Loading...

Loading...
کتب
۳۹ احادیث
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثنا ابو النجاشي، قال سمعت رافع بن خديج، يقول كنا نصلي المغرب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فينصرف احدنا وانه لينظر الى مواقع نبله . حدثنا ابو يحيى الزعفراني، حدثنا ابراهيم بن موسى، نحوه
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، انه كان يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم المغرب اذا توارت بالحجاب
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت ( دین اسلام ) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابراهيم بن موسى، انبانا عباد بن العوام، عن عمر بن ابراهيم، عن قتادة، عن الحسن، عن الاحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزال امتي على الفطرة ما لم يوخروا المغرب حتى تشتبك النجوم " . قال ابو عبد الله بن ماجه سمعت محمد بن يحيى يقول اضطرب الناس في هذا الحديث ببغداد فذهبت انا وابو بكر الاعين الى العوام بن عباد بن العوام فاخرج الينا اصل ابيه فاذا الحديث فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں انہیں عشاء کی نماز میں دیر کرنے کا حکم دیتا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لولا ان اشق على امتي لامرتهم بتاخير العشاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں عشاء کی نماز تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، وعبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان اشق على امتي لاخرت صلاة العشاء الى ثلث الليل او نصف الليل
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، قال سيل انس بن مالك هل اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما قال نعم اخر ليلة العشاء الاخرة الى قريب من شطر الليل فلما صلى اقبل علينا بوجهه فقال " ان الناس قد صلوا وناموا وانكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة " . قال انس كاني انظر الى وبيص خاتمه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر آدھی رات تک ( حجرہ سے ) باہر نہ آئے، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا: اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا ۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا داود بن ابي هند، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب ثم لم يخرج حتى ذهب شطر الليل فخرج فصلى بهم ثم قال " ان الناس قد صلوا وناموا وانتم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة ولولا الضعيف والسقيم احببت ان اوخر هذه الصلاة الى شطر الليل
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی، اس کا عمل برباد ہو گیا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ابي المهاجر، عن بريدة الاسلمي، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة فقال " بكروا بالصلاة في اليوم الغيم فانه من فاتته صلاة العصر حبط عمله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو نماز سے غافل ہو جائے، یا سو جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یاد آ جائے تو پڑھ لے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حجاج، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الرجل يغفل عن الصلاة او يرقد عنها قال " يصليها اذا ذكرها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے، تو جب یاد آئے پڑھ لے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب نیند آنے لگی تو رات کے آخری حصہ میں آرام کے لیے اتر گئے، اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: آج رات ہماری نگرانی کرو ، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ کو جتنی توفیق ہوئی اتنی دیر نماز پڑھتے رہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوتے رہے، جب فجر کا وقت قریب ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی جانب منہ کر کے اپنی سواری پر ٹیک لگا لی، اسی ٹیک لگانے کی حالت میں ان کی آنکھ لگ گئی، نہ تو وہ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اور کوئی، یہاں تک کہ انہیں دھوپ لگی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور گھبرا کر فرمایا: بلال! ، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس نے آپ کی جان کو روکے رکھا اسی نے میری جان کو روک لیا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے چلو ، صحابہ کرام اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «أقم الصلاة لذكري» نماز اس وقت قائم کرو جب یاد آ جائے ( سورة: طه: ۱۴ ) ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو «لذكري» کے بجائے «للذكرى» پڑھتے تھے ۲؎۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قفل من غزوة خيبر فسار ليلة حتى اذا ادركه الكرى عرس وقال لبلال " اكلا لنا الليل " . فصلى بلال ما قدر له ونام رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فلما تقارب الفجر استند بلال الى راحلته مواجه الفجر فغلبت بلالا عيناه وهو مستند الى راحلته فلم يستيقظ بلال ولا احد من اصحابه حتى ضربتهم الشمس فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اولهم استيقاظا ففزع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اى بلال " . فقال بلال اخذ بنفسي الذي اخذ بنفسك بابي انت وامي يا رسول الله . قال " اقتادوا " . فاقتادوا رواحلهم شييا ثم توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر بلالا فاقام الصلاة فصلى بهم الصبح فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة . قال " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها فان الله عز وجل قال {واقم الصلاة لذكري} " . قال وكان ابن شهاب يقروها {للذكرى}
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا: لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیند میں کوتاہی نہیں ہے، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے ۱؎۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا: نوجوان! ذرا غور کرو، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، قال ذكروا تفريطهم في النوم فقال ناموا حتى طلعت الشمس . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس في النوم تفريط انما التفريط في اليقظة فاذا نسي احدكم صلاة او نام عنها فليصلها اذا ذكرها ولوقتها من الغد " . قال عبد الله بن رباح فسمعني عمران بن الحصين، وانا احدث، بالحديث فقال يا فتى انظر كيف تحدث فاني شاهد للحديث مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فما انكر من حديثه شييا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج کے ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی، اس نے عصر کی نماز پا لی، اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر کی نماز پا لی ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، اخبرني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، وعن بسر بن سعيد، وعن الاعرج، يحدثونه عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من العصر ركعة قبل ان تغرب الشمس فقد ادركها ومن ادرك من الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادركها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے فجر کی نماز پا لی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی، اس نے عصر کی نماز پا لی ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، وحرملة بن يحيى المصريان، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادركها ومن ادرك من العصر ركعة قبل ان تغيب الشمس فقد ادركها " . حدثنا جميل بن الحسن، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكر نحوه
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء دیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے، اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وعبد الوهاب، قالوا حدثنا عوف، عن ابي المنهال، سيار بن سلامة عن ابي برزة الاسلمي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستحب ان يوخر العشاء وكان يكره النوم قبلها والحديث بعدها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے نہ سوئے، اور نہ اس کے بعد ( بلا ضرورت ) بات چیت کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو نعيم، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، قالا حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى الطايفي، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما نام رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل العشاء ولا سمر بعدها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد بات چیت پر ہماری مذمت فرمائی یعنی اس پر ہمیں جھڑکا اور ڈانٹا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب، وعلي بن المنذر، قالوا حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عطاء بن السايب، عن شقيق، عن عبد الله بن مسعود، قال جدب لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم السمر بعد العشاء . قال ابن ماجه يعني زجرنا عنه نهانا عنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعراب ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں، اس لیے کہ ( کتاب اللہ میں ) اس کا نام عشاء ہے، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي لبيد، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم فانها العشاء وانهم ليعتمون بالابل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعراب ( بدوی ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آ جائیں ، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے: اس کا نام «عشاء» ہے، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے «عتمه» کہتے ہیں ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن محمد بن عجلان، عن المقبري، عن ابي هريرة، ح وحدثنا يعقوب بن حميد، حدثنا ابن ابي حازم، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم - زاد ابن حرملة - فانما هي العشاء وانما يقولون العتمة لاعتامهم بالابل