Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يوسف بن محمد بن صيفي بن صهيب الخير، حدثني عبد الحميد بن زياد بن صيفي بن صهيب، عن شعيب بن عمرو، حدثنا صهيب الخير، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل يدين دينا وهو مجمع ان لا يوفيه اياه لقي الله سارقا " . حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا يوسف بن محمد بن صيفي، عن عبد الحميد بن زياد، عن ابيه، عن جده، صهيب عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا مال لے اور اس کو ہڑپ کرنا چاہتا ہو تو اس کو اللہ تباہ کر دے گا ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، - مولى ابن مطيع - عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اخذ اموال الناس يريد اتلافها اتلفه الله
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں غرور ( گھمنڈ ) خیانت اور قرض سے پاک ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ثوبان، - مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث دخل الجنة من الكبر والغلول والدين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے ۱؎۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نفس المومن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ کسی کا کوئی دینار یا درہم ہو تو ( قیامت میں ) جہاں دینار اور درہم نہیں ہو گا، اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن ثعلبة بن سواء، حدثنا عمي، محمد بن سواء عن حسين المعلم، عن مطر الوراق، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مات وعليه دينار او درهم قضي من حسناته ليس ثم دينار ولا درهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول اذا توفي المومن في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه الدين فيسال " هل ترك لدينه من قضاء " . فان قالوا نعم . صلى عليه وان قالوا لا . قال " صلوا على صاحبكم " . فلما فتح الله على رسوله الفتوح قال " انا اولى بالمومنين من انفسهم فمن توفي وعليه دين فعلى قضاوه ومن ترك مالا فهو لورثته
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك مالا فلورثته ومن ترك دينا او ضياعا فعلى والى وانا اولى بالمومنين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والاخرة
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن نفيع ابي داود، عن بريدة الاسلمي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من انظر معسرا كان له بكل يوم صدقة ومن انظره بعد حله كان له مثله في كل يوم صدقة
صحابی رسول ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے ( عرش کے ) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن معاوية، عن حنظلة بن قيس، عن ابي اليسر، صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب ان يظله الله في ظله - فلينظر معسرا او ليضع له
حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عمير، قال سمعت ربعي بن حراش، يحدث عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان رجلا مات فقيل له ما عملت - فاما ذكر او ذكر - قال اني كنت اتجوز في السكة والنقد وانظر المعسر . فغفر الله له " . قال ابو مسعود انا قد، سمعت هذا، من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی حق کا مطالبہ کرے تو شریفانہ طور پر کرے، خواہ وہ حق پورا پا سکے یا نہ پا سکے ۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن نافع، عن ابن عمر، وعايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من طلب حقا فليطلبه في عفاف واف او غير واف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا: شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المومل بن الصباح القيسي، حدثنا محمد بن محبب القرشي، حدثنا سعيد بن السايب الطايفي، عن عبد الله بن يامين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لصاحب الحق " خذ حقك في عفاف واف او غير واف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن، يحدث عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان خيركم - او من خيركم - احاسنكم قضاء
عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال و دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم بن عبد الله بن ابي ربيعة المخزومي، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم استسلف منه حين غزا حنينا ثلاثين او اربعين الفا فلما قدم قضاها اياه ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم " بارك الله لك في اهلك ومالك انما جزاء السلف الوفاء والحمد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اور کچھ ( نامناسب ) الفاظ کہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے ۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا معتمر بن سليمان، عن ابيه، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء رجل يطلب نبي الله صلى الله عليه وسلم بدين او بحق فتكلم ببعض الكلام فهم صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم به فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مه ان صاحب الدين له سلطان على صاحبه حتى يقضيه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کر دیجئیے ( یہ سن کر ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کر رہا ہے؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ کرام سے ) فرمایا: تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا، اور ان کو کہلوایا کہ اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لیے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آ جائیں، تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پاس ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرابی کا قرض ادا کر دیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کر دیا، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہو گی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے ۔
حدثنا ابراهيم بن عبد الله بن محمد بن عثمان ابو شيبة، حدثنا ابن ابي عبيدة، - اظنه قال - حدثنا ابي، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم يتقاضاه دينا كان عليه فاشتد عليه حتى قال له احرج عليك الا قضيتني . فانتهره اصحابه وقالوا ويحك تدري من تكلم قال اني اطلب حقي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هلا مع صاحب الحق كنتم " . ثم ارسل الى خولة بنت قيس فقال لها " ان كان عندك تمر فاقرضينا حتى ياتينا تمر فنقضيك " . فقالت نعم بابي انت يا رسول الله . قال فاقرضته فقضى الاعرابي واطعمه فقال اوفيت اوفى الله لك . فقال " اوليك خيار الناس انه لا قدست امة لا ياخذ الضعيف فيها حقه غير متعتع
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا ( عقوبت ) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے ۔ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا وبر بن ابي دليلة الطايفي، حدثني محمد بن ميمون بن مسيكة، - قال وكيع واثنى عليه خيرا - عن عمرو بن الشريد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لى الواجد يحل عرضه وعقوبته " . قال علي الطنافسي يعني عرضه شكايته وعقوبته سجنه
ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو ، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے ۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا الهرماس بن حبيب، عن ابيه، عن جده، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بغريم لي فقال لي " الزمه " . ثم مر بي اخر النهار فقال " ما فعل اسيرك يا اخا بني تميم
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے، اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو ، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا، تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو، جاؤ ان کا قرض ادا کرو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، ويحيى بن حكيم، قالا حدثنا عثمان بن عمر، انبانا يونس بن يزيد، عن الزهري، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، انه تقاضى ابن ابي حدرد دينا له عليه في المسجد حتى ارتفعت اصواتهما حتى سمعهما رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته فخرج اليهما فنادى كعبا فقال لبيك يا رسول الله قال " دع من دينك هذا " . واوما بيده الى الشطر فقال قد فعلت . قال " قم فاقضه