Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ( کی ادائیگی ) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: «من بعد وصية يوصي بها أو دين» یہ حصے اس وصیت ( کی تکمیل ) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد ( سورۃ النساء: ۱۱ ) ۱؎ اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالدين قبل الوصية وانتم تقرءونها {من بعد وصية يوصي بها او دين } وان اعيان بني الام ليتوارثون دون بني العلات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ مال چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے وصیت نہیں کی ہے، کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں تو ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ان ابي مات وترك مالا ولم يوص فهل يكفر عنه ان تصدقت عنه قال " نعم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اور اس نے عرض کیا: میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا، اور وہ وصیت نہیں کر سکیں، میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات چیت کر پاتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، تو کیا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انہیں اور مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( ملے گا ) ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امي افتلتت نفسها ولم توص واني اظنها لو تكلمت لتصدقت فلها اجر ان تصدقت عنها ولي اجر فقال " نعم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ بھی نہیں اور نہ مال ہی ہے، البتہ میری پرورش میں ایک یتیم ہے جس کے پاس مال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے مال میں سے فضول خرچی کئے اور بغیر اپنے لیے پونجی بنائے کھاؤ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا مال بچانے کے لیے اس کا مال اپنے مصرف میں نہ خرچ کرو ۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا اجد شييا وليس لي مال ولي يتيم له مال قال " كل من مال يتيمك غير مسرف ولا متاثل مالا " . قال واحسبه قال " ولا تقي مالك بماله