الله صلى الله عليه وسلم عهدا فخزم انفه بخزام
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب جب آپ کا سانس اٹک رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام وصیت یہ تھی: لوگو! نماز اور غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۔
حدثنا احمد بن المقدام، حدثنا المعتمر بن سليمان، سمعت ابي يحدث، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كانت عامة وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم حين حضرته الوفاة وهو يغرغر بنفسه " الصلاة وما ملكت ايمانكم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی: نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا ۱؎۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا محمد بن فضيل، عن مغيرة، عن ام موسى، عن علي بن ابي طالب، قال كان اخر كلام النبي صلى الله عليه وسلم " الصلاة وما ملكت ايمانكم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما حق امري مسلم ان يبيت ليلتين وله شىء يوصي فيه الا ووصيته مكتوبة عنده
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محروم وہ ہے جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا درست بن زياد، حدثنا يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المحروم من حرم وصيته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وصیت کر کے مرا، وہ راہ ( راہ راست ) پر اور سنت کے مطابق مرا، نیز پرہیزگاری اور شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا، اس کی مغفرت ہو گی ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن يزيد بن عوف، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مات على وصية مات على سبيل وسنة ومات على تقى وشهادة ومات مغفورا له
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس نہ ہو، جب کہ اس کے پاس وصیت کرنے کے لائق کوئی چیز ہو ۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا روح بن عوف، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم يبيت ليلتين وله شىء يوصي به الا ووصيته مكتوبة عنده
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کو میراث دلانے سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے جنت کی میراث نہ دے گا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن ابيه، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فر من ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے، پھر وصیت کے وقت اپنی وصیت میں ظلم کرتا ہے، تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور جہنم میں جاتا ہے، اسی طرح آدمی ستر سال تک برے اعمال کا ارتکاب کرتا رہتا ہے لیکن اپنی وصیت میں انصاف کرتا ہے، اس کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے، اور جنت میں جاتا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کریمہ: «تلك حدود الله» ( سورۃ النساء: ۱۳- ۱۴ ) کو پڑھو یعنی یہ حدود اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتیوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا عبد الرزاق بن همام، انبانا معمر، عن اشعث بن عبد الله، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرجل ليعمل بعمل اهل الخير سبعين سنة فاذا اوصى حاف في وصيته فيختم له بشر عمله فيدخل النار وان الرجل ليعمل بعمل اهل الشر سبعين سنة فيعدل في وصيته فيختم له بخير عمله فيدخل الجنة " . قال ابو هريرة واقرءوا ان شيتم {تلك حدود الله} الى قوله {عذاب مهين}
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے موت کے وقت اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے موافق وصیت کی تو یہ وصیت اس کی اس زکاۃ کا کفارہ ہو جائے گی جو اس نے اپنی زندگی میں ادا نہ کی ہو گی ۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية، عن ابي حلبس، عن خليد بن ابي خليد، عن معاوية بن قرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حضرته الوفاة فاوصى وكانت وصيته على كتاب الله كانت كفارة لما ترك من زكاته في حياته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے کہ لوگوں میں کس کے ساتھ حسن سلوک کا حق مجھ پر زیادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تمہارے والد کی قسم، تمہیں بتایا جائے گا، ( سب سے زیادہ حقدار ) تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: پھر تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں ہے ، اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ کہا: مجھے بتائیے کہ میں اپنا مال کس طرح صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ بھی تمہیں بتایا جائے گا، صدقہ اس حال میں کرو کہ تم تندرست ہو، مال کی حرص ہو، زندہ رہنے کی امید ہو، فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو، ایسا نہ کرو کہ تمہاری سانس یہاں آ جائے ( تم مرنے لگو ) تو اس وقت کہو: میرا یہ مال فلاں کے لیے اور یہ مال فلاں کے لیے ہے، اب تو یہ مال ورثاء کا ہے گرچہ تم نہ چاہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن عمارة بن القعقاع، وابن، شبرمة عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله نبيني باحق الناس مني بحسن الصحبة فقال " نعم وابيك لتنبان امك " . قال ثم من قال " ثم امك " . قال ثم من قال " ثم امك " . قال ثم من قال " ثم ابوك " . قال نبيني يا رسول الله عن مالي كيف اتصدق فيه قال " نعم والله لتنبان ان تصدق وانت صحيح شحيح تامل العيش وتخاف الفقر ولا تمهل حتى اذا بلغت نفسك هاهنا قلت مالي لفلان ومالي لفلان وهو لهم وان كرهت
بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر لعاب مبارک ڈالا، اور اس پر شہادت کی انگلی رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تم مجھے کس طرح عاجز کرتے ہو، حالانکہ میں نے تمہیں اسی جیسی چیز ( منی ) سے پیدا کیا ہے پھر جب تمہاری سانس یہاں پہنچ جاتی ہے، آپ نے اپنے حلق کی جانب اشارہ فرمایا تو کہتا ہے کہ میں صدقہ کرتا ہوں، اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حريز بن عثمان، حدثني عبد الرحمن بن ميسرة، عن جبير بن نفير، عن بسر بن جحاش القرشي، قال بزق النبي صلى الله عليه وسلم في كفه ثم وضع اصبعه السبابة وقال " يقول الله عز وجل انى تعجزني ابن ادم وقد خلقتك من مثل هذه فاذا بلغت نفسك هذه - واشار الى حلقه - قلت اتصدق وانى اوان الصدقة
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے، اور ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: نہیں ، میں نے کہا: پھر آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے کہا: تو ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے ، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جانا، انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، والحسين بن الحسن المروزي، وسهل، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال مرضت عام الفتح حتى اشفيت على الموت فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اى رسول الله ان لي مالا كثيرا وليس يرثني الا ابنتي افاتصدق بثلثى مالي قال " لا " . قلت فالشطر قال " لا " . قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تترك ورثتك اغنياء خير من ان تتركهم عالة يتكففون الناس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، ( یعنی وصیت کی اجازت دی ہے ) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن طلحة بن عمرو، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث اموالكم زيادة لكم في اعمالكم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! میں نے دو ایسی چیزیں عنایت کیں جن میں سے ایک پر بھی تمہارا حق نہیں تھا، میں جس وقت تمہاری سانس روکوں اس وقت تمہیں مال کے ایک حصہ ( یعنی تہائی مال کے صدقہ کرنے ) کا اختیار دیا، تاکہ اس کے ذریعے سے میں تمہیں پاک کروں اور تمہارا تزکیہ کروں، دوسری چیز تمہارے مرنے کے بعد میرے بندوں کا تم پر نماز ( جنازہ ) پڑھنا ۔
حدثنا صالح بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا مبارك بن حسان، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابن ادم اثنتان لم تكن لك واحدة منهما جعلت لك نصيبا من مالك حين اخذت بكظمك لاطهرك به وازكيك وصلاة عبادي عليك بعد انقضاء اجلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری تمنا ہے کہ لوگ تہائی مال کے بجائے چوتھائی مال میں وصیت کریں، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی حصہ بھی بڑا ہے یا زیادہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عباس، قال وددت ان الناس، غضوا من الثلث الى الربع لان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الثلث كبير - او كثير
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ اپنی سواری ( اونٹنی ) پر تھے، وہ جگالی کر رہی تھی، اور اس کا لعاب میرے مونڈھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ متعین کر دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ہے، جو شخص اپنے باپ دادا کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت کا دعویٰ کرے یا ( غلام ) اپنے مالک کے علاوہ دوسرے شخص کو مالک بنائے، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا نفل قبول ہو گا، نہ فرض یا یوں کہا کہ نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن عمرو بن خارجة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطبهم وهو على راحلته وان راحلته لتقصع بجرتها وان لغامها ليسيل بين كتفى قال " ان الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث فلا يجوز لوارث وصية الولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى الى غير ابيه او تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل " . او قال " عدل ولا صرف
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ حجۃ الوداع کے سال اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا شرحبيل بن مسلم الخولاني، سمعت ابا امامة الباهلي، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع " ان الله قد اعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے ( میت کے ترکہ میں ) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سعيد بن ابي سعيد، انه حدثه عن انس بن مالك، قال اني لتحت ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم يسيل على لعابها فسمعته يقول " ان الله قد اعطى كل ذي حق حقه الا لا وصية لوارث