احادیث
#2521
سنن ابن ماجہ - Manumission (of Slaves)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں جو مکاتب ( لونڈی ) تھیں، ان کے مالکوں نے نو اوقیہ پر ان سے مکاتبت کی تھی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہارا بدل مکاتبت میں ایک ہی بار ادا کروں، مگر تمہاری ولاء ( میراث ) میری ہو گی، چنانچہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس آئیں، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ ( پیش کش ) اس شرط پر منظور کر لی کہ ولاء ( میراث ) کا حق خود ان کو ملے گا، اس کا تذکرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کام کر ڈالو ، اور پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں میں خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: آخر لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں ہیں، اور ہر وہ شرط جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہ ہو باطل ہے، اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں، اللہ کی کتاب سب سے زیادہ حقدار اور اللہ تعالیٰ کی شرط سب سے زیادہ قوی ہے، ولاء اسی کا حق ہے جو ( مکاتب کی طرف سے مال ادا کر کے ) اسے آزاد کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان بريرة اتتها وهي مكاتبة قد كاتبها اهلها على تسع اواق فقالت لها ان شاء اهلك عددت لهم عدة واحدة وكان الولاء لي قال فاتت اهلها فذكرت ذلك لهم فابوا الا ان تشترط الولاء لهم فذكرت عايشة ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " افعلي " . قالت فقام النبي صلى الله عليه وسلم فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله كل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وان كان ماية شرط كتاب الله احق وشرط الله اوثق والولاء لمن اعتق
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Manumission (of Slaves)
- Hadith Index
- #2521
- Book Index
- 10
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
