Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا: پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابي المنهال، سمعت اياس بن عبد المزني، وراى، اناسا يبيعون الماء فقال لا تبيعوا الماء فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يباع الماء
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وابراهيم بن سعيد الجوهري، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فضل الماء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع احدكم فضل ماء ليمنع به الكلا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن حارثة، عن عمرة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنع فضل الماء ولا يمنع نقع البير
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، ( ان کے والد ) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر ( پانی روک کر ) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ( سورة النساء: 65 ) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الله بن الزبير، ان رجلا، من الانصار خاصم الزبير عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في شراج الحرة التي يسقون بها النخل فقال الانصاري سرح الماء يمر . فابى عليه فاختصما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسق يا زبير ثم ارسل الماء الى جارك " . فغضب الانصاري فقال يا رسول الله ان كان ابن عمتك فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا زبير اسق ثم احبس الماء حتى يرجع الى الجدر " . قال فقال الزبير والله اني لاحسب هذه الاية انزلت في ذلك {فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما}
ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب ( ترائی ) میں ہو ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا زكريا بن منظور بن ثعلبة بن ابي مالك، حدثني محمد بن عقبة بن ابي مالك، عن عمه، ثعلبة بن ابي مالك قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في سيل مهزور الاعلى فوق الاسفل يسقي الاعلى الى الكعبين ثم يرسل الى من هو اسفل منه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا المغيرة بن عبد الرحمن، حدثني ابي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في سيل مهزور ان يمسك حتى يبلغ الكعبين ثم يرسل الماء
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
حدثنا ابو المغلس، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، عن اسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في شرب النخل من السيل ان الاعلى فالاعلى يشرب قبل الاسفل ويترك الماء الى الكعبين ثم يرسل الماء الى الاسفل الذي يليه وكذلك حتى تنقضي الحوايط او يفنى الماء
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، انبانا ابو الجعد عبد الرحمن بن عبد الله، عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يبدا بالخيل يوم وردها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی ۔
حدثنا العباس بن جعفر، حدثنا موسى بن داود، حدثنا محمد بن مسلم الطايفي، عن عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل قسم قسم في الجاهلية فهو على ما قسم وكل قسم ادركه الاسلام فهو على قسم الاسلام
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ۱؎۔
حدثنا الوليد بن عمرو بن سكين، حدثنا محمد بن عبد الله بن المثنى، ح وحدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، قالا حدثنا اسماعيل المكي، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حفر بيرا فله اربعون ذراعا عطنا لماشيته
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہو گی ۔
حدثنا سهل بن ابي الصغدي، حدثنا منصور بن صقير، حدثنا ثابت بن محمد، عن نافع ابي غالب، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حريم البير مد رشايها
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري ابو المغلس، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني اسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في النخلة والنخلتين والثلاثة للرجل في النخل فيختلفون في حقوق ذلك فقضى ان لكل نخلة من اوليك من الارض مبلغ جريدها حريم لها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے درخت کی چوحدی اس کی ڈالیوں کی لمبائی کے برابر ہے ۔
حدثنا سهل بن ابي الصغدي، حدثنا منصور بن صقير، حدثنا ثابت بن محمد العبدي، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حريم النخلة مد جريدها
سعید بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی گھر یا غیر منقولہ جائیداد بیچے اور پھر ویسی ہی جائیداد اس کی قیمت سے نہ خریدے، تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں اس کو برکت نہ دی جائے ۱؎۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہو گی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وعمرو بن رافع، قالا حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا ابو مالك النخعي، عن يوسف بن ميمون، عن ابي عبيدة بن حذيفة، عن ابيه، حذيفة بن اليمان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من باع دارا ولم يجعل ثمنها في مثلها لم يبارك له فيها