Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو، چنانچہ ( پہلے دن ) جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ۱؎، پھر ان کو حکم دیا، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند، صاف اور چمکدار تھا ۲؎، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۳؎ غائب ہو گئی تو انہیں حکم دیا، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا ( یعنی تاخیر کی ) ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ، اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ۔
حدثنا محمد بن الصباح، واحمد بن سنان، قالا حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، انبانا سفيان، ح وحدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا مخلد بن يزيد، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن وقت الصلاة فقال " صل معنا هذين اليومين " . فلما زالت الشمس امر بلالا فاذن ثم امره فاقام الظهر ثم امره فاقام العصر والشمس مرتفعة بيضاء نقية ثم امره فاقام المغرب حين غابت الشمس ثم امره فاقام العشاء حين غاب الشفق ثم امره فاقام الفجر حين طلع الفجر فلما كان من اليوم الثاني امره فاذن الظهر فابرد بها وانعم ان يبرد بها ثم صلى العصر والشمس مرتفعة اخرها فوق الذي كان وصلى المغرب قبل ان يغيب الشفق وصلى العشاء بعدما ذهب ثلث الليل وصلى الفجر فاسفر بها ثم قال " اين السايل عن وقت الصلاة " . فقال الرجل انا يا رسول الله . قال " وقت صلاتكم بين ما رايتم
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کر دی تو ان سے عروہ نے کہا: سنیے! جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت فرمائی، تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو؟ اس پر عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے، اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔۔۔ وہ اپنی انگلیوں سے پانچوں نمازوں کو شمار کر رہے تھے
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، انه كان قاعدا على مياثر عمر بن عبد العزيز في امارته على المدينة ومعه عروة بن الزبير فاخر عمر العصر شييا فقال له عروة اما ان جبريل نزل فصلى امام رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال له عمر اعلم ما تقول يا عروة . قال سمعت بشير بن ابي مسعود يقول سمعت ابا مسعود يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نزل جبريل فامني فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه " . يحسب باصابعه خمس صلوات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كن نساء المومنات يصلين مع النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح ثم يرجعن الى اهلهن فلا يعرفهن احد . تعني من الغلس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ: «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ( سورة الإسراء: 78 ) کی تفسیر میں فرمایا: اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، حدثنا ابي، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الله، والاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم {وقران الفجر ان قران الفجر كان مشهودا} قال " تشهده ملايكة الليل والنهار
مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی نماز «غلس» ( آخر رات کی تاریکی ) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی کر دیا گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے «اسفار» ( اجالے ) میں پڑھنا شروع کر دیا۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا نهيك بن يريم الاوزاعي، حدثنا مغيث بن سمى، قال صليت مع عبد الله بن الزبير الصبح بغلس فلما سلم اقبلت على ابن عمر فقلت ما هذه الصلاة قال هذه صلاتنا كانت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر فلما طعن عمر اسفر بها عثمان
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح کو اچھی طرح روشن کر لیا کرو، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، سمع عاصم بن عمر بن قتادة، - وجده بدري - يخبر عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اصبحوا بالصبح فانه اعظم للاجر او لاجركم
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الظهر اذا دحضت الشمس
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز جس کو تم ظہر کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عوف بن ابي جميلة، عن سيار بن سلامة، عن ابي برزة الاسلمي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة الهجير التي تدعونها الظهر اذا دحضت الشمس
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب العبدي، عن خباب، قال شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حر الرمضاء فلم يشكنا . قال القطان حدثنا ابو حاتم، حدثنا الانصاري، حدثنا عوف، نحوه
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن زيد بن جبير، عن خشف بن مالك، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال شكونا الى النبي صلى الله عليه وسلم حر الرمضاء فلم يشكنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈی کر لو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو ظہر کو ٹھنڈا کر لیا کرو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اشتد الحر فابردوا بالظهر فان شدة الحر من فيح جهنم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابردوا بالظهر فان شدة الحر من فيح جهنم
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے ۔
حدثنا تميم بن المنتصر الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن بيان، عن قيس بن ابي حازم، عن المغيرة بن شعبة، قال كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر بالهاجرة فقال لنا " ابردوا بالصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو ۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمر، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابردوا بالظهر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا، چنانچہ ( نماز پڑھ کر ) کوئی شخص عوالی ۱؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس مرتفعة حية فيذهب الذاهب الى العوالي والشمس مرتفعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت صلى النبي صلى الله عليه وسلم العصر والشمس في حجرتي لم يظهرها الفىء بعد
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا: اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ ( عصر کی نماز ) کی ادائیگی سے باز رکھا ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن زر بن حبيش، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق " ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا كما شغلونا عن الصلاة الوسطى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے، گویا اس کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب لٹ گئے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الذي تفوته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ۔
حدثنا حفص بن عمرو، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، ح وحدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يزيد بن هارون، قالا حدثنا محمد بن طلحة، عن زبيد، عن مرة، عن عبد الله، قال حبس المشركون النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة العصر حتى غابت الشمس فقال " حبسونا عن صلاة الوسطى ملا الله قبورهم وبيوتهم نارا