Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے صدقہ کو دے کر واپس نہ لو
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تعد في صدقتك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو صدقہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرتا ہے پھر لوٹ کر اس کو کھاتا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني ابو جعفر، محمد بن علي حدثني سعيد بن المسيب، حدثني عبد الله بن العباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل الذي يتصدق ثم يرجع في صدقته مثل الكلب يقيء ثم يرجع فياكل قييه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا صدقہ کیا، پھر دیکھا کہ اس کا مالک اس کو کم دام میں بیچ رہا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا صدقہ مت خریدو ۔
حدثنا تميم بن المنتصر الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن هشام بن عروة، عن عمر بن عبد الله بن عمر يعني، عن ابيه، عن جده، عمر انه تصدق بفرس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فابصر صاحبها يبيعها بكسر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن ذلك فقال " لا تبتع صدقتك
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن عبد الله بن عامر، عن الزبير بن العوام، انه حمل على فرس يقال له غمر او غمرة فراى مهرا او مهرة من افلايها يباع ينسب الى فرسه فنهى عنها
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہو گیا ( اب لونڈی کا حکم کیا ہو گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے ( تیرے صدقہ کا ) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني تصدقت على امي بجارية وانها ماتت . فقال " اجرك الله ورد عليك الميراث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مر گئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا عبيد الله، عن عبد الكريم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني اعطيت امي حديقة لي وانها ماتت ولم تترك وارثا غيري فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجبت صدقتك ورجعت اليك حديقتك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے ( یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو ) صدقہ کر دو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا معتمر بن سليمان، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال اصاب عمر بن الخطاب ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاستامره فقال يا رسول الله اني اصبت مالا بخيبر لم اصب مالا قط هو انفس عندي منه فما تامرني به فقال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . قال فعمل بها عمر على ان لا يباع اصلها ولا يوهب ولا يورث تصدق بها للفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف او يطعم صديقا غير متمول
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل زمین کو رہنے دو، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال عمر بن الخطاب يا رسول الله ان الماية سهم التي بخيبر لم اصب مالا قط هو احب الى منها وقد اردت ان اتصدق بها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احبس اصلها وسبل ثمرتها " . قال ابن ابي عمر فوجدت هذا الحديث في موضع اخر في كتابي عن سفيان عن عبد الله عن نافع عن ابن عمر قال قال عمر فذكر نحوه
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عاریت ( مانگی ہوئی چیز ) ادا کی جائے، اور جو جانور دودھ پینے کے لیے دیا جائے وہ لوٹا دیا جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا شرحبيل بن مسلم، قال سمعت ابا امامة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العارية موداة والمنحة مردودة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عاریت ( منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز ) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کر دیا جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، وعبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقيان، قالا حدثنا محمد بن شعيب، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العارية موداة والمنحة مردودة
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے ۔
حدثنا ابراهيم بن المستمر، حدثنا محمد بن عبد الله، ح وحدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابن ابي عدي، جميعا عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " على اليد ما اخذت حتى توديه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن الجهم الانماطي، حدثنا ايوب بن سويد، عن المثنى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اودع وديعة فلا ضمان عليه
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو اس سے انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، راوی کہتے ہیں: ( اس دعا کی برکت سے ) ان ( عروۃ ) کا حال یہ ہو گیا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں نفع کماتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن شبيب بن غرقدة، عن عروة البارقي، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاه دينارا يشتري له شاة فاشترى له شاتين فباع احداهما بدينار فاتى النبي صلى الله عليه وسلم بدينار وشاة فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبركة . قال فكان لو اشترى التراب لربح فيه . حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا سعيد بن زيد، عن الزبير بن الخريت، عن ابي لبيد، لمازة بن زبار عن عروة بن ابي الجعد البارقي، قال قدم جلب فاعطاني النبي صلى الله عليه وسلم دينارا فذكر نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ( قرض کی ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں کوئی کسی مالدار کی طرف تحویل کیا جائے، تو اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الظلم مطل الغني واذا اتبع احدكم على مليء فليتبع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تمہیں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اس کی حوالگی کو قبول کرو ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا هشيم، عن يونس بن عبيد، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مطل الغني ظلم واذا احلت على مليء فاتبعه
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ( قرض کا ) ضامن و کفیل ( اس کی ادائیگی کا ) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، والحسن بن عرفة، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني شرحبيل بن مسلم الخولاني، قال سمعت ابا امامة الباهلي، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الزعيم غارم والدين مقضي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک شخص ایک قرض دار کے پیچھے لگا رہا جس پر اس کا دس دینار قرض تھا، وہ کہہ رہا تھا: میرے پاس کچھ نہیں جو میں تجھے دوں، اور قرض خواہ کہہ رہا تھا: جب تک تم میرا قرض نہیں ادا کرو گے یا کوئی ضامن نہیں لاؤ گے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا، چنانچہ وہ اسے کھینچ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ سے پوچھا: تم اس کو کتنی مہلت دے سکتے ہو ؟ اس نے کہا: ایک مہینہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں اس کا ضامن ہوتا ہوں ، پھر قرض دار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دئیے ہوئے مقررہ وقت پر اپنا قرضہ لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے یہ کہاں سے ملا ؟ اس نے عرض کیا: ایک کان سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں بہتری نہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہوسلمد نے اسے اپنی جانب سے ادا کر دیا۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، لزم غريما له بعشرة دنانير على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما عندي شىء اعطيكه فقال لا والله لا افارقك حتى تقضيني او تاتيني بحميل فجره الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " كم تستنظره " . فقال شهرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانا احمل له " . فجاءه في الوقت الذي قال النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " من اين اصبت هذا " . قال من معدن قال " لا خير فيها " . وقضاها عنه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا ) اس لیے کہ وہ قرض دار ہے ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کے قرض کی ضمانت لیتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا ادا کرنا ہو گا ، انہوں نے کہا: جی ہاں، پورا ادا کروں گا، اس پر اٹھارہ یا انیس درہم قرض تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا شعبة، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، قال سمعت عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بجنازة ليصلي عليها فقال " صلوا على صاحبكم فان عليه دينا " . فقال ابو قتادة انا اتكفل به . قال النبي صلى الله عليه وسلم " بالوفاء " . قال بالوفاء . وكان الذي عليه ثمانية عشر او تسعة عشر درهما
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن زياد بن عمرو بن هند، عن ابن حذيفة، - هو عمران - عن ام المومنين، ميمونة قال كانت تدان دينا فقال لها بعض اهلها لا تفعلي وانكر ذلك عليها قالت بلى اني سمعت نبيي وخليلي صلى الله عليه وسلم يقول " ما من مسلم يدان دينا يعلم الله منه انه يريد اداءه الا اداه الله عنه في الدنيا
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، جب کہ وہ قرض ایسی چیز کے لیے نہ ہو جس کو اللہ ناپسند کرتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اپنے خازن سے کہتے کہ جاؤ میرے لیے قرض لے کر آؤ، اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی رات گزاروں اور اللہ تعالیٰ میرے ساتھ نہ ہو۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا سعيد بن سفيان، - مولى الاسلميين - عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله مع الداين حتى يقضي دينه ما لم يكن فيما يكره الله " . قال فكان عبد الله بن جعفر يقول لخازنه اذهب فخذ لي بدين فاني اكره ان ابيت ليلة الا والله معي بعد الذي سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم