Loading...

Loading...
کتب
۲۱ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن سلمة بن كهيل، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله ذصلى الله عليه وسلم باع المدبر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنا دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا، اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال دبر رجل منا غلاما ولم يكن له مال غيره فباعه النبي صلى الله عليه وسلم فاشتراه ابن النحام رجل من بني عدي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدبر غلام میت کے تہائی مال میں سے شمار ہو گا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے عثمان یعنی ابن ابی شیبہ کو کہتے سنا کہ یہ روایت یعنی «المدبر من الثلث» کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا علي بن ظبيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " المدبر من الثلث " . قال ابن ماجه سمعت عثمان - يعني ابن ابي شيبة - يقول هذا خطا يعني حديث " المدبر من الثلث " . قال ابو عبد الله ليس له اصل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مر جانے کے بعد آزاد ہو جائے گی ۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، حدثنا شريك، عن حسين بن عبد الله بن عبيد الله بن عباس، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما رجل ولدت امته منه فهي معتقة عن دبر منه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی ماں کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بچے ( ابراہیم ) نے اسے آزاد کر دیا ۔
حدثنا احمد بن يوسف، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابو بكر يعني النهشلي، عن الحسين بن عبد الله، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ذكرت ام ابراهيم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " اعتقها ولدها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لونڈیاں اور «امہات الاولاد» بیچا کرتے تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان زندہ تھے، اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول كنا نبيع سرارينا وامهات اولادنا والنبي صلى الله عليه وسلم فينا حى لا نرى بذلك باسا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مدد کرنا اللہ پر حق ہے، ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ کا غازی ہو، دوسرے وہ مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تیسرا وہ شخص جو پاک دامن رہنے کے ارادے سے نکاح کرے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة كلهم حق على الله عونه الغازي في سبيل الله والمكاتب الذي يريد الاداء والناكح الذي يريد التعفف
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے، تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک پورا ادا نہ کر دے ) ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن نمير، ومحمد بن فضيل، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما عبد كوتب على ماية اوقية فاداها الا عشر اوقيات فهو رقيق
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے پاس مکاتب غلام ہو، اور اس کے پاس اس قدر مال ہو گیا ہو کہ وہ اپنا بدل کتابت ادا کر سکے، تو تم لوگوں کو اس سے پردہ کرنا چاہیئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن نبهان، - مولى ام سلمة - عن ام سلمة، انها اخبرت عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا كان لاحداكن مكاتب وكان عنده ما يودي فلتحتجب منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان بريرة اتتها وهي مكاتبة قد كاتبها اهلها على تسع اواق فقالت لها ان شاء اهلك عددت لهم عدة واحدة وكان الولاء لي قال فاتت اهلها فذكرت ذلك لهم فابوا الا ان تشترط الولاء لهم فذكرت عايشة ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " افعلي " . قالت فقام النبي صلى الله عليه وسلم فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وان كان ماية شرط كتاب الله احق وشرط الله اوثق والولاء لمن اعتق
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں، اور احتیاط سے کام لیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو گا، اس کی ہر ہڈی اس کی ہر ہڈی کا فدیہ بنے گی، اور جو شخص دو مسلمان لونڈیوں کو آزاد کرے گا تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنیں گی، ان کی دو ہڈیاں اس کی ایک ہڈی کے برابر ہوں گی ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن شرحبيل بن السمط، قال قلت لكعب يا كعب بن مرة حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واحذر . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اعتق امرا مسلما كان فكاكه من النار يجزي بكل عظم منه عظم منه ومن اعتق امراتين مسلمتين كانتا فكاكه من النار يجزي بكل عظمين منهما عظم منه
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا غلام آزاد کرنا سب سے زیادہ بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کو سب سے زیادہ پسند ہو، اور جو قیمت کے اعتبار سے سب سے مہنگا ہو ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا ابو معاوية، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابي مراوح، عن ابي ذر، قال قلت يا رسول الله اى الرقاب افضل قال " انفسها عند اهلها واغلاها ثمنا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے ۔
حدثنا عقبة بن مكرم، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا محمد بن بكر البرساني، عن حماد بن سلمة، عن قتادة، وعاصم، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ملك ذا رحم محرم فهو حر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہے ۔
حدثنا راشد بن سعيد الرملي، وعبيد الله بن الجهم الانماطي، قالا حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ملك ذا رحم محرم فهو حر
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة ابي عبد الرحمن، قال اعتقتني ام سلمة واشترطت على ان اخدم النبي صلى الله عليه وسلم ما عاش
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی ( مشترک ) غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے پاس مال ہو تو اپنے مال سے اس کو مکمل آزاد کرائے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے باقی ماندہ قیمت کی ادائیگی کے لیے مزدوری کرائے، لیکن اس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، ومحمد بن بشر، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق نصيبا له في مملوك او شقصا فعليه خلاصه من ماله ان كان له مال فان لم يكن له مال استسعي العبد في قيمته غير مشقوق عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دے، تو کسی عادل شخص سے غلام کی قیمت لگوائی جائے گی، اور اس کے بقیہ شرکاء کے حصہ کی قیمت بھی اسے ادا کرنی ہو گی، بشرطیکہ اس کے پاس اس قدر مال ہو جتنی غلام کی قیمت ہے، اور اس طرح پورا غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ایسی صورت میں بس اسی قدر غلام آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کر دیا ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق شركا له في عبد اقيم عليه بقيمة عدل فاعطى شركاءه حصصهم ان كان له من المال ما يبلغ ثمنه وعتق عليه العبد والا فقد عتق منه ما عتق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کرے جس کے پاس مال ہو، وہ مال غلام ہی کا ہو گا، سوائے اس کے کہ مالک غلام سے اس کے مال کی شرط لگا لے تو وہ مال مالک کا ہو گا ۔ ابن لہیعہ کی روایت میں ( شرط کے بجائے ) «إلا أن يستثنيه السيد» ہے ( سوائے اس کے کہ مالک مال کا استثناء کر لے ) ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن ابي مريم، انبانا الليث بن سعد، جميعا عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن بكير بن الاشج، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق عبدا وله مال فمال العبد له الا ان يشترط السيد ماله فيكون له " . وقال ابن لهيعة الا ان يستثنيه السيد
عمیر مولی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: عمیر! میں نے تمہیں خوشی خوشی آزاد کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص ایک غلام آزاد کرے اور اس کے مال کا تذکرہ نہ کرے، تو وہ مال غلام کا ہو گا ، مجھے بتاؤ تمہارے پاس کیا مال ہے؟۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سعيد بن محمد الجرمي، حدثنا المطلب بن زياد، عن اسحاق بن ابراهيم، عن جده، عمير - وهو مولى ابن مسعود - ان عبد الله، قال له يا عمير اني اعتقك عتقا هنييا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما رجل اعتق غلاما ولم يسم ماله فالمال له " . فاخبرني ما مالك . حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا المطلب بن زياد، عن اسحاق بن ابراهيم، قال قال عبد الله بن مسعود لجدي فذكر نحوه
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ولد الزنا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوتیوں کی ایسی جوڑی جسے پہن کر جہاد کروں، وہ ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا اسراييل، عن زيد بن جبير، عن ابي يزيد الضني، عن ميمونة بنت سعد، - مولاة النبي صلى الله عليه وسلم - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن ولد الزنا فقال " نعلان اجاهد فيهما خير من ان اعتق ولد الزنا