Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
قیس بن رومی کہتے ہیں کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ان کی تنخواہ ملنے تک کے لیے ایک ہزار درہم قرض دے رکھا تھا، جب ان کی تنخواہ ملی تو سلیمان نے ان سے اپنے قرض کا تقاضا کیا، اور ان پر سختی کی، تو علقمہ نے اسے ادا کر دیا، لیکن ایسا لگا کہ علقمہ ناراض ہیں، پھر کچھ مہینے گزرے تو پھر وہ سلیمان بن اذنان کے پاس آئے، اور کہا: میری تنخواہ ملنے تک مجھے ایک ہزار درہم کا پھر قرض دے دیجئیے، وہ بولے: ہاں، لے لو، یہ میرے لیے عزت کی بات ہے، اور ام عتبہ کو پکار کر کہا: وہ مہر بند تھیلی لے آؤ جو تمہارے پاس ہے، وہ اسے لے آئیں، تو انہوں نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم! یہ تو وہی درہم ہیں جو تم نے مجھے ادا کئے تھے، میں نے اس میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا ہے، علقمہ بولے: تمہارے باپ عظیم ہیں پھر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا؟ ۱؎ وہ بولے: اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے آپ سے سنی تھی، انہوں نے پوچھا: تم نے مجھ سے کیا سنا تھا؟ وہ بولے: میں نے آپ سے سنا تھا، آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو دوبار قرض دے، مگر اس کو ایک بار اتنے ہی مال کے صدقے کا ثواب ملے گا ، علقمہ نے کہا: ہاں، مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی خبر دی ہے۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا يعلى، حدثنا سليمان بن يسير، عن قيس بن رومي، قال كان سليمان بن اذنان يقرض علقمة الف درهم الى عطايه فلما خرج عطاوه تقاضاها منه واشتد عليه فقضاه فكان علقمة غضب فمكث اشهرا ثم اتاه فقال اقرضني الف درهم الى عطايي قال نعم وكرامة يا ام عتبة هلمي تلك الخريطة المختومة التي عندك . فجاءت بها فقال اما والله انها لدراهمك التي قضيتني ما حركت منها درهما واحدا . قال فلله ابوك ما حملك على ما فعلت بي . قال ما سمعت منك . قال ما سمعت مني قال سمعتك تذكر عن ابن مسعود ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم يقرض مسلما قرضا مرتين الا كان كصدقتها مرة " . قال كذلك انباني ابن مسعود
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: جبرائیل! کیا بات ہے؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے؟ تو کہا: اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو ۔
حدثنا عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا هشام بن خالد، حدثنا خالد بن يزيد بن ابي مالك، وحدثنا ابو حاتم، حدثنا هشام بن خالد، حدثنا خالد بن يزيد بن ابي مالك، عن ابيه، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت ليلة اسري بي على باب الجنة مكتوبا الصدقة بعشر امثالها والقرض بثمانية عشر . فقلت يا جبريل ما بال القرض افضل من الصدقة . قال لان السايل يسال وعنده والمستقرض لا يستقرض الا من حاجة
یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کو مال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني عتبة بن حميد الضبي، عن يحيى بن ابي اسحاق الهنايي، قال سالت انس بن مالك الرجل منا يقرض اخاه المال فيهدي له قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقرض احدكم قرضا فاهدى له او حمله على الدابة فلا يركبها ولا يقبله الا ان يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے، اور ( ترکہ میں ) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرني عبد الملك ابو جعفر، عن ابي نضرة، عن سعد بن الاطول، ان اخاه، مات وترك ثلاثماية درهم وترك عيالا فاردت ان انفقها على عياله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان اخاك محتبس بدينه فاقض عنه " . فقال يا رسول الله قد اديت عنه الا دينارين ادعتهما امراة وليس لها بينة . قال " فاعطها فانها محقة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد وفات پا گئے، اور اپنے اوپر ایک یہودی کے تیس وسق کھجور قرض چھوڑ گئے، جابر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے مہلت مانگی لیکن اس نے انہیں مہلت دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس سے اس کی سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے بات کی کہ وہ ان کھجوروں کو جو ان کے درخت پر ہیں اپنے قرض کے بدلہ لے لے، لیکن وہ نہیں مانا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ انہیں مہلت دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے پاس تشریف لے گئے، اور ان کے درمیان چلے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: ان کھجوروں کو توڑ کر اس کا جو قرض ہے اسے پورا پورا ادا کر دو ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس چلے جانے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ نے تیس وسق کھجور توڑی ( جس سے جابر رضی اللہ عنہ نے اس کا قرض چکایا ) اور بارہ وسق کھجور بچ بھی گئی، جابر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے آئے، لیکن آپ کو موجود نہیں پایا، جب آپ واپس تشریف لائے تو وہ پھر دوبارہ حاضر ہوئے، اور آپ کو بتایا کہ اس کا قرض پورا پورا ادا کر دیا ہے، اور جو زائد کھجور بچ گئی تھی اس کی بھی خبر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے عمر بن خطاب کو بھی بتا دو ، چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور انہیں بھی اس کی خبر دی، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کے درمیان چلے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان میں ضرور برکت دے گا ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا شعيب بن اسحاق، حدثنا هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، ان اباه، توفي وترك عليه ثلاثين وسقا لرجل من اليهود فاستنظره جابر بن عبد الله فابى ان ينظره فكلم جابر رسول الله صلى الله عليه وسلم ليشفع له اليه فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلم اليهودي لياخذ ثمر نخله بالذي له عليه فابى عليه فكلمه رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى ان ينظره فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم النخل فمشى فيها ثم قال لجابر " جد له فاوفه الذي له " . فجد له بعد ما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثين وسقا وفضل له اثنا عشر وسقا فجاء جابر رسول الله صلى الله عليه وسلم ليخبره بالذي كان فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم غايبا فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءه فاخبره انه قد اوفاه واخبره بالفضل الذي فضل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخبر بذلك عمر بن الخطاب " . فذهب جابر الى عمر فاخبره فقال له عمر لقد علمت حين مشى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ليباركن الله فيها
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض دار جب مقروض مر جائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لیے قرض لیا ہو، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑ جائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہو جائے، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مر جائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لیے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو، تیسرا وہ شخص، جو تجرد ( بغیر شادی کے رہنے ) سے اپنے نفس پر ڈرے، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کر دے گا ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، وعبد الرحمن المحاربي، وابو اسامة وجعفر بن عون عن ابن انعم، قال ابو كريب وحدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابن انعم، عن عمران بن عبد المعافري، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدين يقضى من صاحبه يوم القيامة اذا مات الا من يدين في ثلاث خلال الرجل تضعف قوته في سبيل الله فيستدين يتقوى به لعدو الله وعدوه ورجل يموت عنده مسلم لا يجد ما يكفنه ويواريه الا بدين ورجل خاف الله على نفسه العزبة فينكح خشية على دينه فان الله يقضي عن هولاء يوم القيامة