Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لیے غلہ قرض پر خریدا، اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن ابراهيم، حدثني الاسود، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى من يهودي طعاما الى اجل وارهنه درعه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی، اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثني ابي، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، قال لقد رهن رسول الله صلى الله عليه وسلم درعه عند يهودي بالمدينة فاخذ لاهله منه شعيرا
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عبد الحميد بن بهرام، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم توفي ودرعه مرهونة عند يهودي بطعام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مات ودرعه رهن عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور پر سواری کی جائے گی جب وہ اس کے ذمہ گروی ہو، اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا جب وہ گروی ہو، اور جو سواری کرے یا دودھ پیئے اس جانور کی خوراک کا خرچ ہو گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن زكريا، عن الشعبي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الظهر يركب اذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب اذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويشرب نفقته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہن روکا نہیں جا سکتا ۱؎۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا ابراهيم بن المختار، عن اسحاق بن راشد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يغلق الرهن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا مدمقابل میں ہوں گا، اور جس کا میں قیامت کے دن مدمقابل ہوں گا اس پر غالب آؤں گا، ایک وہ جو مجھ سے عہد کرے پھر بدعہدی کرے، دوسرے وہ جو کسی آزاد کو پکڑ کر بیچ دے پھر اس کی قیمت کھائے، اور تیسرے وہ جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن امية، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة انا خصمهم يوم القيامة ومن كنت خصمه خصمته يوم القيامة رجل اعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فاكل ثمنه ورجل استاجر اجيرا فاستوفى منه ولم يوفه اجره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا وهب بن سعيد بن عطية السلمي، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطوا الاجير اجره قبل ان يجف عرقه
عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن مسلمة بن على، عن سعيد بن ابي ايوب، عن الحارث بن يزيد، عن على بن رباح، قال سمعت عتبة بن الندر، يقول كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرا طسم حتى اذا بلغ قصة موسى قال " ان موسى صلى الله عليه وسلم اجر نفسه ثماني سنين او عشرا على عفة فرجه وطعام بطنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری پرورش یتیمی کی حالت میں ہوئی، اور ہجرت کرنے کے وقت میں مسکین تھا، اور غزوان کی بیٹی کا صرف خوراک کی اور باری باری اونٹ پر چڑھنے کے عوض مزدور تھا، جب وہ لوگ ٹھہرتے تو میں ان کے لیے لکڑیاں چنتا، اور جب وہ سوار ہوتے تو میں ان کے اونٹوں کی حدی خوانی کرتا، تو شکر ہے اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا، اور ابوہریرہ کو امام بنایا۔
حدثنا ابو عمر، حفص بن عمرو حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سليم بن حيان، سمعت ابي يقول، سمعت ابا هريرة، يقول نشات يتيما وهاجرت مسكينا وكنت اجيرا لابنة غزوان بطعام بطني وعقبة رجلي احطب لهم اذا نزلوا واحدو لهم اذا ركبوا فالحمد لله الذي جعل الدين قواما وجعل ابا هريرة اماما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار بھوک لگی یہ خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو وہ کام کی تلاش میں نکلے جسے کر کے کچھ پائیں تو لے کر آئیں تاکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا سکیں، چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے، اور اس کے لیے سترہ ڈول پانی کھینچا، ہر ڈول ایک کھجور کے بدلے، یہودی نے ان کو اختیار دیا کہ وہ اس کی کھجوروں میں سے سترہ عجوہ کھجوریں چن لیں، وہ انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اصاب نبي الله صلى الله عليه وسلم خصاصة فبلغ ذلك عليا فخرج يلتمس عملا يصيب فيه شييا ليغيث به رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتى بستانا لرجل من اليهود فاستقى له سبعة عشر دلوا كل دلو بتمرة فخيره اليهودي من تمره سبع عشرة عجوة فجاء بها الى نبي الله صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، عن علي، قال كنت ادلو الدلو بتمرة واشترط انها جلدة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوک سے ، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عبد الله بن سعيد، عن جده، عن ابي هريرة، قال جاء رجل من الانصار فقال يا رسول الله ما لي ارى لونك منكفيا . قال " الخمص " . فانطلق الانصاري الى رحله فلم يجد في رحله شييا فخرج يطلب فاذا هو بيهودي يسقي نخلا فقال الانصاري لليهودي اسقي نخلك قال نعم . قال كل دلو بتمرة . واشترط الانصاري ان لا ياخذ خدرة ولا تارزة ولا حشفة ولا ياخذ الا جلدة . فاستقى بنحو من صاعين فجاء به الى النبي صلى الله عليه وسلم
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ بیع و مزابنہ سے منع کیا، اور فرمایا: کھیتی تین آدمی کریں: ایک وہ جس کی خود زمین ہو، وہ اپنی زمین میں کھیتی کرے، دوسرے وہ جس کو زمین ( ہبہ یا مستعار ) دی گئی ہو، تو وہ اس دی گئی زمین میں کھیتی کرے، تیسرے وہ جو سونا یا چاندی ( نقد ) دے کر زمین ٹھیکے پر لے لے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن طارق بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن رافع بن خديج، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة . وقال " انما يزرع ثلاثة رجل له ارض فهو يزرعها ورجل منح ارضا فهو يزرع ما منح ورجل استكرى ارضا بذهب او فضة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم مزارعت ( بٹائی کھیتی ) کیا کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو پھر ہم نے ان کے کہنے سے اسے چھوڑ دیا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، قال سمعت ابن عمر، يقول كنا نخابر ولا نرى بذلك باسا حتى سمعنا رافع بن خديج يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه . فتركناه لقوله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس زائد زمینیں تھیں، جنہیں وہ تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمینیں ہوں تو ان میں وہ یا تو خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے، اگر یہ دونوں نہ کرے تو اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني عطاء، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول كانت لرجال منا فضول ارضين يواجرونها على الثلث والربع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كانت له فضول ارضين فليزرعها او ليزرعها اخاه فان ابى فليمسك ارضه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو ( مفت ) دیدے، ورنہ اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا معاوية بن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او ليمنحها اخاه فان ابى فليمسك ارضه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر کھیتی کے لیے دیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک شخص آیا اور انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ والی حدیث کی خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ بلاط میں رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان زمینوں کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وابو اسامة ومحمد بن عبيد عن عبيد الله، - او قال عبد الله بن عمر - عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يكري ارضا له مزارعا فاتاه انسان فاخبره عن رافع بن خديج ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع فذهب ابن عمر وذهبت معه حتى اتاه بالبلاط فساله عن ذلك فاخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع فترك عبد الله كراءها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لیے دیدے، لیکن کرائے پر نہ دے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن ابن شوذب، عن مطر، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من كانت له ارض فليزرعها او ليزرعها ولا يواجرها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے منع کیا ہے، اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا مطرف بن عبد الله، حدثنا مالك، عن داود بن الحصين، عن ابي سفيان، - مولى ابن ابي احمد - انه اخبره انه، سمع ابا سعيد الخدري، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة . والمحاقلة استكراء الارض