Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو «سبحان اللہ»کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، انه لما سمع اكثار الناس، في كراء الارض قال سبحان الله انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا منحها احدكم اخاه " . ولم ينه عن كرايها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمنح احدكم اخاه ارضه خير له من ان ياخذ عليها كذا وكذا " . لشىء معلوم . وقال ابن عباس هو الحقل وهو بلسان الانصار المحاقلة
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن حنظلة بن قيس، قال سالت رافع بن خديج قال كنا نكري الارض على ان لك ما اخرجت هذه ولي ما اخرجت هذه فنهينا ان نكريها بما اخرجت ولم ننه ان نكري الارض بالورق
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو ؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني ابو النجاشي، انه سمع رافع بن خديج، يحدث عن عمه، ظهير قال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان لنا رافقا . فقلت ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو حق . فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصنعون بمحاقلكم " . قلنا نواجرها على الثلث والربع والاوسق من البر والشعير . فقال " فلا تفعلوا ازرعوها او ازرعوها
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پردے دیتا، اور تین شرطیں لگاتا کہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہو گی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک کام سے جو تمہارے لیے مفید تھا منع فرما دیا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اسے اپنے بھائی کو مفت ( بطور عطیہ ) دیدے، یا اسے خالی پڑی رہنے دے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، انبانا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن منصور، عن مجاهد، عن اسيد بن ظهير ابن اخي، رافع بن خديج عن رافع بن خديج، قال كان احدنا اذا استغنى عن ارضه، اعطاها بالثلث والربع والنصف واشترط ثلاثة جداول والقصارة وما سقى الربيع وكان العيش اذ ذاك شديدا وكان يعمل فيها بالحديد وبما شاء الله ويصيب منها منفعة فاتانا رافع بن خديج فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهاكم عن امر كان لكم نافعا وطاعة الله وطاعة رسوله انفع لكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهاكم عن الحقل ويقول " من استغنى عن ارضه فليمنحها اخاه او ليدع
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو ، رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، حدثني ابو عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر، عن الوليد بن ابي الوليد، عن عروة بن الزبير، قال قال زيد بن ثابت يغفر الله لرافع بن خديج انا والله، اعلم بالحديث منه انما اتى رجلان النبي صلى الله عليه وسلم وقد اقتتلا فقال " ان كان هذا شانكم فلا تكروا المزارع " . قال فسمع رافع بن خديج قوله " فلا تكروا المزارع
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو ( زمین بٹائی پر ) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، قال قلت لطاوس يا ابا عبد الرحمن لو تركت هذه المخابرة فانهم يزعمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنه . فقال اى عمرو اني اعينهم واعطيهم وان معاذ بن جبل اخذ الناس عليها عندنا وان اعلمهم - يعني ابن عباس - اخبرني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ينه عنها ولكن قال " لان يمنح احدكم اخاه خير له من ان ياخذ عليها اجرا معلوما
طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا عبد الوهاب، عن خالد، عن مجاهد، عن طاوس، ان معاذ بن جبل، اكرى الارض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان على الثلث والربع فهو يعمل به الى يومك هذا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے ۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، ومحمد بن اسماعيل، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، قال قال ابن عباس انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمنح احدكم اخاه الارض خير له من ان ياخذ لها خراجا معلوما
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن يعلى بن حكيم، عن سليمان بن يسار، عن رافع بن خديج، قال كنا نحاقل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فزعم ان بعض عمومته اتاهم فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فلا يكريها بطعام مسمى
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا ۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن عطاء، عن رافع بن خديج، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من زرع في ارض قوم بغير اذنهم فليس له من الزرع شىء وترد عليه نفقته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے پھل اور غلہ کی نصف پیداوار پر ( بٹائی کا ) معاملہ کیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، وسهل بن ابي سهل، واسحاق بن منصور، قالوا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عامل اهل خيبر بالشطر مما يخرج من ثمر او زرع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا هشيم، عن ابن ابي ليلى، عن الحكم بن عتيبة، عن مقسم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطى خيبر اهلها على النصف نخلها وارضها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، عن مسلم الاعور، عن انس بن مالك، قال لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر اعطاها على النصف
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا ، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے ) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن سماك، انه سمع موسى بن طلحة بن عبيد الله، يحدث عن ابيه، قال مررت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في نخل فراى قوما يلقحون النخل فقال " ما يصنع هولاء " . قالوا ياخذون من الذكر فيجعلونه في الانثى . قال " ما اظن ذاك يغني شييا " . فبلغهم فتركوه ونزلوا عنها فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انما هو ظن ان كان يغني شييا فاصنعوه فانما انا بشر مثلكم وان الظن يخطي ويصيب ولكن ما قلت لكم قال الله فلن اكذب على الله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا: یہ کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا: لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کریں تو بہتر ہو گا چنانچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہو گئی، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری دنیا کا جو کام ہو، اس کو تم جانو، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عفان، حدثنا حماد، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك، وهشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سمع اصواتا . فقال " ما هذا الصوت " . قالوا النخل يوبرونه فقال " لو لم يفعلوا لصلح " . فلم يوبروا عاميذ فصار شيصا فذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان كان شييا من امر دنياكم فشانكم به وان كان شييا من امور دينكم فالى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبد الله بن خراش بن حوشب الشيباني، عن العوام بن حوشب، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلمون شركاء في ثلاث في الماء والكلا والنار وثمنه حرام " . قال ابو سعيد يعني الماء الجاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن يزيد، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث لا يمنعن الماء والكلا والنار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی ۔
حدثنا عمار بن خالد الواسطي، حدثنا علي بن غراب، عن زهير بن مرزوق، عن علي بن زيد بن جدعان، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، انها قالت يا رسول الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال الماء والملح والنار " . قالت قلت يا رسول الله هذا الماء قد عرفناه فما بال الملح والنار قال " يا حميراء من اعطى نارا فكانما تصدق بجميع ما انضجت تلك النار ومن اعطى ملحا . فكانما تصدق بجميع ما طيب ذلك الملح ومن سقى مسلما شربة من ماء حيث يوجد الماء فكانما اعتق رقبة ومن سقى مسلما شربة من ماء حيث لا يوجد الماء فكانما احياها
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس نمک کو جو نمک سدمآرب کے نام سے جانا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور جاگیر طلب کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں جاگیر میں دے دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: میں زمانہ جاہلیت میں اس نمک کی کان پر سے گزر چکا ہوں، وہ ایسی زمین میں ہے جہاں پانی نہیں ہے، جو وہاں جاتا ہے، وہاں سے نمک لے جاتا ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے، جس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے نمک کی اس جاگیر کو فسخ کر دینے کو کہا، ابیض رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو اس شرط پر فسخ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے میری طرف سے صدقہ کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور وہ جاری پانی کے مثل ہے، جو آئے اس سے لے جائے ۔ فرج بن سعید کہتے ہیں: اور وہ آج تک ویسے ہی ہے، جو وہاں جاتا ہے اس میں سے نمک لے جاتاہے۔ ابیض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس جاگیر کے عوض جو آپ نے فسخ کر دی تھی «جرف» یعنی «جرف» مراد ( ایک مقام کا نام ہے ) میں زمین اور کھجور کے کچھ درخت جاگیر کے طور پر دیے۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا فرج بن سعيد بن علقمة بن سعيد بن ابيض بن حمال، حدثني عمي، ثابت بن سعيد بن ابيض بن حمال عن ابيه، سعيد عن ابيه، ابيض بن حمال . انه استقطع الملح الذي يقال له ملح سد مارب . فاقطعه له ثم ان الاقرع بن حابس التميمي اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني قد وردت الملح في الجاهلية وهو بارض ليس بها ماء ومن ورده اخذه وهو مثل الماء العد . فاستقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ابيض بن حمال في قطيعته في الملح . فقال قد اقلتك منه على ان تجعله مني صدقة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو منك صدقة وهو مثل الماء العد من ورده اخذه " . قال فرج وهو اليوم على ذلك من ورده اخذه . قال فقطع له النبي صلى الله عليه وسلم ارضا ونخلا بالجرف جرف مراد مكانه حين اقاله منه